سوال نمبر53
یسوع نے بیت عنیاہ سے صعود فرمایا یا کوہِ زیتون سے؟
بائبل میں پائے جانے والے ایک اور تضاد کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے ِایک
مقام پر لکھا ہوا ہے کہ یسوع کوہِ زیتون سے صعود فرمایا(اعمال
1:-9
12)
جب کہ دُوسری جگہ پر لکھا ہو اہے کہ یسوع بیت عنیاہ سے صعود فرمایا)لوقا
24:-50
51)
اب دونوں میں سے کونسا درست ہے؟
جواب
بیت
عنیاہ کوہِ زیتون کے دامن میں جنوب مشرق میں واقع ہے۔دُونوں کے درمیان
کوئی بڑا فاصلہ نہیں۔ لہٰذا ان میں سے کوئی بھی بیان غلط نہیں، دُونوں
ہی درست ہیں۔جو غور طلب بات ہے وہ یہ ہے کہ مصنَف کے ذہن کو پڑھا جائے
کہ وہ کس پیرائے میں بات کر رہا ہے اور اُس کے ذہن میں اُس وقت کیا
ہے۔اعمال کی کتاب کے اس حوالہ میں کوہِ زیتون کا خصوصی طور پر ذکر
ٲیا
ہے اور جو بات ہو رہی تھی اُس کے مطابق کوہِ زیتون کا ذکر کرنا بھی
ضروری تھا۔جب کہ لُوقا والے حوالے میں سر سری طور پر بات ہو رہی
ہے۔لوقا طبیب نے یہاں زیادہ تفصیل میں جانا ضروری نہیں سمجھا۔بلکہ اُس
نے اس واقع کا بیان کرنا ضروری سمجھا تھا اور یہ کہ یسوع جلال میں
آسمان پر صعود فرمایا۔یہی سبب ہے کہ سرسری طور پر بات کرتے ہوئے اُس نے
بیت عنیاہ کا ذکر کیا۔مناسب ہو گا کہ دونوں حوالہ جات کو سیاق و سباق
کیساتھ پڑھ لیں۔
اس
کی ایک مثال یہ بھی ہو سکتی ہے۔فرض کریں کہ میں راولپنڈی کا رہنے والا
ہوں اور جب میں کراچی جائوں اور کوئی مُجھ سے یہ پوچھے کہ ‘‘بھائی کہاں
رہتے ہیں’’ تو میں راولپنڈی کا ذکر کروں گا۔حالانکہ
ٲپ
جانتے ہیں کہ راولپنڈی کوئی چھوٹا سا شہر نہیں ہے۔لیکن اگر میں
راولپنڈی میں ہی ہوں اور کوئی مُجھ سے یہ پوچھے کہ جناب
ٲپ
کہاں رہتے ہیں تو میں کہوں گا کہ ‘‘شمس آباد’’۔اور جب میں شمس آباد میں
ہوں اور کوئی مجھ سے وہی سوال پوچھے تو جواب مُختلف ہو گا۔اب میں گلی
نمبر یا مکان نمبر یا قریب کے کسی اسٹور وغیرہ کے بارے میں بتائوں
گا۔جواب کا دارو مدار اس بات پر ہےکہ ‘‘آپ اس وقت کہاں ہیں’’۔ڈاکٹر
لُوقا کی معرفت لکھی گئی انجیل اور اعمال کی کتاب بھی جو ڈاکٹر لوقا ہی
کی تصنیف ہے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ان کے لکھے جانے کے وقت ڈاکٹر
لوقا کہاں تھے۔اُمَید کرتا ہوں کہ اس مثال کے ذریعے جواب کے سمجھنے میں
مزید آسانی پیدا ہو گئی ہو گی۔خُداوند آپ کو اپنی اَن گَنت برکات سے
ہمکنار فرمائے، آمین۔
حضرتِ
پولس کے ساتھیوں نے آواز سُنی کہ نہیں؟
back to top