|
سوال نمبر47
ملاکی4:5-6نبوّت
ہےکہ میں ایلیاہ نبی کوتمہارے پاس بھیجوں گا۔متی17:9-13؛مرقس9:9-13؛لوقا1:17میں
یسوع نے فرمایا کہ ایلیاہ آ چُکا۔اب جو ایلیاہ آ چُکا ہے وہ کون
ہے؟کیونکہ یوحنا ایلیاہ ہونے کا انکا کرتا ہے(یوحنا
1:19-28)۔
جواب
جی ہاں عہدِ عتیق میں یہ نبوّت ہے کہ خُداوند کےروزعظیم
سے پیشتر ایلیاہ نبی آئے گا۔یسوع مسیح نے کہاکہ ایلیاہ آ چُکا ہے۔جب ہم
مزید آگے بڑھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ مسیح یسوع نے یوحنا اصطباغی کے
بارے میں یہ فرمایا کہ چاہو تو مانو ایلیاہ یہی ہے۔ اب سوال یہ پید
اہوتا ہے کہ کیا یوحنا نے یہ قبول کیا کہ میں ایلیاہ ہوں؟ جی نہیں!
یوحنا نے ایلیاہ ہونے سے انکار کیا۔ تو پھر یسوع مسیح کے یہ کہنے کا
کیا مطلب تھا کہ ایلیاہ آ چُکا؟
اصل حقیقت یہ ہے کہ ملاکی نبی کی نبوّت کے مطابق جس
ایلیاہ کی یہاں پر بات ہو رہی ہےاُس ایلیاہ کوآ کرآنے والے مسیحا کیلئے
لوگوں کے دِلوں کو تیار کرنا تھا۔اَب یہاں پر نبوّت اُس ایلیاہ نبی کی
ذات سے متعلق نہیں جس کا عہدِ عتیق میں ذکر ہوا ہےاور تشبی کا رہنے
والا تھا اور جسے خُدا نے آسمان پر اُٹھا لیا تھا بلکہ یہاں یوحنا بن
ذکریاہ کی بات ہو رہی ہے جو یسوع مسیح کی آمد سے پیشتراُس کیلئے راہ
تیار کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایلیاہ آیا مگر یوحنا کے رُوپ میں
آیا۔جو ایلیاہ کی خوراک تھی وہی یوحنا کی تھی۔جو ایلیاہ کا لباس تھا
وہی یوحنا کا تھا۔ جو ایلیاہ کرتا تھا اور جو اُسے کرنا تھا وہی یوحنا
نے کیا۔ایلیاہ نے بھی بیابان میں منادی کی اور یہاں یوحنا بھی بیابان
میں منادی کرتا ہے۔
یوحنا کوتوآسمان کے بارے میں معلوم ہی نہیں تھا کہ میں
وہی
ایلیاہ ہوں اورنہ ہی یوحنا نےاس بات کے بارے میں کوئی دعویٰ کیا بلکہ
یہ یسوع مسیح کی بات ہےجو وہ یوحنا کے بارے میں کرتےہیں۔تو مختصریہ کہ
یہاںشخصیت کے اعتبار سےایلیاہ کے آنے کی بات نہیں ہو رہی بلکہ کام اور
کردارکےحوالے سےہورہی ہے۔ لہٰذایہاں پرایلیاہ یوحنا بپتسمہ دینے والا
ہی ہے۔اس کےعلاوہ اور کوئی شخصیت نہیں ہے۔
متی
17: 9-13میں
شاگرد جان گئے تھے کہ وہ ایلیاہ اصل میں یوحنا ہی ہے۔یسوع مسیح نے بھی
فرمایا کہ چاہو تومانو ایلیاہ آ چُکا اوروہ یہی ہے۔متی
17:9-13کا
ضرورمطالعہ فرمائیں۔ خُداوند آپ کو برکت بخشے(آمین)۔
مریم کے شوہر یوسف کا باپ عیلی تھا یا یعقوب تھا؟
|