سوال نمبر 43

مسیحی نظریہ الہام کیا ہے؟

جواب

میرے جوابات بہت گہرے اور لمبے چوڑے نہیں ہوتے۔میں صرف اس بات کو پیش کرنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی حقیقت کو اس طور پر پیش کیا جائے کہ قاری با آسانی آپ کی بات سمجھ سکے۔میرا مقصد علم جھاڑنا نہیں بلکہ آسان الفاظ میں بات سمجھانا ہوتا ہے۔اب کسی شخص کو سمجھا کر چھوڑنا یہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔

مسیحی نظریہ الہام ایسا نہیں ہے کہ خُدا  نے اِملا یعنی Dictation کروائی  اور مقدسین نے بیٹھ کر لکھا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ خُدا نے چار مختلف شعبہ ہائے زِندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو چُن لیا تاکہ اُن کے وسیلہ سے اُس پیغام کر تحریر کروائے جو وہ دُنیا تک پہنچانا چاہتا تھا۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ سوال  نمبر 42کے جواب میں بتایا ہے کہ خیال اور پیغام خُدا کا ہوتا تھا مگر الفاظ اِن انسانی مصنفین کے تھے۔لیکن پاک روح اُن کی رہنمائی کرتا تھا کہ کہیں مفہوم میں  غلطی نہ ہو جائے۔گویا یوں کہنا چاہئے کہ خُدا خود اپنے کلام کا مصنف ہے۔‘‘ہر ایک صحیفہ خُدا کے الہام سے ہے، تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کیلئے فائدہ مند بھی ہے۔تاکہ مردِ خُدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کیلئے بالکل تیار ہو جائے’’(2تیمتھیس3:16

"اور پہلے یہ جان لو کہ کتابِ  مُقدّس کی کسی نبوّت کی بات کی تاویل کسی کے ذاتی اختیار پر موقوف نہیں کیونکہ نبوّت کی کوئی بات آدمی کی خواہش سے کبھی نہیں ہوئی بلکہ آدمی روح القدس کی تحریک سے خُدا کی طرف سے بولتے تھے’’(2پطرس1:20-21)۔

آسان لفظوں میں یہی ہے کہ خُدا رہنمائی کرتا تھا اور مقدّسین لکھتے جاتے تھے۔ کلام اُس کی طرف سے تھا مگر الفاظ مقدسین  کے اپنے تھے۔خُداونداس جواب کے سمجھنے میں ہم سب کی رہنمائی فرمائے۔آمین۔

 

 مسیحیت کا بانی کون ہے؟ مسیح یا پولس؟