|
سوال نمبر
30
1سلاطین
میں لکھاہواہےکہ حضرت سلیمان نےگھوڑوں کیلئے40,000تھان
بنوائےتھے یا
2تواریخ9:25کے
مطابق4000تھان
بنوائے تھے؟
جواب
اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ حضرت سلیمان نے چالیس
برس تک بادشاہی کی اور وہ اپنے باپ حضرتِ دائود کے تخت پر بیٹھے۔حضرت
سلیمان نے اپنے باپ سے بہتر زیادہ مال و متاع پایا تھا۔اگرچہ حضرتِ
دائود بھی بڑے دانا تھے لیکن مشہور ہے کہ حضرتِ سلیمان کی دانائی کی
کوئی نظیر نہیں مِلتی۔چنانچہ
1
سلاطین کے مطابق جتنے گھوڑے ملے اُن کیلئے40,000تھان
بنوائے گئے۔یہ وہ وقت تھا کہ جب حضرتِ سلیمان کے اقتدار سنبھالا۔چونکہ
حضرتِ سلیمان جیسا اور کوئی دانا نہیں تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ
اُنہوں نے اپنے دورِحکومت کے اختتام پر تھوڑی سی سرزمین پر اتنی زیادہ
تعداد مناسب نہیں سمجھی۔اس وجہ سے آپ نے تھان کم کر کے
4000
بنوائے۔ لیکن فوج کی تعداد اُتنی ہی رہنے دی۔
اسی سوال کا ایک اور جواب بھی ہے کہ پہلے ایک تھان میں
ایک ہی گھوڑا تھا یوں اُن تھانوں کی تعداد چالیس ہزار تھی۔بعد میں حضرت
سلیمان نے چار ہزار تھان بنوائے۔ ایک تھان میں دس گھوڑوں کی جگہ بنی
ہوئی تھی۔یوں اگر
4000کو
10سے
ضرب دیا جائے تو جواب
40,000
ہی آتا ہے۔حضرت سلیمان نے تھان بڑے بنوا دیئے تھے اور
اُن کی تعداد کم کر دی تھی اور یہی اس سوال کا مناسب جواب ہے۔
اگر آپ مسیحی ہیں تو یاد رکھیں کہ کئی لوگوں نے یہ ٹھان
رکھا ہے کہ مسیح کی تحقیر کریں اور ہمیں زیر کریں۔ایسے لوگوں سے متعلق
کلامِ مقدّس سے ایک آیت پیش کرتا ہوں۔امثال
15:2‘‘دانائوں
کی زبان علم کا درست بیان کرتی ہے پر احمقوں کا منہ حماقت اُگلتا
ہے’’خُدا کرے کہ بہتیروں کی آنکھوں سے چھلکے اُتریں اور خُداوند مسیحا
کو پہچان سکیں۔
دائود نے 7000کو مارا یا 700کو؟
|