سوال نمبر 51

خُدا تاریکی میں ہے یا نُور میں؟

ذیل میں پائے جانے والے دو حوالہ جات میں تضاد پایا جاتا ہے۔اگر بائبل کلام اللہ ہے تو پھر اس میں تضاد کیوں؟یہ دو حوالہ جات1سلاطین 8:12؛ اور1تیمتھیس6:16 ہیں۔جواب کی وضاحت مطلوب ہے۔ 

جواب 

 میرے دوست اس سے قبل کہ اس سوال کا جواب دیا جائے میں وہ کام کرنا چاہتا ہوں جو ٲپ نہیں کر پائے بلکہ آپ کے بڑے بھی وہ کام نہیں کرتے۔وہ کام پورا حوالہ بمع سیاق و سباق پڑھنا ہے۔میں یہاں پر قارئین کی آسانی کیلئے ان دو ٲیات کو لکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔

 

1سلاطین 8:12‘‘تب سلیمان نے کہا کہ خُداوند نے فرمایا تھا کہ وہ گہری تاریکی میں رہے گا’’۔

 

1تیمتھیس6:16‘‘بقا صرف اُسی کو ہے اور وہ اُس نُور میں رہتا ہے جس تک کسی کی رسائی نہیں ہو سکتی۔نہ اُسےکسی انسان نے دیکھا اور نہ ہی دیکھ سکتاہے۔اُس کی عزت اور سلطنت ابد تک رہے۔آمین۔

 

ایسے لوگ جو طالبِ علم کی روح نہیں رکھتے بلکہ نفسانی اور جسمانی ہیں  وہ خُدا کے رُوح کی تہہ کی باتیں سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ صرف متضاد الفاظ سے کھیلتے ہیں اور اُن کو چُن کر ایشو بنا لیتے ہیں اور ایسے لوگوں کی پاک و ہند کی سرزمین میں کمی نہیں رہی اور نہ ہی اب ہے۔دانشمند لوگوں کیلئے یہ کوئی بڑا پہاڑ نہیں ہے۔ جو اہلِ دانش نہیں وہ صرف لفظوں سے کھیلتے ہیں۔اُن کا کام ہی لوگوں کے جزبات سے کھیلنا ہے اور ایسے لوگ خُدا کی طرف سے نہیں  بلکہ اُس کی مخالف فوج کی طرف سے ہوتے ہیں۔

 

حقیقت تو یہ ہے کہ سیاق و سباق کے مطابق ان  حوالہ جات میں کوئی تضاد نہیں۔ بلکہ دونوں ہی درست ہیں اور میں یہاں پر جواب کی وضاحت پیش کرنا چاہوں گا۔جیساکہ سوال کرنے والے دوست نے حکم کیا ہے ان دونوں حوالہ جات میں دو مختلف باتیں ہیں۔

 

سلاطین والے حوالہ میں حضرتِ سلیمان اُس وقت کا ذکر فرما رہے ہیں کہ جب خُدا کوہِ حورب پر سے  حضرتِ موسیٰ سے مخاطب ہوا اور شریعت دی جس میں  دس احکام بھی شامل ہیں۔تورات کی کتاب اور دیگر حوالہ جات میں لکھا ہو اہے کہ خُدا کو کوئی بھی دیکھ نہیں سکتا کیونکہ انسان میں اُس نُور کے دیکھنے کی تاب ہی نہیں۔یہی وجہ تھی کہ خُدا نے اپنے ٲپ کو حضرتِ موسیٰ پر ایک گھٹا میں ظاہر کیا۔اس کیلئے میں یہاں پر پوری پوری ٲیات لکھنے سے رہا لیکن اگر ذوقِ مطالعہ ہے تو وقت کی قربانی دیں اور ذیل میں پیش کئے گئے دو تین حوالہ جات کا مطالعہ فرمائیں(خروج 19:25-16؛ خروج 40:34؛ اور2سیموئیل 22:10۔اگرچہ میں کئی حوالہ جات پیش کر سکتاہوں لیکن ٲپ کی روحانی صحت کیلئے یہی کافی ہوں گے۔یہ گہرے بادل اور کالی گھٹا اُس وقت خُدا کی حضوری کو پیش کر رہے تھے۔لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ خُدا ہمیشہ کالی گھٹا میں ہی رہتا ہے۔خُدا نے اپنے ٲپ کو مختلف طریقوں سے مُختلف اشخاص پر ظاہر فرمایا۔ یاد رکھیں کہ کالی گھٹا یا تاریکی سے یہاں مراد گہرے بادل ہیں۔

 

اب میں دوسرے حوالہ کی طرف ٲتا ہوں جو تیمتھیس کا ہے۔سیاق و سباق دیکھیں کہ حضرتِ پولس  یہاں پر کیا فرمارہے ہیں۔یاد رکھیں کہ بائبل مُقدَس میں نُور خُدا کے جلال کو ظاہر کرتا ہے۔نُور سے مراد راستبازی اور پاکیزگی ہے۔پولس رسول یہاں پر اس بات پر سے پردہ اُٹھا رہے ہیں کہ جب مومنین دُنیاکی طرف سے منہ پھیر کر خُد اکی طرف رجوع لاتے ہیں تو اُس کے بعد وہ تاریکی میں نہیں بلکہ وہ نور میں ہوتے ہیں۔وہ ایمانداروں کو نصیحیت فرما رہے ہیں کہ اب تو تُم نُور میں ہو اور اُس خُدا کے پیرو کار ہو گئے ہو جو سراپا نُور ہے۔وہ نور میں رہتا یعنی نُور کو پسند کرتا ہے۔ آسان لفظوں میں اس سے مراد یہ ہےکہ مسیحی مومنین جب خُدا کے پیروکار ہو چلے تو  پھر وہ کام کریں جو خُد اکو پسند ہیں۔

 

قِصَہ المختصر یہ کہ دُونوں حوالہ جات دو مُختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہیں ان میں سے کوئی  بھی غلط نہیں اور ان میں کسی طرح کا کوئی تضاد نہیں ۔ خُد اکی حضوری ہر جگہ ہے چاہےتو وہ نُور میں رہے چاہے تو تاریکی میں  رہے۔ یہ  اُس کی مرضی ہے۔خُدائے لامحدود کو اپنے محدود ذہن سے سمجھنے کی کوشش نہ کریں۔پھر بھی اگر اُس کو قید کر سکتے ہیں تو کر لیں لیکن  ابھی تک کوئی ایسا ماں کا لا ل اس دھرتی کے سینہ پر  پیدا نہیں ہوا  جس نے ایسا کرنے کا دعویٰ کیا ہو۔براہِ کرم زبور 139 کی تلاوت ضرور فرمالیں۔اُمید کرتا ہوں کہ یہ جواب آپ کیلئے کافی ہو گا۔خُدا آپ کو اپنی طرف سے دانش و حکمت  سے سرفراز فرمائے، آمین۔

کیا خُدا کو بھی ٲرام کی ضرورت ہے؟

back to top

 
     

Home | About Us | Vision & Mission | Courses Available | What We Believe | Testimonies | Photo Gallery | Contact Us

Copyright © 2009, NEW LIFE INSTITUTE. All rights reserved.