|
سوال نمبر
10
حضور المسیح نے اپنی والدہ محترمہ سے مخاطب ہو کر کہا
کہ ’’اے عورت‘‘۔ کیا یہ ماں کی شان میں گُستاخی، توہین اور ماں کی بے
عِزتی نہیں؟(یوحنا19:26-27؛
اور یوحنا2:4)۔
اِس کی کیا وجہ ہے کہ آپ اپنی والدہ سے”
ماں
“کہہ
کر مخاطب نہیں ہوئےِ؟
جواب
’’عہدِ جدید یونانی زبان میں لکھا گیا اور یونا نی زبان
میں ’’اے عورت‘‘ کیلئے جو الفاظ مستعمل ہیں اُن کے معنیٰ ’’اے معزز
خاتون‘‘ کے ہیں۔
اِس کے اور زیادہ واضح معنی’’شادی شدہ عورت‘‘ ہیں اور
یہ ایسے الفاظ تھے جو اُس معاشرے میں اور اُس زمانے میں قابلِ قبول
تھے۔ کلامِ مُقدس کی تفسیر کیلئے ضروری ہے کہ جو بات جس زمانے میں لکھی
گئی ہو اُس وقت کے حالات اور معاشرے کا بھی مطالعہ کیا جائے۔ایسا کرنے
سے ہم بہت سی اغلاط کے خطرے سے بچ جائینگے۔ آپ جس ترجمہ کو پڑھ کر بات
کر رہے ہیں یہ اُردو ترجمہ ہے اور اِس معاشرے کیلئے ہے۔
سوال کا دوسرا حصہ بہت اہم ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیئے
کہ یسوع مسیح نے فرمایا تھا کہ میری ماں اور بہن بھائی وہ ہیں جو میرے
باپ کی مرضی پر چلتے ہیں۔پھر ایک اور مقام پر فرمایا کہ جو میری خاطر
اپنا سب کُچھ ترک نہ کر دے وہ میرے لائق نہیں(لوقا14باب)۔
یسوع نے اپنی زِندگی سےاپنے بھیجنے والی کی مرضی پوری کی۔لڑکپن میں ہی
مریم صدیقہ اورمقدس یوسف سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ
مجھے اپنے باپ کے کام میں لگے رہنا ضرور ہے؟یہ اُس وقت کی بات ہے کہ
جب آپ بارہ سال کی عمرِ عزیز میں اپنے والدین کے ساتھ یروشلیم عید
منانے گئے تھے اور مذہبی علما کیساتھ بحث کرنے لگ پڑے تھے اور اِسی سبب
سے پیچھے رہ گئے تھے۔
میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے اِس لئے بھی ’’ماں‘‘ کا لفظ
اِستعمال نہیں کیا کیونکہ آپ جسمانی رِشتے قائم کرنے کیلئے نہیں آئے
تھے بلکہ باپ کی مرضی پوری کرنے آئے تھے۔مسیحا مرد و زَن کے مِلاپ سے
ولادت نہیں پائے تھے۔آپ اِ س لیئے بھی ماں کہہ کر مخاطب نہیں ہوئے
کیونکہ اگر آپ ایسا کہتے تو ماں کی ممتا جاگ اُٹھتی اور مسیحا کا صلیب
پر قربان ہونا اور زیادہ کرب انگیز ہو جاتا۔خُداوند
ہم سب کوعقلِ سلیم عنایت فرمائے(آمین)۔
|