سوال نمبر 49

خُدا کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا)یوحنا 1:8) اُنہوں نے اسرائیل کے خُدا کو دیکھا(خروج24:10؛ 17؛ 19) بھی ضروری ہے۔اب دونوں میں سے کونسا بیان درست ہے کیونکہ دونوں حوالہ جات میں تضاد پایا جاتا ہے۔

جواب

مناسب جواب دینے کیلئے انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ میں مندرجہ بالا حوالہ جات کو آپ کی خِدمت میں تحریر کروں۔

(خروج24:10؛ 17؛ 19)‘‘اور اُنہوں نے اسرائیل کے خُدا کو دیکھا….اور بنی اسرائیل کی نگاہ میں پہاڑ کی چوٹی پر خُدا وند کے جلال کا منظر بھسم کرنے والے آگ کی مانند تھا۔اور موسیٰ گھٹا…….’’۔

)یوحنا 1:8)‘‘خُدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا۔اکلوتا بیٹا جو باپ کی گود میں ہے اُسی نے ظاہر کیا’’۔

 

بائبل مُقدّس میں کئی مقامات پر وہ مجازی معنیٰ میں ہمیں سمجھانے کیلئے استعمال ہوئی ہے۔اگر مکاشفہ کی کتاب یا حزقی ایل اور دانی ایل کی کتب میں دیکھا جائے تو ایسی کئی باتیں ہیںجو اصطلاحی، استعاراتی یا مجازی معنیٰ میں استعمال ہوئی ہیں۔جو اصطلاحی زبان ہوتی ہے اُس سے ہمیشہ حقیقی معنیٰ اُخذ نہیں کئے جاتے۔لہٰذا ان حوالہ جات میں جہاں خُدا کو دیکھنے کا جُملہ استعمال ہوا وہاں اس کا یہ مطلب ہر گِز نہیں کہ خُدا میری اور آپ کی طرح ہے جو دیکھا جا سکتا ہے۔

باغِ عدن میں ہی خُدا نے انسان سے اپنے چہرہ پھیر لیا تھا اور ہم وہ مقام گنوا بیٹھے تھے کہ جب ہم آدم میں ہو کر خُدا سے باتیں کیا کرتے تھے۔انسان نے ہر مُمکن طریقے سے کوشش کی کہ وہ کسی طرح سے دیدارِ اِلٰہی حاصل کر سکے لیکن ناکام رہا۔حضرتِ موسیٰ بھی دیدارِ اِلٰہی کے آرزو مند تھے لیکن اس شرف سے وہ بھی محروم ہی رہے۔پولس رسول بھی اُسے نہ دیکھ پائے۔ یوحنا عارف بھی اُس روحانی شبیہ کے قدموں میں گِر جاتے ہیں کیونکہ اُسے دیکھنے کیلئے وہ آنکھیں ہی نہیں تھیں  جن سے وہ خُدا کو دیکھ سکتے۔اگرچہ شاعرِ مشرق علامہ اقبال بہت دیر بعد آئے لیکن لگتا ہے کہ وہ ساری نسلِ انسانی کے دِل کی بات کرتے ہوئے خُدا سے مخاطب ہوتے ہوئے اُس سے درخواست کرتے ہیں کہ …….

کبھی اے حقیقتِ مُنتظر نظر آ لباسِ مجاز میں…….. کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تیری جبینِ نیاز میں

میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہرزمانہ کے لوگ خُدا کو دیکھنے کے آرزُو مند رہے ہیں۔اور بالآخر خُدا لباسِ مجاز میں  انسان کو اپنا دیدار کروانے آ جاتا ہے۔ اسی لئے تو یہ کہا گیا کہ‘‘خُدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا۔اکلوتا بیٹا جو باپ کی گود میں ہے اُسی نے ظاہر کیا’’ (یوحنا 1:18)۔ہم حضور المسیح میں خُدا کو دیکھتے ہیں کیونکہ الوہیت کی ساری معموری اُن ہی میں مجسّم ہو کرسکونت کرتی ہے۔حضورالمسیح نے بذاتِ خود بھی فرمایا کہ جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھااور اس طرح کا دعویٰ کِسی دُوسرے نے نہیں کیا۔لہٰذا سوال میں پائےجانے والے دُونوں حوالہ جات درُست ہیں۔کیونکہ اگر آپ کو تضاد نظر آتا ہے تو پھر دونوں حوالہ جات میںعرصہ کو بھی دیکھیں۔اُمید کرتا ہوں کہ یہ قلیل سا جواب ہمارے سمجھنے کیلئے کافی ہو گا۔خُدا وند آپ کو برکت بخشے۔آمین)۔

 وبا سے کتنے لوگ مر گئے؟ 23000یا 24000