سوال نمبر 41

یوحنا 1:19-28کے مطابق یوحنا سے پوچھا گیاکہ تُو کون ہے…….کیا تُو وہ نبی ہےِ یہ‘‘وہ نبی’’ کون ہے۔ یہ کسی اور نبی کی طرف اشارہ تو نہیں؟۔

جواب

یوحنا 1:19-28‘‘اور یوحنا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلیم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو اُس کے پاس بھیجے کہ تُو کون ہے؟ تو اُس نے اقرار کیا اور اِنکار نہ کیابلکہ اقرار کیا کہ میں مسیح نہیں ہوں ۔اُنہوں نے اُس سے پوچھا کہ پھر تُو کون ہے؟ کیا تُو ایلیاہ ہے؟ اُس نے کہا میں نہیں ہوں۔کیا تُو وہ نبی ہے؟اُس نے جواب دیا کہ نہیں۔پس اُنہوں نے اُس سے پوچھا کہ پھر تُو کون ہے؟تاکہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں ۔تُو اپنے حق میں کیا کہتا ہے؟اُس نے کہا کہ جیسے یسعیاہ نبی نے کہا ہے بیابان میں پُکارنے والے کی آواز ہوں  کہ تُم خُداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔ یہ فریسیوں کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔اُنہوں نے اُس سے یہ سوال کیا کہ اگر تُو نہ مسیح ہے نہ ہی ایلیاہ نہ وہ نبی تو پھر بپتسمہ کیوں دیتا ہے؟یوحنا نے جواب میں اُن سے کہا کہ میں پانی سے تمہیں بپتسمہ دیتا ہوں۔تمہارے درمیان ایک شخص کھڑا ہے جِسے تُم نہیں جانتے یعنی میرے بعد کا آنے والاجس کی جوتی کا تسمہ میں کھولنے کے لائق نہیں۔یہ باتیں یردن کے پار بیت عنیاہ میں واقع ہوئیں جہاں یوحنا بپتسمہ دیتا تھا’’۔

یروشلیم کے یہودیوں کی طرف سےیوحنا کے پاس کاہن اور لاوی بھیجے گئے کہ اُس کے بارے میں دریافت کیا جائے کہ کہیں یہ وہ نبی تو نہیں ہے۔یہودی لوگ تورات شریف سے واقفیت رکھتے تھے۔اُنہیں معلوم تھا کہ تورات میں کسی نبی کے آنے کا ذکر ہے لیکن ابھی تک معلوم نہیں ہوا کہ وہ نبی کون ہے۔یوحنا کی آمد پر وہ اُس سے پوچھتے ہیں کہ کیا تُو وہ نبی ہے؟اِس نبی کا ذکر استثنا 18:15میں ہے۔اس حوالے میں حضرتِ موسیٰ اپنے یہودی لوگوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں۔‘‘خُداوند تیرا خُدا تیرے ہی درمیان یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا تُم اُس کی سُننا’’۔اب دیکھنا یہ ہے کہ‘‘ وہ نبی’’ کون ہے؟۔

ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ جس نبی کی یہاں پر بات ہو رہی ہے اُس میں چندباتوں کا پایا جانا ضروری ہے۔یہ باتیں جس شخصیت پر صادق آتیں وہی وہ نبی ہوتا۔استثنا والے حوالے میں مُخاطبین یہودی ہیں اور اُن کو کہا گیا کہ وہ  نبی……

1-   یہودیوں یعنی اسرائیلیوں میں سے  ہو گا۔ کیونکہ لکھا ہے کہ (تیرے بھائیوں میں سے)تو صاف ظاہر ہے کہ اُس نبی کا یہودیوں میں سے آنا ضروری تھا۔ہم یہ نبی جس کسی کو بھی سمجھتے ہیں اگر تو وہ یہودیوں میں سے آیا تو پھر ٹھیک ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ نبی یسوع المسیح کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا ا س کی وجہ یہ ہے کہ یہودیوں میں سے وہی آئے ہیں۔

2-   اس کا نبی ہونا ضروری تھا۔ نبی کا کام نبوّت کرنا ہے۔نبوّت کی دو اقسام ہیں۔ایک تو یہ کہ خُدا ڈائریکٹ کلام کرتا ہے اور قوموں تک یا کسی ایک شخص تک اپنے (خادم) نبی کی معرفت پیغام بھیجتا ہے۔ جیسا کہ خُدا حضرِت ناتن کو حضرتِ دائود کے دربار میں ، حضرتِ موسیٰ کو فرعون کے دربار میں اور حضرتِ یوناہ(یونس) کو شہرِ نینوہ کی طرف بھیجتا ہے۔ایسی والی نبوّت ابھی نہیں ہے۔ کیونکہ خُدا نے مستقبل کے بارے میں جو کُچھ بھی کہنا تھا اُس نے اپنے کلام میں پہلے ہی سے کہہ دیا ہے۔اس کے علاوہ اور کوئی ایسی بات نہیں جو رہ گئی ہو یا خُدا نے پیچھےرکھ چھوڑی ہو اور اب وہ اُس کو ظاہر کرتا ہو۔اگر ایسا ہے تو پھر خُدا کا کلام نامکمل مکاشفہ ہے جسے وہ آج آپ کے اور میرے وسیلہ سے پورا کرتا ہے۔حضور المسیح نے نبوّت بھی کی اور وہ نبی بھی ہیں۔ اور اُنہوں نے ایسی نبوّت کی جو پہلے کسی نبی نے نہیں کی۔

اب ہمارے ہاتھوں میں  نبوّت کا کلام ہے اور جب میں اس نبوّت کے کلام کو پیش کرتاہوں تو  درحقیقت میں نبوّت ہی کر رہا ہوتا ہوں۔لیکن یہ نبوّت ڈائریکٹ خُدا کی طرف سے نہیں ہوتی۔ بلکہ غیر براہ راست ہوتی ہے۔لہٰذا یہ نبوّت خُدا کا کوئی بھی چُنیدہ خادم کر سکتاہے۔

3-   جس نبی کے بارے میں یہاں بیان ہے اُس میں ایک اور خصوصیت کا بھی پایا جانا ضروری ہے۔اور وہ یہ ہےکہ جس طرح حضرتِ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعونِ مصر کے آہنی پنجوں سے خُدا کی قُدرت کے وسیلہ سے چُھڑایا اسی طرح اس نبی کا بھی چھڑانے والا ہونا ضروری تھا۔جس نبی کی یہاں پر بات ہو رہی ہے وہ حضور المسیح ہیں کیونکہ مسیح نے ابلیس کی غلامی سے ہمیں اپنی جان قربان کر کے چُھڑایا ہے۔اگر ہم سمجھتے ہیں یہ کوئی اور نبی ہے تو پھر اُس میں ان خصوصیات کا بھی پایا جانا ضروری ہے۔

4-   اس نبی کیلئے ضروری تھا کہ وہ خُدا کے رُوبرو ہوکر بات کرتا جیسے حضرتِ موسی نے کی۔تعلیماتِ انجیل مقدس کے مطابق حضور المسیح بذاتِ خود مجسم کلام تھے اور آپ نے فرمایا کہ میں باپ سے سُن کر تمہیں بتاتا ہوں۔اس سے مراد یہ ہے کہ خُدا اور اُن کے بیچ میں  کوئی فرشتہ یا کوئی اور انسان نہیں تھا جو درمیانی کا کردار ادا کرتا۔آنے والے نبی کیلئے ضروری تھا کہ ہو خُدا سے براہ راست کلام کرتا ہو۔

5-   اس نبی کیلئے ضروری تھا کہ وہ نشان عجیب کام اور معجزات کرتا ہو۔چونکہ خُدا نے حضرتِ موسیٰ کے وسیلہ سے بہت سے معجزات کئے اس لئے جس کسی کو موسیٰ کی مانند ہونا تھا اُس کیلئے یہ شرط بھی لازم تھی کہ وہ معجزات کرتا یعنی نشانات اور عجیب کام دکھاتا ہو۔حضور المسیح اس لئے وہ نبی ہیں کیونکہ  آپ اُن تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہیں جو اُس نبی میں ہونا لازم تھیں۔

حرفِ آخر کے طور پر یہ کہوں گا کہ وہ نبی مسیح یسوع ہیں اور ان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔اس نبی کی جو خصوصیات ہیں وہ کسی اور نبی میں نہیں مِلتیں۔یوحنا انکار کرتا ہے کہ میں وہ نبی نہیں ہوں۔یاد رہے کہ حضور المسیح محض نبی ہی نہیں بلکہ نبی سے بڑھ کر ہیں۔دُعا ہے کہ خُدا وند اس جواب کے وسیلہ سے ہم سب کو اپنی برکات سے نوازے۔آمین۔

حضرت عیسیٰ پر ایک انجیل نازل ہوئی یا چار؟