سوال نمبر 32

یہویاکین کے دورِحکومت میں اتنا زیادہ اختلاف کیوں؟ 2سلاطین24:8 بمقابلہ 2 تواریخ 36:9سے کریں۔ ایک حوالے میں تین ماہ سلطنت کا کا ذکر ہے جبکہ دوسرے حوالے میں تین ماہ دس دن سلطنت کرنے کا ذکر ہے ۔اب کونسا جواب درست مانا جائے؟

جواب

مجھے ان دونوں حوالوں کو یہاں لکھنا ضروری ہے تاکہ بات واضح ہو سکے۔2سلاطین24:8‘‘اور یہویاکین جب سلطنت کرنے لگا تو اٹھارہ برس کا تھا اور یروشلیم میں اُس نے تین ماہ سلطنت کی۔۔۔۔۔’’ 2 تواریخ 36:9‘‘یہویاکین آٹھ برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے تین مہینے دس دن یروشلیم میں سلطنت کی۔۔۔۔’’۔

مذکورہ آیات میں ایک نہیں بلکہ دو تضاد نظر آتے ہیں۔ایک تو یہ  کہ جب یہویاکین نے سلطنت سنبھالی تو وہ آٹھ سال کا تھا یا اٹھارہ سال کاتھا اور دوسرا تضاد یہ ہے  سلطنت تین ماہ کی یا تین ماہ دس دِن کی ۔میں اس دوسرے تضاد کا پہلے جواب دوں گا۔پہلے تضاد کا میں ایک اور سوال میں جواب دوںگا تاکہ سمجھنے والوں کیلئے بات واضح ہو جائے۔

تواریخ کا مصنف زیادہ تفصیل بیان کرتا ہے جبکہ سلاطین کا مصنف اتنی زیادہ ضرورت نہیں سمجھتا۔وہ بڑی بات پر زور دیتا ہے چھوٹی باتوں پر نہیں دیتا۔ معتبر جواب یہ ہے کہ یہویاکین نے تقریباً تین ماہ سلطنت کی۔ یہ رائونڈ فِگر ہے اور میں یہاں پر انسانی مصنّف کی بات کرتا ہوں۔یاد رکھیں کہ عہدِ عتیق میں اس طرح کی کئی باتیں ہیں۔ایسے سوالات کے جوابات دیکھنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ مصنف کے نزدیک کونسی بات زیادہ اہمیت کی حامل ہے جس پر وہ زور دے رہا ہے۔میری دُعا ہے کہ خُداوند ہم سب کی کلامِ خُدا کی گہرائیوں کے سمجھنے میں مدد فرمائے۔ آمین۔

یہویاکین کی سلطنت کتناعرصہ رہی؟