سوال نمبر 23

لوقا 16:9میں لکھا ہے کہ اپنے لئے ناراستی کی دولت سے دوست پید اکرو۔اِس سے کیا مراد ہے؟لگتا ہے کہ بائبل کا خُدا ناراستی پر رضامندی کا اظہار کر رہا ہے؟

جواب

میرے نزدیک اِس سوال کا جواب بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ اِس آیت کے سیاق و سباق کو بھی دیکھا جائے۔اس تمثیل میں مالک اپنے مختار سے حساب مانگتا ہے۔کیونکہ اُس نے اپنے مختار کے بارے میں کوئی اچھی رپورٹ نہیں سُنی تھی۔اب جب مختار کو معلوم ہو جاتاہے کہ مجھے فارغ کر دیا جائے گا تو وہ قرضداروں کو بلا کر جتنا بھی واپس لے سکتا تھا لے لیتا ہے تاکہ کُچھ تو ہاتھ آئے۔ہوشیار مختار کے اِس عمل کے سبب سے مالک بھی خوش ہو گیا اور قرضدار بھی خوش ہو گئے۔

اَب مختار نے اُس پیسہ سے جو نہ تو پورا لیا گا اور نہ پورا ادا کیا گیا دونوں پارٹیوں کو خوش کر دیا۔اصل میں اس سےمرادیہ ہے کہ جو کُچھ ہمارے پاس ہے اور یہ صرف پیسہ ہی کی بات نہیں بلکہ  مال کی بھی ہے اور یاد رکھیں کہ ہمارے پاس کوئی ایک بھی چیز ایسی نہیں جو ہماری اپنی ہو کیونکہ جو کُچھ ہمارے پاس ہے وہ سب خُدا کا ہی دیا ہوا ہے۔لہٰذااُسے خُداوند کے کاموں کیلئے ہی خرچ کیا جائے۔اِس سے مراد یہ ہے کہ خُداوند نے ہمیں خوشخبری سُنانے کا حکم دیا ہے اور ہم تمام تر وسائل کو استعمال کریں تاکہ لوگ خُدا کی بادشاہی میں شامل ہو سکیں اور یوں خُدا بھی ہمیں کہے کہ اے اچھے اور وفادار خادم , شاباش۔

مندرجہ بالا بیان سیاق و سباق کے اعتبار سے اِس سوال کا جواب ہے۔لیکن میں یہاں پر ایک اور بھی خیال پیش کرناچاہتا ہوں اور اُمَید ہے کہ اِن دونوں خیالات کے سبب سے  ہمیں اصل حقیقت سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

کئی ایسے لوگ ہیں جن کا ماضی بہت داغدار ہو تا ہے۔وہ ہر ایسا کام کرتے ہیں جس سے پیسہ کمایا جا سکے۔ہو سکتاہے کہ وہ پیسہ سُودکا ہو،ہو سکتاہے وہ پیسہ شراب بیچ کر حاصل کیا گیا ہو۔ہو سکتا ہے کہ کسی بھی بُرے کام یا جھوٹی گواہیاں دیتے ہوئے یہ پیسہ کمایا گیا ہو۔لیکن ایک دِن وہ کسی اِنجیل کے گواہ کے سبب سےخوشخبری سُنتے ہیں اور کلام کا ہتھوڑا اُن کے سخت دِل پر ضربِ کاری لگاتا ہے جیسا کہ پطرس کے وعظ کے وسیلہ سے  پینتکُثت کو لوگوں کےدِلوں پر چوٹ لگی اور یوں یہ لوگ اپنا دِل خُداوند کے سپرد کر ڈالتے ہیں۔وہ اپنا سب کُچھ خُداوند کے حضور پیش کر دیتے ہیں۔لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ فرض کریں اُن کے پاس یا بینک میں اُن کا کُچھ پیسہ ہے جو تھوڑا بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی ہو سکتاہے۔یہ پیسہ اُن کے خون پسینے کی کمائی کا نہیں بلکہ ناجائزپیسہ پے۔اب وہ اِس ناراستی کی دولت کا کیا کرے؟

میرا جواب یہ ہے کہ پیسہ اُس شخص کا اپنا ہےاور اب  وہ تبدیل ہو گیا ہےاور کیا اپنے اُس ناجائز پیسہ کو آگ لگا دے؟جی نہیں! میں یہ مشورہ کبھی نہیں دوں گا۔ بلکہ یہ کہوں گا کہ جیسے یہ شخص خود کسی کام کا نہیں تھا اور اب یسوع کے کام کا ہے اِسی طرح یہ پیسہ بھی  یسوع کے کام کیلئےاستعمال کیا جا سکتا ہے۔تاکہ کھوئے ہوئے یعنی غیر نجات یافتہ لوگ جنہوں نے خوشخبری نہیں سُنی وہ سُن سکیں۔اصل میں ناراستی کی دولت سے دوست پیدا کرنے سے یہی مراد ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ ہماری تبدیلی کے بعد جو کُچھ ہمارا ہے خواہ وہ جیسے بھی حاصل کیا گیا اُسے خُدا کے جلال کیلئے اِستعمال کیا جائے۔میری دُعا ہے کہ خُدا اپنے پاک روح کے وسیلہ سے اِن گہرے اور عمیق بھیدوں کے سمجھنے میں ہم سب کی رہنمائی فرمائے(آمین)۔

دُوسروں کے گناہ کی سزا ہمیں کیوں؟