|
سوال
نمبر20
اگر حضور المسیح بِن جسمانی باپ کے پیدا ہوئے جس سبب سے
مسیحی اُنہیں خُدا کا بیٹا کہتے ہیں تو پھر حضرتِ آدم و حوا کے بارے
میں کیا خیا ل ہے کیونکہ نہ ہی اُن کا باپ تھا اور نہ ہی اُن کی ماں
تھی؟۔
جواب
یہ بھی ایک ایسا سوال ہے جس کے بارے میں ہمارے مُسلمان
دوست ہم سے اکثر یہ بات پوچھتے ہیں۔ میرے دوست! میں کب یہ کہتا ہوں کہ
چونکہ یسوع مسیح بِن باپ کے خُدا کی قدرت سے پیدا ہوئے اِس لئے وہ اِبنِ
خُدا ہیں۔ آپ کے خُدا کا بیٹا ہونے کے پیچھے کئی اور پہلو بھی ہیں اور
اُنہیں بالائے طاق نہیں رکھا جا سکتا۔میں نے مندرجہ بالا سوال کےجواب
میں جو کُچھ کہا ہے اُس کی پھر سے نظر ثانی کریں۔یہاں پر میں صرف اِسی
سوال کا جواب دینا چاہوں گا جو پوچھا جا رہا ہے۔
یاد رکھیں کہ حضرتِ آدم کا اور حضور اَلمسیح کا موازنہ
کسی بھی صورت میں نہیں کیا جا سکتا۔اِنجیلِ مُقدّس کو بنیاد بناتے ہوئے
اِس سوال کی وضاحت میں چند وجوہات ذیل میں پیش کرتا ہوں۔
1.
حضرتِ آدم زمین کی خاک سے پید اہوئے یسوع مسیح خُدا کا
روح اور کلام ہیں(پیدائش
2:7)۔
2.
حضرتِ آدم زمینی تھے جبکہ یسوع مسیح آسمانی ہیں)پیدائش
3:19;
یوحنا
1:1-2)۔
3.
حضرتِ آدم کو خُدا نے اپنے ہاتھوں سے بنایا جبکہ یسوع
مسیح ہر شے کے وجود میں آنے کا وسیلہ ہیں (پیدائش1:26-28)۔
4.
حضرتِ آدم کا اختیار محدود تھا جبکہ یسوع مسیح کے پاس
آسمان و زمین کا کُل اختیار تھا( پیدائش18:28;
2:15اور
متی
28:18)۔
5.
حضرتِ آدم نے خُدا کی حکم عدولی کی جبکہ مسیح یسوع عمر
بھر کامل فرمانبردار رہے)
رومیوں
5:19)۔
6.
حضرتِ آدم کے وسیلہ سے گناہ دُنیا میں آیا جبکہ مسیح
گناہ کا علاج بن کر آئے(پیدائش
3:15رومیوں
5:12)۔
7.
حضرتِ آدم کے وسیلہ سے دُنیا میں موت راج کرنے لگی جبکہ
مسیح کے وسیلہ سے زِندگی آ گئی(یوحنا5:12-21)۔
8.
حضرتِ آدم کے وسیلہ سے فردوس کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند
ہو گئے جبکہ مسیحا نے صلیب کی
کُنجی لگا کر گنہگار اِنسان کیلئے فردوس کے دروازے ہمیشہ کیلئے کھول
دیئے(یوحنا1:29)۔
9. حضرتِ
آدم کے وسیلہ سے ہم اپنے ابدی مقام سے گر گئے جبکہ مسیح کے وسیلہ سے ہم
اُس مقام پر پھر سے بحال کئے گئے(2کرنتھیوں
5:17-21)۔
10.
حضرتِ آدم کی عدالت ہو گی جبکہ مسیح خود عدالت کرنے
والے ہیں(اعمال17:31
یوحنا
5:22, 27)۔
11.
حضرتِ آدم کو موت آئی اور ہ مر گئے اور آج تک مرے ہی
ہوئے ہیں جبکہ یسوع مسیح مر گئے اور پھر
جی
اُٹھے اور آج بھی زِندہ ہیں۔(پیدائش
5:5؛
مکاشفہ
1:17-18)۔
12.
حضرتِ آدم اپنی موت خود مر گئے جبکہ مسیح یسوع دوسروں
کیلئے مر گئے(1کرنتھیوں
15:1-4)۔
قِصّہ المختصر یہ کہ یسوع مسیح پھر سے بادلوں پر آنے
والے ہیں۔ یہاں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کا میں نے ذکر نہیں
کیا۔سمجھدار اور محققین کیلئے یہ چند باتیں ہی بہت ہیں تاکہ اُن کی
مناسب طور پر مدد ہو سکے کہ وہ جانیں کہ حضرتِ آدم و حوا اور حضور
المسیح میں کیا فرق ہے۔ یہ محاورہ مشہور ہے کہ عقلمند کیلئے اِشارہ ہی
کافی ہوتا ہے۔میری دُعا ہے کہ پروردِگار آپ کو تعصّب کی عینک اُتار
کرتحقیق کرنے کا بھاری فضل بخشے(آمین)۔ یسوع
کا قبرمیں تین دن اوررات رہنا ثابت کریں؟
|