سوال نمبر
52
کیا خُدا کو بھی
ٲرام
کی ضرورت ہے؟
کیا
خُدا کو بھی آرام کی ضرورت ہے؟ بائبل میں تضاد کی ایک اور مثال دیکھنے
کیلئے ان دو حوالہ جات کا مطالعہ کریں(یسعیاہ
40:28؛
خروج31:17)اہلِ
کلیسیا ان سوالات کے جوابات دیں۔
جواب
میرے دوست
ٲپ
کے سوال کا کیا
ٲپ
کے سوالات کی بھرمار کے جوابات دینے کیلئے فی الحال ایک ہی سپوت اور
غیَور خُدا کا غیَور خادم کافی ہے۔اہلِ کلیسیا کو للکارنا بعد کی بات
ہے۔مجھے ایسے لوگوں پر ہنسی بھی
ٲتی
ہے اور ترس بھی
ٲتا
ہے جن کی زِندگی کا گول ہی یہی ہے کہ کُتبِ سماویہ کو قبول نہ کرنے
کیلئے اُن پر الزام تراشی کی جائے۔یہ ماننا کہ وہ خُدا کا کلام ہے اور
پھر اُن کو رَدَ بھی کرنا یعنی اُن پر ایمان نہ لانا میرے دوست کہاں کا
انصاف اور یہ کیسی ایمانداری ہے؟
بہرحال جس سوال کی گھنٹی آپ نے میرے گلے باندھی ہے اب میں اُسے بجانے
کی کوشش کرتا ہوں۔آپ نے دو حوالہ جات پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش
کی کہ بائبل مقدَس میں تضاد پایا جاتاہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی جوابات
میں مشورہ دیتاآیا ہوں ، اچھا ہوتا کہ
ٲپ
ان حوالہ جات کو بمع سیاق و سباق پڑھ لیتے۔تاہم میں آپ کی مدد کیلئے ان
حوالہ جات کو یہاں پر تحریر کر دیتا ہوں تاکہ آپ کی طرح کے کئی اور
لوگوں کا بھی فائدہ ہو سکے۔
خروج31:17‘‘میرے
اور بنی اسرائیل کے درمیان یہ ہمیشہ کیلئے ایک نشان رہے گا، اس لئے کہ
چھ دِن میں خُدووند نے آسمان اور زمین کو پید اکیا اور ساتویں دِن آرام
کر کے تازہ دَم ہوا‘‘۔
یسعیاہ
40:28‘‘کیا
تُو نہیں جانتا؟ کیا تُو نے نہیں سُنا کہ خُداوند خُدائے ابدی و تمام
زمین کا خالق تھکتا نہیں اور وہ ماندہ نہیں ہوتا؟’’۔
پہلے حوالہ میں خُدا اور حضرتِ موسیٰ کے درمیان ہونے والی گُفتگو ہے۔
جس میں خُدا بنی اسرائیل کو شریعت کی پابندی کرنے کا حکم دے رہا ہے۔اُن
میں سے ایک حکم یہ تھا کہ قوم بنی اسرائیل ہفتے کے دِن کو بطورِسبت
مانےاور اس دِن اُنہیں خُدا کی حضوری میں وقت گُزارنا یعنی دُعا اور
عبادت کرنا تھا۔خُدا نے اُنہیں بتایا کہ اگر میرا حکم مانو گے تو کیا
ہو گا اور اگر نہیں تو پھر کیا ہو گا۔اس کا تعلق خُدا کی فرمانبرداری
کرنے یا نہ کرنے سے تھا۔خُدا اُن کی فرمانبرداری دیکھنا چاہتاتھا۔ ایسا
کرنے کیلئے خُدا نے بذاتِ خود اُنہیں نمونہ دیا کہ میں نے چھ دِن میں
کائنات بنائی اور ساتویں دِن
ٲرام
کیا۔خُدا پَل بھر میں یہ سب کُچھ بنا سکتاتھا لیکن یہ صرف ہمارے لئے
ایک مثال یا نمونہ ہے۔خُدا بشر نہیں کہ اُسے کمر سیدھی کرنا پڑے۔ایسا
ہر گِز نہیں بلکہ یہ مذہبی فرمانبرداری کرنے کی ایک مثال ہے۔
دُوسری طرف ہم جانتے ہیں کہ انسانی مشین کو دیگر مشینوں کی طرح
ٲرام
کی ضرورت ہوتی ہے۔ہر مشین کو کُچھ
ٲرام
دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ہم اس بدن سے زیادہ کام لیتے اور اس کو
آرام
نہیں دیتے تو یہ بھی بگڑ جائے گا۔لہٰذا ضروری ہے کہ ہمارا بدن تازہ دَم
ہو اور پھر وہ کام کیلئے بالکل تیار ہو جائے۔یہ اُصول خُدا نے بذاتِ
خود قائم کیا ہے۔
دُوسرے حوالے میں قوم بنی اسرائیل پر
ٲنے
والی مصائب کا ذکر ہو رہا ہے اور یہاں پر یعقوب سے مراد اولادِ یعقوب
ہے جو بنی اسرائیل ہے۔ خُدا نبی کی معرفت اُن کو حوصلہ دے رہا ہے کہ
خُدا تمہاری مصائب و تکالیف سے بے خبرنہیں وہ سب کُچھ جانتاہے اور وہ
نہ تو سوتا ہے اور نہ ہی اونگھتا ہے اور نہ ہی تھکتا ہے۔وہ سمیع
البصیرو سمیع العلیم ہے۔اُس کو پکارو تاکہ وہ تمہیں جواب دے۔وہ انسان
کی طرح نہیں کہ تھک ہار کر مایوسی کے عالم میں پریشان ہو جائے۔
حَرفِ
ٲ
خر کے طور پر یہ کہ پہلے حوالہ میں خُدا انسان کو بذاتِ خود نمونہ دے
رہا ہے کہ وہ انسانی جسم کو
ٲرام
دے اور پھر وہ اپنا دِن خُدا کی عبادت میں گُزارے اور دُوسرے حوالہ
میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ خُدا کو
ٲرام
کی ضرورت نہیں اور اس بات کی پہلے حوالہ میں بھی نفی نہیں بلکہ تصدیق
کی جا رہی ہے۔خُدا رُوح ہے اور اُس کا ہماری طرح جسم نہیں۔ اگرچہ شئی
القدیر ہونے کے سبب سے وہ ایسا بھی کر سکتاہے لیکن جو انسان کی ذاتی
ضروریات ہیں وہ خُدا کی ضروریات نہیں۔خُدا کو جب چاہو پکارو وہ جواب
دینے کیلئےہمہ وقت تیار رہتا ہے۔اس کیلئے چاہیں تو یرمیاہ
33:3
بھی پڑھ لیں۔عموماً میں اس حوالہ کو خُدا کا سیل فون نمبر بھی کہتاہوں
جہاں لکھا ہے ‘‘کہ مجھے پُکارو تو میں تمہیں جواب دوں گا اور بڑی بڑی
اور گہری باتیں جن کو تُو نہیں جانتا تُجھ پر ظاہر کروں گا’’۔اُمیدِ
واثق ہے کہ یہ جواب کافی ہو گا لیکن اگر پھر بھی کُچھ تشنگی رہ گئی ہے
تو میری دُعا ہے کہ خُداوندِ کریم جو دانش و حکمت کا منبع ہے
ٲپ
ہی
ٲپ
کے ذہن کو تسلیَی پانے کیلئے کھولے(آمین)۔
یسوع
نے بیت عنیاہ سے صعود فرمایا یا کوہِ زیتون سے؟
back to top