|
سوال نمبر
33
یہویاکین کے دورِحکومت میں اتنا زیادہ اختلاف کیوں؟
2سلاطین24:8
بمقابلہ
2
تواریخ
36:9سے
کریں۔ ایک حوالے میں تین ماہ سلطنت کا کا ذکر ہے جبکہ دوسرے حوالے میں
تین ماہ دس دن سلطنت کرنے کا ذکر ہے ۔اب کونسا جواب درست مانا جائے؟
جواب
مجھے پھر سے ان دونوں حوالوں کو یہاں لکھنا پڑ رہا ہے
تاکہ بات واضح ہو سکے۔2سلاطین24:8‘‘اور
یہویاکین جب سلطنت کرنے لگا تو اٹھارہ برس کا تھا اور یروشلیم میں اُس
نے تین ماہ سلطنت کی۔۔۔۔۔’’
2
تواریخ
36:9‘‘یہویاکین
آٹھ برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے تین مہینے دس دن
یروشلیم میں سلطنت کی۔۔۔۔’’۔
جناب بات یہ ہے کہ جب یہویاکین آٹھ برس کا تھا تو اُس
کے باپ نے اُسے اپنا جانشین بنا لیا تھا تاکہ اُس کی موت کے بعد وہ
بادشاہ ہو۔اُس وقت اُس کا باپ ہی بادشاہ تھا۔اُسے آٹھ سال کی عمر میں
اگلے بادشاہ کے طور پر تربیت دی جانے لگی۔یہویاکین اٹھارہ برس کی عمر
تک مسلسل بادشاہ ہونے کی تعلیم و تربیت حاصل کرتا رہا اور جب وہ اٹھارہ
برس کا ہوا تو اُس کا باپ مر گیا۔پھر اٹھارہ برس کی عمر میں وہ باقائدہ
بادشاہ کا اختیار سنبھالتا ہے۔
یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ آٹھ سال والا تو ابھی بچہ
ہی ہوتا ہے اُسے کھیلنے کے علاوہ اور کُچھ پتہ نہیں ہوتا اور وہ بادشاہ
ہونے کے لائق بھی نہیں ہوتا۔اس سے مراد یہ ہے کہ بادشاہ بننے کیلئے
یہویاکین کو دس برس تک تعلیم و تربیت حاصل کرنا پڑی اور اٹھارہ برس کی
عمر میں باقائدہ بادشاہ کا اختیار سنبھالا۔ اور یہی اس سوال کا مناسب
اور درست جواب ہے۔
اخزیاہ کے دورِ حکومت میں اتنا
بڑااختلاف کیوں؟
|