|
سوال نمبر
44
کئی معترض حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسیحیت میں
مسیح سے زیادہ پولس کی باتیں ہیں اور یوں لگتا ہے کہ مسیحیت کا بانی
یسوع نہیں بلکہ پولس رسول ہے۔ یہ بات کہاں تک درست ہے؟
جواب
یاد رکھیں کہ مسیحی ایمان کے بانی یسوع المسیح
ہیں(عبرانیوں
12:2
)اور آپ کی تعلیمات اور معجزات انجیلِ مُقدّس کے بیان کے مطابق ہیں۔آپ
نے جو تعلیمات دیں اُن ہی تعلیمات کو رسولوں نے بھی پیش کیا جن میں
پطرس یوحنا اور پولس و دیگر رسول بھی شامل ہیں۔ کچھ لوگوں نے اُنہیں
قبول کیا اور کُچھ نے نہیں کیا۔اب پولس نے جہاں کہیں تبلیغ (منادی) کی
اُس کے بارے میں خُدا کی مرضی یہ تھی کہ وہ اُن تمام تجربات کی توضیح
روح القدس کی تحریک سے الفاظ میں قلمبند کی جائے۔ پولس رسول نے ہمیں
بتایا کہ جب ہم تعلیمات المسیح کا اپنی زِندگی پر اطلاق کرتے ہیں تو
پھر کیا ہوتا ہے۔
چنانچہ پولس رسول نے تعلیمات المسیح کی وضاحت کی۔پولس
رسول نے کہیں بھی یہ بیان نہیں کیا کہ میں مسیحیت کا بانی ہوں بلکہ وہ
مشورہ دیتا ہے کہ ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کو تکتے
رہیں(عبرانیوں
12:2)۔
پولس رسول نے کسی نئی تعلیم کی بُنیاد نہیں ڈالی اور نہ
ہی تعلیمات المسیح کی کسی بات کی تردید کی۔وہ یہودی پسِ منظر سے تھا
لیکن وہ خُداوند یسوع مسیح پر ایمان لایا تھا کہ وہ دُنیا کے نجات
دہندہ ہیں۔خُداوندیسوع المسیح بذاتِ خود اُس پر ظاہر ہوئے اور اپنے
مقصد کیلئے چُن لیا تاکہ یہودیوں اور غیر یہودیوں میں جا کر
تبلیغ(منادی) کرے۔گویا پولس رسول مسیح کی مرضی کا اسیر تھا۔مسیحیت کا
بانی نہیں بلکہ مسیح کا خادم تھا۔لہٰذا یہ الزام غلط اور سراسر جھوٹ ہے
کہ یہ پولس کی پیداوار ہے۔خُداوند ان حقائق کے سمجھنے میں ہماری
رہنمائی فرمائے۔آمین۔
اگرانجیل ایک ہی ہےتوخطوط کیوں شامل کیے گئے؟
|