|
سوال نمبر
38
کیا یہوداہ اسکریوتی نے اپنے آپ کو پھانسی دی اور مر
گیا (متی
27:5)یاسر
کے بَل گرنے سے اُس کا پیٹ پھٹ گیا اور اُس کی انتڑیاں نکل گئیں(اعمال
1:18)؟چونکہ
دونوں حوالہ جات میں تضاد پایا جاتا ہے لہٰذا اسے سمجھا دیا جائے۔
جواب
جواب کی وضاحت کرنے سے پیشتر میں آپ کی خِدمت میں
مندرجہ بالا حوالہ جات تحریر کرنا چاہتا ہوں۔
متی
27:5‘‘اور
وہ روپوں کو مقدِس میں پھینک کر چلا گیا اور جا کر اپنے آپ کو پھانسی
دے دی’’۔
اعمال
1:18‘‘اُس
نے بدکاری کی کمائی سے ایک کھیت حاصل کیا اور سر کے بل گِرا اور اُس کا
پیٹ پھٹ گیا اور اُس کی سب انتڑیاں نکل گئیں’’۔
متی کی انجیل میں اس بات کا ذکر ہے کہ یہوداہ اسکریوتی
نے اپنے آپ کو پھانسی دی جبکہ اعمال کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ سَر کے
بَل جا گِرا اور اُس کا پیٹ پھٹ گیا اور اُس کی انتڑیاں نِکل آئیں۔یہ
دونوں بیانات اپنے آپ میں درست ہیں۔
متی
27:1-10
میں یہوداہ اسکریوتی کی موت کا ذکر ہے کہ کیسے واقع ہوئی۔اعمال کی
کتاب
1:18-19
میں لوقا طبیب اس بات کا منکر نہیں ہے کہ یہوداہ اسکریوتی نے اپنے آپ
کو پھانسی نہیں دی بلکہ وہ اُس کھیت کا ذکر کرتا ہے جس کا ذکر یہوداہ
اسکریوتی کے نام کیساتھ آتا ہے۔
ایک روایت کے مطابق ایسا ہے کہ یہوداہ اسکریوتی نے
اپنے آپ کو چوٹی پر ایک درخت کیساتھ لٹکایا جس کے دامن میں وادیِ ہنوم
ہے۔ اس کے نتیجے میں رسّی یا تو کٹ گئی یا کُھل گئی جس سبب سے یہوداہ
اسکریوتی اُس پتھریلے کھیت میں جا گِرا اور اُس کا پیٹ پھٹ گیا جس کا
لوقا طبیب نے ذکر کیا ہے۔اُمید کرتا ہوں کہ اہلِ دانش و علم و فہم کے
خزائن کے حامل لوگوں کیلئے اس سوال کا جواب سمجھنا کوئی بات ہی نہیں
ہے۔غلطی ہم صرف اُس وقت کرتے ہیں کہ جب ہم سیاق و سباق کیساتھ مطالعہ
نہیں کرتے۔ خُداوند آپ کو برکت بخشے(آمین)۔
انسان کی عُمر کی حد
120 برس ہے یا کم یا
زیادہ؟
|