|
سوال نمبر
22
ایک مسیحی بزرگ کا سوال ہے کہ خداوند یسوع مسیح
کیلئے‘‘حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام’’ کے الفاظ استعمال کر سکتے ہیں کہ
نہیں؟ برائہ کرم مزکورہ سوال کے جواب کو وضاحت کیساتھ پیش کیا جائے۔
جواب
یہ ایسا سوال ہے جو صرف اِن بزرگوں کا ہی نہیں بلکہ
اکثر سیمینارز میں لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں اور فون پر بھی یا شخصی طور
پر بھی بات کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو لفظ‘‘یسوع’’ کے معنیٰ ہیں وہی
لفظ‘‘عیسیٰ’’ کے بھی معنیٰ ہیں یعنی‘‘نجات دہندہ’’۔آپ فیروز لغات کی
وَرق گردانی کر سکتے ہیں۔بُنیادی طور پر یہ دونوں نام ایک ہی شخصیت کو
پیش کرتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان کے بارے میں تعلیمات ایک دوسرے سے
میل نہیں کھاتیں۔
کسی بھی غیر مسیحی دوست سے بات کرتے ہوئےمیں وہ
اِصطلاحات استعمال کرتا ہوں جو اُس کیلئے عام فہم ہوں۔مثلاً جس علاقے
میں میری پیدائش ہوئی وہاں کے لوگ ‘‘یسوع مسیح’’ کو نہیں جانتے ۔وہاں
کے لوگ‘‘حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام ’’ کو جانتے ہیں۔اب اگر آپ وہاں جا کر
خوشخبری سُنانا چاہیں تو کیسے سُنائینگے؟اگرآپ مچھلی پکڑنے جائیں تو
کیا آپ کُنڈی کے آگے چاکلیٹ لگائیں گے کیونکہ یہ آپ کو پسند ہے یا وہ
کیڑا لگائیں گے جو مچھلی کو پسند ہے حالانکہ آپ کو اُس سے کراہت
ہے۔؟جواب واضح ہے کہ آپ کا مقصد مچھلی پکڑنا ہے لہٰذا آپ کُنڈی کے آگے
کیڑا ہی لگائیں گےکیونکہ مچھلی کو چاکلیٹ سے کوئی سروکار نہیں۔
میرے کہنے کا مقصد یہ ہےکہ اگر آپ ‘‘حضرتِ عیسیٰ علیہ
السلام’’کی اِصطلاح اِستعمال نہیں کرنا چاہتے تو وہ یسوع مسیح کی
اِصطلاح سُننا نہیں چاہتے۔ہمارا کام دروازے بند کرنا نہیں بلکہ کھولنا
ہے۔فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے کہ اِس صورت میں آپ کیا کرنا چاہیں گےِ۔
میں یہاں پر آپ کوایک حل بتاتا ہوں۔پولس رسُول فرماتے
ہیں کہ میں مسیح کی خاطر سب کیلئے سب کُچھ بنا تاکہ اُنہیں مسیح تک
کھینچ لائوں۔اِس کا یہ مطلب ہر گِز نہیں کہ پولس رسُول نے ایمان کے
اعتبار سے یہودیوں اور غیر قوموں کیساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا بلکہ
خوشخبری پیش کرنے میں ہر وہ بات جو پولس رسول کو لوگوں سے دُور لے جا
رہی تھی آپ نے ہر اُس بات کو ایک طرف کر دیا۔
چونکہ آپ نے جواب کی وضاحت مانگی اِس لئے میں یہاں پر
کُچھ مزید کہنے کی اجازت چاہوں گا۔
میں ذاتی طور پر یسوع مسیح کیلئے‘‘علیہ السلام’’ کی
اصطلاح اِستعمال نہیں کروں گا کیونکہ اِس کے معنیٰ ہیں کہ ’’آپ پر
سلامتی ہو’’اور یسوع مسیح کو ہمارے دُعائوں کی قطعاً ضرورت نہیں۔ میں
لفظ ‘‘عیسیٰ’’ اِستعمال کر لوں گا اور وہ بھی شروع شروع میں کسی غیر
مسیحی کیساتھ دورانِ گفتگو ایسا کرونگا لیکن تاحیات یہی اِصطلاح
اِستعمال نہیں کروں گا۔ میں ذاتی طور پر’’مسیحِ اِبنِ مریم’’،‘‘ حضور
المسیح’’،‘‘ربنا المسیح’’اور ‘‘عیسیٰ المسیح’’ کی اصطلاحات اِستعمال
کرتا ہوں۔یسوع مسیح پر‘‘عیسیٰ علیہ السلام’’ کہ کر سلامتی بھیجنے کی
ضرورت نہیں۔کیونکہ وہ خود سلامتی بن کر آئے اور آپ نے کہیں بھی یہ نہیں
کہا کہ تُم میرے لئے سلامتی کی دُعا کرو۔
لفظ ‘‘عیسیٰ المسیح’’ کی وجہ سے آپ ٹھوکر نہ کھائیں
کیونکہ ‘‘عیسیٰ’’ لفظ کے معنی بھی‘‘ نجات دہندہ’’ ہی کے ہیں۔ فیروز
الغات ضرور دیکھیں۔
حرفِ آخر کے طور پر یہ کہوں گا کہ اچھا ہو گا کہ کسی
مسلمان دوست کیساتھ اِبتدائی چند مُلاقاتوں میں’’مسیحِ اِبنِ مریم’’،‘‘
حضور المسیح’’،‘‘رَبنا اَلمسیح’’اور ‘‘عیسیٰ المسیح’’ کی اِصطلاحات
اِستعمال کریں اور ‘‘علیہ السلام’’ استعمال نہ کریں۔ ماسوا یسوع مسیح
کے باقی سب کیساتھ آپ چاہیں تو’’علیہ السلام‘‘ کی اِصطلاح اِستعمال کر
سکتے ہیں اور یہ اُن کی ضرورت بھی ہے۔
اِنجیلِ مُقدس میں جس یسُوع مسیح کا تذکرہ ہے وُہ
’’عیسیٰ علیہ السلام‘‘ نہیں ہیں۔لہٰذا اہلِ کلیسیا نہ تو’’ عیسائی’’
ہیں اور نہ ہی کسی عیسٰی کو جانتے اور مانتے ہیں۔اہلِ کلیسیا یسوع مسیح
کو جانتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ’’ مسیحی‘‘ کہلاتے ہیں۔جب غیر مسیحی
ہمیں عیسائی کہتے ہیں تو ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کیوں کہتے ہیں جبکہ ہم
کسی عیسی ٰ کو جانتے بھی نہیں ہیں۔جس عیسیٰ کو میرے مُسلمان دوست جانتے
ہیں وہ اِنجیلِ مُقدّس کا یسوع مسیح نہیں ہے۔یسُوع مسِیح سے متعلق
اِنجیلِ مُقدَس میں آیا ہے کہ ہر ایک گُھٹنا اُس کے حضور جُھکے گا اور
ہر ایک زبان اقرار کرے گی کہ یسوع مسیح خُداوند ہے۔لہٰذا ہمیں عِیسائی
کہہ کر ہمارا مزاق نہ اُڑایا جائے۔ میری دُعا ہے کہ خُدا وند ہمیں
اپنا طریقہ کار بخشے تاکہ اُس کے مطابق ہم غیر مسیحیوں کو خُوشخبری
سُنا سکیں۔(آمین)۔
کیا حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کہنا درست ہے؟
|