سوال نمبر 45

یہ بات تو ماننے کی ہے کہ حضرتِ عیسی علیہ السلام پر ایک انجیل نازل ہوئی لیکن انجیل کے علاوہ جو پولس رسول کے خطوط وغیرہ ہیں ۔وہ تو انجیل نہیں ہیں ناں؟۔اُنہیں کیوں انجیل میں شامل کیا گیا یا مسیحی ایمان میں اُن کا کیا کردار یا مقام ہے؟

جواب

یہ سوال ایک مسلمان دوست نے بھائی جسٹن صاحب کے وسیلہ سے پوچھا۔اس سوال کے جواب کا بھی کسی حد تک سوال نمبر43, 44سے ہے۔لہٰذا اِس سوال کا جواب پانے کیلئے مناسب ہو گا کہ اُن سوالات کے جوابات کی بھی نظر ثانی کر لیں تاکہ سوال کے جواب کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

میں اکثر اوقات ایک مثال دیتا ہوں  کہ اگر ٹرک کی باڈی اُس کے فریم سے الگ کر کے ایک طرف رکھ دی جائےاور اُس کی جگہ ٹرک کے فریم پر ٹویوٹا کار کی باڈی رکھ دی جائے تو نہ صرف بات نہیں بنے گی بلکہ دیکھنے والے بھی احمق کہیں گے۔کیونکہ جو فریم جس کیلئے بنا یا گیا اُسی پر اُس کی باڈی اچھی لگے گی کیونکہ وہ اُس کے مطابق ہی بنائی گئی ہے۔

یہ بات کہہ کر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو مسیحی نظریہ الہام ہے وہ کسی دوسرے کا نہیں۔ اور یہ سمجھنا کہ جیسا ہمارا نظریہ الہام ہے ویسا ہی اہلِ کلیسیا کا ہوناچاہئے تھا درست اور مناسب نہیں۔یہ گویا ایسا ہی ہے کہ آپ ٹرک کے فریم  کی باڈی کی جگہ کار کی باڈی رکھ رہے ہیں اور یہ آپ کی بھول ہے۔اسی طرح اگر کوئی مسلمان دوست اس طرح کی سوچ کا حامل ہو تو اُسے بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ  جو اسلامی نظریہ الہام ہے وہ باقیوں کا نہیں ہے۔اس سبب سے آپ اپنے نظریات کو اہلِ کلیسیا پر لاگو نہیں کر سکتے یعنی آپ اسلامی نظریہ الہام کی باڈی مسیحی نظریہ الہام کے ٹرک کی باڈی پر نہیں رکھ سکتے کیونکہ ہم دونوں  کے الہام کے بارے میں نظریات فرق ہیں۔اس کی ایک اور مثال بھی ہے کہ اگر ابا حضور کو پانچ سالہ بچے کی جوتی پہننے کیلئے دی جائے اور یہ کہا جائے کہ اُنہیں فِٹ کیں نہیں آتی تو پھر واقعی ہمیں نفسیاتی ہسپتال کی ایمرجینسی میں پہنچا دیا جائے۔یہ جوتی کا کوئی قصور نہیں بلکہ  ضعیف سوچ اور دماغ کا ہے۔

آپ کے سوال کے کئی ایک اجزا ہیں اور میں اُن کو الگ الگ دیکھتا ہوں اور ان پر بات کرنے سے میرے قارئین کی بہتر طور پر مدد ہو گی۔پہلی بات تو یہ ہے کہ انجیلِ مُقدّس ایک ہی ہے۔پورے عہدِ جدید کا مضمون ہی انجیلِ مُقدّس ہے۔انجیل کے معنیٰ خوشخبری کے ہیں اور یہ خوشخبری سارے جہان کے لوگوں کیلئے ہےکہ‘‘مسیح کتابِ مُقدّس کے مطابق ہمارے گناہوں کیلئے مر گئے، دفن ہوئے اور تیسرے دِن کتابِ مُقدّس کے مطابق جی اُٹھے(1کرنتھیوں 15: (3-4یہ انجیل یعنی خوشخبری چار گواہوں کے وسیلہ سے تحریر ہوئی جن کے نام متی، مرقس، لوقا اور یوحنا ہیں۔اس کے علاوہ عہدِ جدید میں جو باقی 23 کتب ہیں وہ خُدا کا مہلم کلام ہے۔یہ اُن واقعات کا ذکر ہے کہ جب انجیل سُنائی گئی تو کیسے نتائج برآمد ہوئے۔مسیحا کی تعلیم دینے سے کیا ہوا اور یسوع نام کے وسیلہ سے کیا کُچھ ہوا، مومنین کا غیر مسیحیوں کے وسیلہ سے ستایا جانا اور زمانہ آخر کے نشانات ملتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ خُدا نے یہ پسند کیا کہ ان باتوں کو بھی الہام کے ذریعہ سے لکھوایا جائے تاکہ ایماندار مضبوط ہو سکیں اور ہر ایک نیک کام کے کرنے کیلئے تیار ہو جائیں۔

میں حرفِ آخر کے طور پر یوں کہوں گا کہ ساراعہدِ جدید‘‘انجیلِ مُقدّس’’ ہی ہے۔کیونکہ عہدِ جدید کے ہر سپارے(کتاب) میں خوشخبری ہی کے بارے میں تعلیم مِلتی ہے۔اس خوشخبری کے علاوہ اور کُچھ بھی نہیں ہے۔یہاں تک کہ پولس رسول فرماتےہیں کہ اگر کوئی اس کے علاوہ کوئی اور خوشخبری سُناتا ہے تو وہ ملعون ہے۔میں وں کہہ رہا ہوں کہ پورا نیا عہدنامہ انجیلِ مُقدّس ہے۔اگر آپ شروع کا وہ صفحہ نکالیں جہاں انجیلِ مُقدّس لکھا ہوا ہے۔آپ کو خود ہی معلوم ہو جائےگا کہ وہاں انجیلِ مُقدّس ہی لکھاہوا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ یہاں سےانجیلِ مقدس شروع ہوتی ہے۔میں اس سے بڑھ کر اور کوئی جواب نہیں دے سکتا۔خُداوند ہم سب کو اپنا فہم عنایت فرمائے کہ اُس کے کلام کے عمیق بھیدوں کوپاک روح کی قُدرت کے وسیلہ سے جان سکیں۔آمین۔

 فردوس میں جانے والی راہ ہے یا راہیں؟