سوال نمبر 57

مسیحی نظریہ الہام کیا ہے؟

اہلِ کلیسیا کے ہاں  تصوَرِ الہام یا نظریہ الہام کیا ہے تاکہ قارئین کی مناسب اور زیادہ بہتر طور پر مددہو سکے۔ جواب کی وضاحت مطلوب ہے؟

 

جواب

جیساکہ میرے قارئین نے اندازہ کر ہی لیا ہے کہ میرے جوابات بڑی لمبے چوڑے اور بھیدوں اور مکاشفات پر مبنی نہیں ہوتے۔میں صرف اس بات کا قائل ہوں  کہ کسی بھی حقیقت کو اس طور پر پیش کیا جائے کہ قاری با آسانی حقیقت کو سمجھ جائے۔میرا مقصد عِلم جھاڑنا نہیں بلکہ آسان الفاظ میں بات سمجھانا ہے۔ ویسے بھی میں عالم نہیں بلکہ ہمیشہ سے ہی شاگرد کی رُوح کا حامل ہوں اور سیکھنے کی کھوج  و جُستجو میں علومِ بائبل کے بحرِعمیق میں غوطہ زَن رہتاہوں۔

 

مسیحی نظریہ الہام  میں ایسا نہیں کہ خُدا نے اِملا یا ڈکٹیشنDictationکروائی بلکہ اُس نے مُختلف شعبہ ہائے زِندگی سے  تعلق رکھنے والے عام لوگوں کو چُن لیا تاکہ اُن کے وسیلہ سے اس پیغام کو تحریر کروائے جو وہ دُنیا تک پہنچانا چاہتا تھا۔ جیساکہ میں پہلے بھی آپ کے گوش گزار کر چُکا ہوں کہ خیال اور پیغام خُدا کا ہوتا تھا لیکن الفاظ انسانی مصنفین کے تھے۔مگر رُوح القدس اُن کی رہنمائی کرتا تھا کہ کہیں غلطی کا شائبہ نہ ہو۔گویا یوں کہا جا سکتاہے کہ خُدا اپنے کلام کا بذاتِ خود مُصنف ہے۔‘‘ہر ایک صحیفہ خُدا کے الہام سے ہے۔تعلیم اور الزام اور اِصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کیلئے فائدہ مند بھی ہے تاکہ مَردِ خُدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کیلئے بالکل تیار ہو جائے’’(2تیمتھیس 3:16)۔اور پہلے یہ جان لو کہ کتابِ مُقدَس کی کسی بات کی تاویل کسی کے ذاتی اختیار پر موقوف نہیں کیونکہ نبوَت کی کوئی بات آدمی کی خواہش سے کبھی نہیں ہوئی بلکہ آدمی رُوح القدس کی تحریک سےخُدا کی طرف سے بولتے تھے’’(2پطرس1:20-21

 

بائبل مقدَس تحریری صُورت میں آسمان پر موجود نہیں تھی کہ بعد میں وہ کسی طرح سے الہام ہوئی ہے۔خُدا کو آسمان پر اُس کا ریکارڈ رکھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ کیونکہ یہ کلامِ خُدا ہے اور وہ جس کا کلام ہے وہ  سب کُچھ جانتا ہے اوروہ بھولتا نہیں۔ملہم کلام کی شروع سے آخر تک ایک ربط ہوتی ہے اور وہ بائبل مُقدَس میں موجود ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خُدا کے دِل میں  جو بنی نو انسان کیلئے پیامِ محبت تھا وہ اُس نے اپنے برگزیدہ بندوں سے تحریر کروا کر  ہمارے ہاتھوں میں دے دیا۔اس کلام کا مُختلف زبانوں میں ترجمہ ہو اہے تاکہ دُنیا کا ہر شخص خُدا کے دِل کو پڑھ سکے۔ یہ ایسا کامل اور Perfect کلام ہے کہ خُدا نے اس میں سے نہ تو کُچھ نکالنے اور نہ ہی  اس میں کُچھ ڈالنے کو کہا بلکہ فرمایا کہ جو ایساکرے گا وہ سزا پائے گا۔میری دُعا ہے کہ پروردگار جو صاحبِ حکمت ہے ہمیں اس اہم موضوع کے سمجھنے  کا گہرا احساس اور فضل بخشے(آمین)۔

فردوس میں جانے کی راہ ہے یا راہیں ہیں؟

 
 
     

Home | About Us | Vision & Mission | Courses Available | What We Believe | Testimonies | Photo Gallery | Contact Us

Copyright © 2009, NEW LIFE INSTITUTE. All rights reserved.