سوال نمبر 29

2 سیموئیل میں لکھا ہے کہ خُدا نے دائود کو اُبھارا کہ وہ اپنے لوگوں کی گنتی کرے جبکہ تواریخ میں لکھا ہے کہ شیطان نے دائود کو اُبھارا کہ گنتی کرے۔ اب کون سا بیان درُست مانا جائے۔

جواب

 میں سب سے پہلے تو یہ دونوں آیات آپ کی خدمت میں لکھا ضروری سمجھتا ہوں۔

2سیموئیل 24:1’’اس کے بعدخُدا وندکا غُصہ اسرائیل پر پھر سے بھڑکا اور اُس نے دائود کے دِل کو اُن کے خلاف یہ کہہ کر اُبھارا کہ جا کر اسرائیل اور یہوداہ کو گِن‘‘۔

1تواریخ 12:1‘‘اور شیطان نے اسرائیل کے خلاف اُٹھ کر دائود کو اُبھارا کہ اسرائیل کا شمار کرے’’۔

یہ سوال نہایت ہی معتبر اور اچھا ہے ۔سوال کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑا اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔لیکن کتابِ مُقدّس کے قارئین کیلئے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔کُچھ لوگ محض اس لئے اِس کو پڑھتے ہیں کہ اس سے غلطیاں نکالیں لیکن میں پہلے بھی ایک مقام پر یہ کہہ چُکا ہوں  کہ نفسانی اور جسمانی آدمی خُدا کے رو‎ح کی تہہ کی باتیں نہیں سمجھ سکتا۔اس لئے میں یہ کہہ رہا ہوں  کہ جو اِس کتابِ مُقدّس کو مانتا ہی نہیں وہ روحانی اعتبار سے نابینا ہے۔اور ہمارا کام ہے کہ اُس کی مناسب مدد کی جائے  تاکہ اُسے صحیح راستہ مِل سکے۔

ایک بات جو جاننے کی ہے وہ یہ ہے کہ خُدا کبھی گناہ نہیں کرتا کیونکہ ایسا کرنا اُس کی شان کے برخلاف ہے اور خُدا کبھی کسی کو گناہ کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا کیونکہ خُدا گناہ سے نفرت کرتا ہے۔وہ گنہگار انسان سے تو پیار کرتا ہےکہ وہ اُس کی طرف لوٹ آئے لیکن گناہ سے پیار نہیں کرتا۔بائبل مقدّس میں یعقوب 1:13 میں لکھا ہوا ہے ‘‘جو کوئی آزمایا جائے تو یہ نہ کہے کہ میری آزمائش خُدا کی طرف سے ہوتی ہے کیونکہ نہ تو خُدا بدی سے آزمایا جا سکتاہے اور نہ وہ کسی کو آزماتا ہے’’۔تا ہم یہ ممکن ہے کہ وہ شیطان کو اجازت دے کہ وہ کسی کو آزمائے۔اگر یہ شخص دھوکا کھا جائے تو وہ گناہ میں گِر جاتا ہے لیکن آزمائش کے وقت وہ خُدا سے قوّت مانگ سکتاہے۔اس کی ایک مثال آپ حضرتِ ایوب کی کہانی میں دیکھ سکتے ہیں۔جہاں خُدا نے شیطان کو اجازت دی کہ وہ حضرتِ ایوب کو آزمائے۔خُدا نے شیطان سے کہا کہ‘‘دیکھ جو کُچھ اُس کا ہے وہ سب تیرے اختیار میں ہے صرف میرے بندے پر ہاتھ نہ اُٹھانا’’۔چنانچہ شیطان نے حملہ کیا اور حضرتِ ایوب امتحان میں پورے نمبر لے کر پاس ہو گئے۔

دوسری طرف حضرتِ آدم کی بات کرتے ہیں تو دونوں یعنی حضرتِ آدم و حوا بھی آزمائے گئے۔وہاں بھی شیطان نے ہی اُنہیں آزمایا لیکن افسوس کہ وہ دونوں فیل ہو گئے اور اسی سبب سے ساری اولادِ آدم گناہ کے سیلاب میں بہتی چلی آرہی ہے۔ہر طرف گناہ اور اُس کے مُہلک بادل  منڈلا رہے ہیں اور گناہ کے سبب سے نسلِ انسانی میں موت راج کر رہی ہے۔جب ہم فیل ہو جاتے ہیں تو پھر اِس کی سزا بھی ہمیں بھگتنا پڑتی ہے اور یہ فطرتی اُصول ہے۔شیطان آج بھی مصروفِ عمل ہے اوروہ آپ کو اور مجھے بدی کرنے پر اُکساتا ہے۔لیکن مبارک ہیں وہ جو آخر دم تک وفادار رہتے ہیں کیوکہ وہ زِندگی کا تاج حاصل کرینگے۔

اسی طرح خُدا نے حضرتِ دائود کے بھی آزمائے جانے کی بھی اجازت دی مگر وہ گناہ میں گر گئے۔لہٰذا دونوں بیانات درست ہیں۔اصل میں خُدا نے ہی حضرتِ دائود کو آزمایا لیکن ایک مقام پر شیطان آزمانے کیلئے آلہ کار بنا اور خُدا نے اُسے اجازت دی بالکل ویسے ہی جیسے اُس نے حضرتِ ایوب کے آزمائے جانے کیلئے اجازت دی۔میری دُعا ہے کہ خُدا ناسمجھ لوگوں کے دِلوں پر سے پردے اُٹھائے تاکہ وہ اُن حقائق کو سمجھ پائیں اور یسوع مسیح کو جان سکیں جو راہ حق اور زِندگی ہے۔آمین۔

سلیمان نےسات سو تھان یا سات ہزار تھان بنوائے؟