|
سوال نمبر19
سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے اور نہ تو اُس سے
کوئی پیدا ہوا اور نہ ہی وہ خود کسی سے پید اہوا ہے اور نہ ہی اُس کا
کوئی شریک ہے۔ مسیحی تعلیمات کے مطابق خُدا باپ ہے اور پھر اُس کا بیٹا
بھی ہے جس کا نام مسیحِ ابنِ مریم ہے۔ کیا یہ حقیقت ہے کہ حضور المسیح
اِبنِ خُدا ہیں؟ اگر وہ ہیں تو کیسے اور اگر نہیں ہیں تو کیسے ؟جواب کی
وضاحت فرمائیں؟
جواب
یہ بھی ایک ایسا ہی سوا ل ہے جو میرے ایک مسلمان دوست
نے پوچھا اور میرے دوست اکثر اِس سوال کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں۔اِس
کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسیحی لوگ حضرتِ عیسی ٰ کو
جسمانی اعتبار سے خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔اس کیلئے وہ دلیل قرآنِ حکیم کی‘‘
سورۃ نمبر112الاخلاص’’سے
دیتے ہیں۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ عرب قبل از اسلام بُتانِ عرب کی
پوجا کیا کرتے تھے اور لات ، منات اور عُزیٰ جو کئی بُتوں میں سے تین
بُت تھے اُن کو اللہ کے بیٹوں سے منسوب کیا کرتے تھے۔یہاں تک کہ کئی
لوگ فرشتوں کو بھی اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں مانا کرتے تھے۔ جب اِسلام
آیا تو اُس نے اِس تعلیم کی نفی کی اور میں اِس لحاظ سے اِسلامی تعلیم
سے متفق ہوںکہ خُدا کا جسمانی طور پر کوئی بیٹا یا بیٹی نہیں۔ اور نہ
ہی خُدا جسمانی اعتبار سے باپ ہے۔
حضور المسیح کلمتہ اللہ ہونے کے اعتبار سے روحانی طور
پر خُدا کے بیٹے ہیں۔ اِن کی ولادت میں کسی بھی مرد کا کوئی ہاتھ نہیں
ہے۔آپ روح القدس کی تحریک یعنی خُدا کی قدرت ے پیدا ہوئے۔آپ جیسی ولادت
کسی دوسرے کی نہیں ہوئی۔ خُدا بذاتِ خود آپ کے حق میں فرماتا ہے کہ یہ
میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں(متی
3:27)۔یہ
اُن کئی حوالہ جات میں سے ایک ہے جن میں خُدا بذاتِ خود یسوع مسیح کو
’’بیٹا ‘‘ کہہ کر پکارتا ہے۔
میں نے اپنے دوست سے کہا کہ یسوع مسیح جسمانی معنوں
میں ابنِ خُدا نہیں۔لفظ بیٹا کے معنیٰ نِکلا ہو کے ہیں۔چونکہ مسیح
کلمتہ اللہ ہیں اور کلامِ خُدا ہونے کی حیثیت سے وہ ازل سے خُدا کے
ساتھ ہیں اور اُن ہی کے وسیلہ سے یہ عالم وجود میں آئے۔(پیداش
1:3اور
یوحنا
1:3)
المسیح کلامِ خُدا ہونے کے سبب سے مجسَم ہو کر اِس دُنیا میں تشریف
لائے۔جیسے حجاجِ کرام کو فرزندانِ توحید کہا جاتاہے یا جس طرح آپ میری
بیٹی کو بیٹی کہہ کر پکارتے ہیں اور جس طرح اُمّ الکتاب اور مادرِ
مِلّت ہیں اور جس طرح ابوہریرہ اور اُمّ المومنین ہیں اِسی طرح روحانی
اعتبار سے یسوع مسیح ابنِ خُدا ہیں۔
لیکن ایک حقیقت یاد رکھیں کہ خُدا نے اِن میں سے کِسی
کیلئے مندرجہ بالا کلمات اِستعمال نہیں کئے کہ تُو میرا پیارا بیٹا
ہے۔یہ الفاظ صرف اور صرف یسوع مسِیح کیلئے ہی استعمال ہوئے ہیں۔یہ بھی
یاد رکھیں کہ صرف یسوع مسیح ہی کے بارے میں کُتبِ سماویہ یہ دعویٰ کرتی
ہیں کہ وہ بے گناہ اور معصوم ہیں اور یہی بات اُنہیں دوسرے انسانوں سے
منفرد ٹھہراتی ہے۔حرفِ آخر یہی ہے کہ المسیح جسمانی پہلو کے اعتبار سے
قطعی نہیں بلکہ روحانی پہلو کے اعتبار سے خُدا کے بیٹے ہیں۔اِس سوال
کے جواب کو مزید بہتر طور پر جاننے کیلئے میری ایک کتاب بنام ’’حضور
المسیح خُدا کا بیٹا نعوذ باللہ‘‘ کا مطالعہ کریں۔میرا ایمان ہے کہ اُس
گولی سے آپ کو ضرور ہی فرق پڑ جائے گا۔یاد رہے کہ خُدا نے بنی اسرائیل
کے بارے میں بھی فرمایا کہ ’’اسرائیل میرا پہلوٹھا‘‘ ہے۔اِس کے یہ
معنیٰ ہر گِز نہیں کہ جیسے یسوع مسیح ابنِ خُدا ہیں ویسے ہی ’’بنی
اسرائیل‘‘ بھی ہیں۔مگر دُنیا کی سب قوموں میں چُنائو کے اعتبار سے
خُدا نے اُن کے حق میں یہ گواہی دی کہ ’’اسرائیل میرا پہلوٹھا‘‘ ہے۔
میری دُعا ہے کہ خُدا کرے کہ اِس مضمون کو اچھی طرح سے سمجھ جائیں۔ (آمین)۔
|