|
سوال نمبر
39
کیا
خُدا نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ انسان کی عُمر
120
برس ہونا چاہیئے؟ یا اس سے زیادہ یا کم بھی ہو سکتی ہے(پیدائش
6:3
اور ہھر
11:12-16)۔
اس اعتراض کا جواب کتابِ مُقدّس کی روشنی میں دیں۔
جواب
میں اپنے قارئین کی خِدمت میں دونوں حوالہ جات تحریر کر
دیتا ہوں۔
پیدائش
6:3‘‘تب
خُدا وند نے کہا کہ میرے روح انسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہے
گی کیونکہ وہ بھی تو بشر ہے تو بھی اُس کی عُمر120
برس کی ہو گی’’۔
پیدائش
11:12-16‘‘جب
ارفکسد35
برس کا ہوا تو اُس سے سِلح پیدا ہوااور سِلح کی پیدائش
کے بعد ارفکسد403
برس اور جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔سِلح جب
30
برس کا ہوا تو اُس سے عبر پیدا ہوا اور عِبر کی پیدائش کے بعدسِلح
403
برس اور جیتا رہا اور اُس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔جب عبر
34
برس کاتھا تو اُس سے فلج پیدا ہوا’’۔
پیدائش
6:3
میں لکھا ہے کہ انسان کی عُمر
120
برس ہو گی ، جب کہ پیدائش
11:12-16
میں لوگوں کی عُمریں لمبی نظر آتی ہیں۔اس اعتراض کو پسِ منظر اور سیاق
و سباق کے لحاظ سے ہی سمجھا جا سکتاہے۔
دیکھئے انسان کی عُمر کی حد120
برس نہیں ہے اور اس حوالے کے چند ہی ابواب بعد آپ
دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔خود حضرتِ نوح کی عُمر بھی
120
برس نہیں تھی بلکہ اس سے لمبی تھی اس کے سمجھنے کیلئے
زیادہ آسان الفاظ یوں ہیں کہ خُدا نے طوفانِ نُوح کے آنے کی بات کی تھی
کہ وہ120
برس سے پہلے نہیں آئے گا۔یہ بھی اس لئے کیونکہ خُدا
انسان کو موقع دے رہا تھا کہ وہ اُس کی طرف رجوع لائے جیسا کہ
1پطرس
3:20میں
ہم دیکھتے ہیں۔جب نُوح کشتی بنا رہا تھا تو خُدا صبر سے اِنتظار کر رہا
تھا۔لہٰذا یہ لوگوں کی عُمر کی حدکی بات نہیں بلکہ طوفانِ نُوح کے عرصہ
کی بات ہے۔خُدا وند ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
آمین۔
یعقوب کے گھرانے سے کِتنے لوگ مِصرگئے تھے؟
|