سوال نمبر 15

عصمت الانبیا یعنی انبیا کرام کے بے گناہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق آپ کیا کہیں گے کیونکہ میرے کئی دوست کہتے ہیں کہ انبیا معصوم ہوتے ہیں جبکہ کئی اس بیان کیساتھ متفق نہیں۔

جواب

میرے دوست اِس ضمن میں,  بندہ ناچیز تو کِسی بھی قسم کا فتویٰ دینے سے رہا کیونکہ خُدا نے انبیا کرام کو بڑا مقام بخشا اور اُنہیں بڑی قُدرت کیساتھ اپنے جلال و بزرگی کیلئے قوموں میں گواہی دینے کیلئے مستعمل فرمایا اور اُن کے وسیلہ سے کافی کام ہوا۔ میرے نزدیک انبیا کرام کی بہت بڑی شان ہے اور میں اُن کی دِ ل سے عِزت کرتا ہوں۔ اُن کے وسیلہ سے کلامِ خُدا بنی نوع اِنسان تک پہنچا۔ البتہ میں وہ بیان کرتا اور اُس  کے حوالہ جات بھی بیان کرتا ہوں  جو تورات شریف، زبور شریف، اور صحائف الانبیا میں لکھا ہوا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ میں اِنجیل شریف سے بھی مدد لینا اپنی خوش بختی سمجھوں گا۔ میں صرف اُن انبیا کے بارے میں ہی بات کروں گا جن کا ذکرِ خیر پاک نوشتوں میں موجود ہے۔اِس حقیقت کے بھی نہ بھولیں کہ بائبل مقدس نے کسی کے بھی گناہ کو چھپا کر نہیں رکھا جب کہ دوسری طرف اِنسان کی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ اُس کی خوبیوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔

تورات شریف میں لکھا ہے کہ حضرتِ آدم و حوا نے نافرمانی کی اور یوں  اُنہیں باغِ عدن سے باہر نِکال دیا گیا(پیدائش 3باب)۔حضرتِ ہابیل کو اُن ہی کے بھائی حضرتِ قابیل نے قتل کر دیا(پیدائش 4باب)۔حضرتِ نوح نے مے نوشی کی اور حواس گنوا بیٹھے(پیدائش 9:20-29)۔ حضرتِ لُوط نے بھی مَے پی کر ایسی حرکت کی جو کوئی بھی معاشرہ قبول نہیں کرے گا(19:29-38)۔ حضرتِ ابرہام نے خُدا کے وعدے پر یقین نہ کرتے ہوئے حضرتِ حاجرہ سے رِشتہ جوڑا جو خُدا کی مرضی کے برخلاف تھا۔ اِس کے علاوہ وہ اپنی بیوی کو بہن بھی کہہ بیٹھے تھے(پیدائش12:14-20)۔ حضرتِ موسی نے قتل کیا(خروج2:12) اور چٹان کو مارنے کےسبب سے خُدا کی نافرمانی کی(گنتی 20:11-12)۔حضرتِ ایوب اپنے جنم دِن پر لعنت کرتے ہیں(ایوب 3:1-19)۔حضرتِ دائود نے قتل کروایا اور مقتول کی بیوی سے بدی کرنے کے بعد اُس سے شادہ کر لی (2سیموئیل11)۔حضرتِ یسعیاہ اِقرار کرتے ہیں کہ  میرے ہونٹ ناپاک ہیں(یسعیاہ 6باب)اور اِس طرح کی کئی اور مثالیں بھی ہمیں کلامِ مُقدَس میں مِلتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ یہ باتیں میری نہیں ہیں بلکہ  کتابِ مقدّس کا مطالعہ کریں تو آپ کو خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ اِس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر شخص آدم و حوا کی اولاد ہونے کے اعتبار سے  پاک اور بے گناہ اور بے عیب نہیں ہے(رومیوں 3:10؛ اور پھر 3:23)۔ اِنسان کمزور ہے اور وہ کامل نہیں ہے۔ انبیاکرام بھی ہماری ہی طرح اِنسان تھے مگر خُدا نے اُنہیں بڑی خاص خِدمت کیلئے چُن لیا تھا۔ دُعا ہے کہ خُداوند ہمیں ان حقائق کے سمجھنے کا فضل بخشے(آمین)۔

کیا یسوع صلیب پرمرگیا؟


 

 
     

Home | About Us | Vision & Mission | Courses Available | What We Believe | Testimonies | Photo Gallery | Contact Us

Copyright © 2009, NEW LIFE INSTITUTE. All rights reserved.