سوال نمبر3

مرقس  16:17-18کے مطابق کُچھ لوگ کہتے ہیں کہ انجیل شریف میں لکھا ہے کہ  حضور المسیح نے فرمایا‘‘ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے، وہ میرے نام سے بدروحوں کو نِکالیں گے، نئی نئی زبانیں بولیں گے، سانپوں کو اُٹھا لینگے اور اگر کوئی زہریلی  چیز پیئیں گے تو اُنہیں کُچھ ضرر نہ پہنچے گا۔وہ بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو اچھے ہو جائینگے’’۔لہٰذا اگر تُم زَہر پی لو تو تمہیں کُچھ نہیں ہو گا اور پھر آزمانے کی خاطر یہ کہتے ہیں کہ اگر تمہارا مسیح پر ایمان ہے تو یہ زہر لو اور ابھی پیو، تب معلوم ہو گا کہ تمہارا ایمان سچا ہے کہ نہیں۔اَب سوال یہ ہے کہ کیا اہلِ کلیسیا کو ایسا کر لینا چاہیئے؟

جواب

اِس سوال میں محض جزبات اُبھارنے کے بجائے اور کُچھ بھی نہیں ہے۔اگر روح سے بھی اور عقل سے بھی کام لیا جائے تو اِس سوال کا جواب سمجھنا نہایت ہی آسان ہے۔بلاشک یہ بات اِنجیل شریف میں لکھی ہے لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ جب یسوع مسیح نے یہ بات کہی تو اُس وقت اِس کا کیا مطلب تھا۔یاد رکھیں کہ انجیلِ مقدَس میں ایسا ہر گَز نہیں لکھا کہ تُم زہر پی کر خُدا کو آزمائو۔ یہ کوئی جادو ٹونا نہیں ہے کہ مصروف روڈ پر نکل آئیں  اور کہیں کہ دیکھتا ہوں کہ خُدا مجھے ٹرک کے نیچے آنے سے بچاتا ہے کہ نہیں۔صاف ظاہر ہے کہ حادثہ ہو گا اور ہلاک ہو جائے گا۔

جو شخص یہ سوال کرتا ہے وہ گویا نا سمجھ ہے اور ہمیں خدا کو آزمانے کیلئے کہہ رہا ہے جبکہ خُدا ایسا کرنے سے منع کرتا ہے۔اصل میں اَس سوال کا جواب یہ ہے کہ  اگر آپ اِنجیل کا پیغام سُنانے کیلئے جاتے ہیں اور واقعی خُدا کے ساتھ وفادار ہیں اور خُدا کی طرف سے بلاہٹ اور اُس کے منصوبے کے تحت جاتے ہیں تو اگر کوئی شخص آپ کو زہر  پِلا بھی دیتا ہے اور آپ کو معلوم نہیں کہ یہ زہر ہے تو اِس صورت میں پی لینے والے کو کُچھ ضرر نہیں پہنچے گا۔ لیکن جان بوجھ کر خُدا کو آزمانا مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ خُدا کا امتحان کرنا ہے۔ میں تو نہیں پیوں گا۔ بنی اِسرائیل نے خُدا کو آزمایا اور وہ اُن سے بیزار ہوا اور اُن میں سے بہت بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

ہمیں ایک اور بات بھی یاد رکھنا ہے کہ کیا خُدا کی مرضی ہے کہ میں زہر پیوں؟ کیا میرے زہر پینے سے کِسی کا فائدہ ہو گا؟ کیا اِس کے سبب سے خُدا کا جلال ظاہر ہو گا؟ اگر میں ایسا کرتا ہوں تو لوگ مجھے احمق کہیں گے یا دانشمند کہیں گے؟ مسیحی مومنین میں سے یقیناً ایسا کوئی بھی نہیں کرے گا۔لہٰذا قارئین سے گزارش ہے کہ وہ  سوال کی نوعیت کو سمجھیں اور سوال کرنے والے کے زہن کے بھی پڑھ لیں۔ خُدا وند ہم سب کو حکمت اور خِرد کا رُوح عنایت فرمائے۔آمین۔

 


 

 
     

Home | About Us | Vision & Mission | Courses Available | What We Believe | Testimonies | Photo Gallery | Contact Us

Copyright © 2009, NEW LIFE INSTITUTE. All rights reserved.