سوال نمبر 55

کیا خُدا نے فرعون کے دِل کو سخت کیا؟

اگر خُدا نےفرعون کا دِل سخت کر دیا  تو یہ خُدا کا ہی قصور ہے۔خُدا دِل کو سخت نہیں کرتا  ہے۔ اس سوال کے جواب کی وضاحت فرمائیں۔

جواب

 اس سوال کا جواب پانے  بہتر ہو گا  کہ مندرجہ ذیل آیات  کی تلاوت کر ہی لیں۔خروج 7:13،23۔مذکورہ آیات میں لکھا ہے کہ فرعون کا دِ ل سخت ہو گیا تھا۔خروج 8:15، 32میں بھی یہی لکھا ہے۔مگر خروج 10:20 میں لکھا ہے کہ خُدا نے فرعون کے دِل کو سخت کر دیا۔ اَب جو اصل حقیقت ہے وہ بیان کرنا چاہتاہوں۔

 

خُدا نے اپنے بندہ حضرتِ موسیٰ  کی معرفت مُتعدد بار فرعون کو توبہ کا موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی ہٹ درمی سے باز آ ئے اور قوم بنی اسرائیل کو جانے دے۔یہاں تک کہ خُدا نے یکے بعد دیگرے آفات کے ذریعہ بھی اپنی قدرت دِکھائی کہ فرعون اب بھی مان جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔بار بار موقع فراہم کرنے کے باوجود فرعون خُدا کی طرف رجوع نہیں لایا اور اُس کی آواز کا شِنوا نہیں ہوا۔ یہ سب اس لئے تھا کیونکہ فرعون کا دِل سخت تھا۔جب خُدا نے دیکھا کہ وہ باز نہیں آئے گا تو اُس نے فرعون کو اُن ہی حرکتوں کے سپرد کر دیا تاکہ اَب جو چاہے کرتا پھرے۔ خُدا نے بھی اُس کے دِل کو سخت کا سخت ہی رہنے دیا۔یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ اپنے بچے کو آگ کے پاس آنے سے منع کرتے ہیں لیکن وہ بار بار آگ کی طرف جاتا ہے۔اگرچہ ٲپ نہیں چاہتے کہ بچہ جل جائے تو بھی اُسے ذرا آگ اورگرمی کی شدَت محسوس کرنے دیتے ہیں کہ شاید اس کے بعد وہ باز آ جائے۔ آپ اُس بچے کو اُس کی مرضی پر چھوڑ دیتے ہیں کہ اُسے خود تجربہ ہو جائے کہ جو وہ کر رہا ہے ٹھیک نہیں ہے۔

 

ادھر خُدا بھی فرعون کو اُس کی نالائق حرکتوں میں چھوڑ دیتا ہے کہ جو چاہے کرتا پھرے۔اصل میں فرعون کا دِل پہلے ہی سخت تھا اور خُدا نے اُسے اُسی سختی میں ہی رہنے دیا۔مطلب یہ ہے کہ خُدا موقع بخشتا ہے کہ ہم اُس کی طرف رجوع لائیں لیکن جب ہم اُس کی طرف رجوع نہیں لاتے  تو پھر وہ ہمیں اپنی مرضی کرنے دیتا ہے۔پھر ہمیں اس کی سزا بھی بھگتنا پڑتا ہے۔اصل میں فرعون کا دِل پہلے ہی سے سخت تھا۔موقع ہونے کے باوجود باز نہ آیا اور پھر خُدا نے بھی اُسے چھوڑ دیا۔ جیسا کہ ہم رومیوں2 باب میں بھی دیکھتے ہیں۔میں یہ حوالہ آپ کی خِدمت میں پیش کرتا ہوں تاکہ تاکہ جو کُچھ میں کہہ رہا ہوں اُس کا ثبوت مہیَا ہو جائے۔لکھا ہے کہ ……………..

 

‘‘اس واسطے خُدا نے اُن کے دِلوں کی خواہشوں کے مطابق اُنہیں ناپاکی میں چھوڑ دیاکہ اُن کے بدن آپس میں بے حُرمت کئے جائیں۔اس واسطے اُنہوںنے خُدا کی سچائی کو بدل کو جھوٹ بنا ڈالا اورمخلوقات کی زیادہ پرستش اور عبادت کی۔ بہ نسبت اُس خالق کے جو ابد تک خُدائے محمود ہے۔اس سبب سے خُدا نے اُن کو گندی شہوتوں میں چھوڑ دیا…………..اور جس طرح اُنہوں نے خُدا کو پہچاننا پسند کیا اُسی طرح خُدا نے بھی  اُن کو ناپسندیدہ عقل کے حوالے کر دیا کہ نالائق حرکتیں کریں’’(رُومیوں1:24-28

 

میرا ایمان ہے کہ اَپ آپ کو اس سوال کا جواب سمجھ آ ہی گیا ہو گا۔میری دُعا ہے کہ خُدائے بزرگ و برتر آپ کو اپنا الٰہی فہم عنایت فرمائے (آمین)۔

یسوع مسیح نے تمثیلوں میں کیوں کلام کیا؟

 
 
     

Home | About Us | Vision & Mission | Courses Available | What We Believe | Testimonies | Photo Gallery | Contact Us

Copyright © 2009, NEW LIFE INSTITUTE. All rights reserved.