|
سوال نمبر
34
جب اخزیاہ یروشلیم کا بادشاہ بنا تو اُس کی
عمر22برس
تھی یا
42
برس تھی؟
2سلاطین
8:26؛
اور2تواریخ
22:2کا
موازنہ کریں۔
جواب
مندرجہ بالا آیات کو یہاں پر تحریر کر دیتا ہوں ۔2
سلاطین
8:26‘‘اخزیاہ22
برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے یروشلیم پر
ایک برس سلطنت کی۔۔۔۔‘‘۔
2
تواریخ
22:2‘‘اخزیاہ
42
برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگااور اُس نے یروشلیم میں ایک برس سلطنت
کی’’۔
2
سلاطین
8:26
میں اخزیاہ کے بارے میں کہا گیا کہ وہ
22
برس کا تھا جبکہ
2
تواریخ
22:2
میں لکھا ہے کہ وہ
42
برس کا تھا۔ جو بات حیرانگی کی ہے وہ یہ ہے کہ
2تواریخ
21:19-20
میں لکھا ہوا ہے کہ اخزیاہ کے باپ کی عمر بوقتِ مرگ
40
برس تھی۔باپ
40سال
کا اور بیٹا
42سال
کا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
خوش قسمتی سے بائبل مقدّس میں ایسے کئی حوالہ جات مِلتے
ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ درست
22برس
ہی ہے۔2سلاطین
8:17
میں کہا گیا ہے کہ
اخزیاہ کا باپ یورام بن اخی اب
32سال
کا تھا جب بادشاہ بنا اور8
سال بعد مر گیا۔اُس وقت اُس کی عمر
40
برس تھی۔ فقہا(اپنے ہاتھوں سے بائبل مقدّس کی نقول
تیار کرنے والوں کو فقہا کہا جا تا تھا)اس طرح کی اغلاط سے یہودی اور
مسیحی ایمان پر فرق نہیں پڑتا ۔اس طرح کی باتوں کی اصلاح دوسرے فقہا
کیا کرتے تھے(2سلاطین
(8:26۔
ہمیں یادرکھنے کی ضرورت ہے کہ فقہا اس بات میں دیانتدار تھے
کہ بائبل مقدّس کا صحیح متن لوگوں تک پہنچے۔جیسا اُن کو
مِلا ویسے ہی آگے پہنچایا۔یہ اُن کی دیانتداری کا ثبوت ہے۔صاف ظاہر ہے
کہ بیٹا اپنے باپ سے بڑا تو نہیں ہو سکتا ناں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ
اخزیاہ
22
برس کا تھا جب وہ یروشلیم کا بادشاہ بنا۔ اس سے مفہوم پر کوئی فرق نہیں
پڑتا۔بڑی بات یہ ہے کہ اخزیاہ بادشاہ بنا تھاخواہ وہ جتنے ہی سال کا
کیوں نہیں تھا۔خُداوند ہمیں فضل بخشے کہ پیغامِ نجات کو سمجھ سکیں۔ان
باتوں کے جاننے سے ہماری نجات پر کوئی فرق نہیں پرٹا۔صرف سینگ اڑانے
والے لوگ ہی ایسی باتیں کرتے ہیں۔خُداوند
ایسے لوگوں کو بھی عقل و دانش عنایت فرمائے(آمین)۔
کیا ہم دوسروں کو کنورٹ کرسکتے
ہیں؟
|