|
سوال نمبر
54
حضرتِ پولس کے ساتھیوں نے آواز سُنی کہ نہیں؟
عیسائیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ انجیل کو کسی نے نہیں بدلا۔ ذیل میں ایک
اور تضاد پیشِ خدمت ہے۔ذرا غور فرمائیے گا۔ایک مقام پر لکھا ہے کہ
جواب
میرے بھائی اور بہن! پہلے تو میں یہ عرض کر دوں کہ ہم مسیحی لوگ ہیں
اور ہم کسی عیسائی وسائی کو نہیں جانتے۔ میں نے بھی سُنا کہ کوئی
عیسائی لوگ ہیں لیکن میرے خیال میں وہ مسلمان دوست ہیں ۔اس کی وجہ یہ
ہے کہ اہلِ کلیسیا مسیحی جماعت ہے اور وہ حضور المسیح کے پیروکار
ہیں۔انجیل شریف میں کسی عیسیٰ کا ذکر نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہم کسی
عیسیٰ کو مانتے بھی نہیں کیونکہ ہم اُنہیں جانتے بھی نہیں ہیں۔لیکن
چونکہ اہلِ اسلام کے کوئی حضرتِ عیسیٰ ہیں جنہیں وہ مانتے ہیں اس سبب
سے میں اُن کو عیسائی کہتا ہوں۔ وہ خودکہتے ہیں کہ ہمارا حضرتِ عیسیٰ
پر ایمان ہے۔اگرچہ میں اُن کے حضرتِ عیسیٰ کو نہیں جانتا تو بھی میں
اُن کی عزت و احترام اور تعظیم کرتا ہوں۔یہ تو آپ کے سوال میں سے سوال
نِکلا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس بات کی تصحیح کرتا چلا جائوں۔
مستقبل میں میں بتایا جائے گا کہ حضرتِ عیسیٰ اور یسوع مسیح ایک ہی
شخصیت ہیں یا دو مختلف شخصیات ہیں۔
اب میں آپ کے اصل سوال کے جواب کی طرف آتا ہوں۔ سوال کے جواب کو بہتر
طور پر سمجھنے کیلئے اچھا ہو گا کہ ان حوالہ جات کو آپ کی خدمت میں
یہاں پر تحریر کر دوں کیونکہ عین ممکن ہے کہ میرے کئی ایسے بھی قاری
ہوں جن کے پاس انجیل شریف ہی نہ ہو اور ان حوالہ جات کے وسیلہ سے اُن
کی مدد ہو جائےگی۔
اعمال
9:7‘‘جو
آدمی اُس کے ہمراہ تھے وہ خاموش کھڑے رہ گئے کیونکہ آواز سُنتے تھے
لیکن کسی کو نہ دیکھتے تھے’’۔
اعمال
22:9‘‘اور
میرے ساتھیوں نے نُور تو دیکھا لیکن جو مُجھ سے بولتا تھا اُس کی آواز
نہ سُنی’’۔
اعمال
26:14‘‘جب
ہم سب زمین پر گِر پڑے تو میں نے عبرانی زبان میں یہ آواز سُنی کہ اے
سائول اے سائول تُو مجھے کیوں ستاتا ہے۔پَینے کی آر پر لات مارنا تیرے
لئے مُشکل ہے’’۔
ایک اعتراض تو یہ کہ ایک حوالہ میں لکھا ہے کہ پولس کے ساتھی آواز
سُنتے تھے جبکہ دُوسرے میں لکھاہو اہے کہ وہ آواز نہیں سُنتے تھے۔
دُوسرا اعتراض یہ کہ ایک حوالہ میں لکھا ہے کہ اُنہوں نے نُور کو دیکھا
جب کہ دُوسرے حوالہ میں لکھا ہو اہے کہ وہ کسی کو نہ دیکھتے تھے۔
حضور بات یہ ہے کہ اس واقعے میں خُدا جہاں کسی جنونی شخص کی زِندگی
میں انقلاب لاتا ہے وہاں خُدا صرف اُسی شخص سے گُفتگو کر رہا اور اُسی
پر ظاہر ہو رہا ہے،کیونکہ خُدا کے منصوبہ میں اس وقت یہی شخص تھا جس کا
نام سائول تھا۔دُوسرے لوگ ا س وقت اُس کے منصوبہ میں نہیں تھے یعنی وہ
جو سائول کے ساتھ تھے۔لیکن ایک بات ضرور ہے کہ وہ اس بات کے عینی شاہد
ہیں کہ یہ کوئی معمولی واقع نہیں ہوا۔ اعمال
9:7میں
لکھا ہے کہ وہ آواز سُنتے تھے جبکہ اعمال
22:9
میں آواز نہ سُننے کا بیان ہے۔میں یہاں پر پھر وہی بات کروں گا کہ خُدا
سائول سے بات کر رہا تھا اور کسی سے نہیں کر رہا تھا۔خُدا اس وقت صرف
اُسی سے مخاطب تھا۔اُنہیں آواز ضرور سُنائی دے رہی تھی لیکن سمجھ نہیں
آ
رہی تھی۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے میں اور آپ بات کر رہے ہوں اور
بعض اوقات آواز تو ہمیں آ رہی ہوتی ہے لیکن سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ
معاملہ کیا ہے یا کیا بات ہو رہی ہے۔ کیا آپ نے دورانِ گُفتگو کبھی کسی
سے نہیں سُنا کہ ‘‘کیا فرمایا یا کیا کہا’’۔موبائل فون پر ایسا تجربہ
اکثر ہوتا ہے کہ کُچھ آواز سی سُنائی دے رہی ہوتی ہے لیکن سمجھ نہیں آ
رہی ہوتی کہ کہنے والا کیا کہہ رہا ہے۔اسی طرح سائول کے ساتھی بھی سمجھ
نہیں پا رہے تھے کہ کیا بات ہو رہی ہے۔ یہ آپ کے سوال کے پہلے حصہ کا
جواب ہے۔
آپ
کے سوال کا دُوسرا حصہ یہ ہے کہ ایک حوالہ میں ہے کہ اُنہوں نےنُور کو
دیکھا جبکہ دُوسرے حوالے میں لکھا ہے کہ وہ کِسی کو نہ دیکھتے تھے۔جواب
یہ ہے کہ نُور کے دیکھنا بشر کے بَس کی بات نہیں لیکن روشنی کے دیکھنے
کا تجربہ ہو سکتا ہے۔جہاں تک میرے علم کی بات ہے میں نے کہیں بھی نہیں
پڑھا کہ نُور کا بھی کوئی دیدنی جسم ہوتا ہے۔حضرتِ موسیٰ بڑے بیتا ب
تھے کہ ذاتِ اِلٰہی کا دیدار حاصل کریں لیکن جواب آتا ہے کہ موسیٰ تو
میر اجلال(جلوہ) تو دیکھ سکتاہے لیکن میرا دیدار حاصل نہیں
کرسکتا۔لہٰذا حضرتِ موسیٰ نے دیدارِ نُور تو کیا لیکن کوئی صُورت و
شبیہ دیکھنے میں نہیں آئی۔
اِسی طرح جب میں اس سوال کے جواب کی بات کرتا ہوں تو اُنہیں وہ نُور
یا روشنی سی تو نظر آئی لیکن اُس روشنی میں کوئی صُورت یا شبیہ نہیں
دیکھ پا رہے تھے۔ہمارے لئے یہ سوال اس لئے پید اہوتا ہے کیونکہ ہم
ہمیشہ کوئی دیدنی چیز دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ کُلیہ خُدا پر فِٹ نہیں
آتا۔حاصل کلام یہ ہے کہ اُنہوں نے کُچھ دیکھا تو سہی لیکن یہ واضح نہیں
تھا کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں۔دُوسرے حوالہ میں یہ بات واضح ہے کہ اُنہوں
نے نُور دیکھا۔ تو بھئی صاف ظاہر ہے کہ نُور کی کوئی صُورت نہیں ہوتی
جس سبب سے پہلے حوالے کے مطابق وہ کُچھ نہ دیکھ پائے۔
میں اُمید کرتا ہوں کہ اس سوال کے جواب کے سبب سے آپ کا گھر پُورا ہو
ہی گیا ہو گا۔میری دِلی دُعا ہے کہ آپ کے سیکھنے کی تشنگی اور زیادہ
بڑھتی ہی چلی جائے تاکہ آپ کلام کے اس بحرِ عمیق میں غوطہ زَن ہوکر
حقائقِ خُدا وندی کو صحیح طور پر سمجھ سکیں۔ خُداوندٲپ
کو اپنی برکات سے نوازے(آمین)۔
کیا
خُدا نے فرعون کے دِل کو سخت کیا؟
|