سوال نمبر 58

فردوس میں جانے کی راہ ہے یا راہیں ہیں؟

 ‘‘جانا سب نے ایک ہی جگہ ہے اگرچہ راہیں مختلف ہیں’’ ثابت کریں کہ یہ نظریہ کہاں تک غلط یا درست ہے؟۔

 

جواب

بہت ہی خُوبصورت سوال اور اس کا بہت ہی خُوبصورت جواب ہے۔خُدا ایک ہی ہے اور وہ دو دِلا نہیں اور نہ ہی وہ دوغلی پالیسی چلتا ہے۔وہ صادق القول ہے اور بشر نہیں کہ جھوٹ بولے۔اگر کئی خُدا ہوتے تو صاف ظاہر ہے کہ  ہندووں کی طرح اُن کا قُرب حاصل کرنے کیلئے راہیں بھی کئی اور مُختلف ہوتیں۔ کوئی واحد راہ نہ ہوتی لیکن ایسا نہیں ہے۔تورات شریف کی پہلی آیت سے انجیل شریف تک خُد ایک ہی منصوبہ پر کام کرتا  ہوا سرگرمِ عمل نظر آتا ہے۔ جس سے متعلق اُس نے نبیوں کی معرفت پہلے سے نبوَتیں بھی کیں۔

 

حقیقت یہ ہے کہ خُدا واحد ہے اور پاک ہے اور انسان گنہگار ہے اور انسان جانوروں کی قربانیوں یا نیک اعمال سے اس لائق نہیں ہو سکتا کہ وہ خدا کا مقبولِ نظر ہو جس سبب سے خُدا نے انسان کی نجات، فلاح اور گناہوں کی معافی کیلئے شروع یعنی ابتدائے زمانہ ہی سے  اِنتظام کیا کہ اپنے کلام کو جسم دے تاکہ وہ آ کر اس دُنیا کے گناہوں کی خاطر قربان ہو جائے یعنی گنہگار انسان کی جگہ وہ خود لے لےکیونکہ خُدا مُحبت ہے۔اس کا سبب یہ تھا کہ انسان کیلئے کسی عوضی کی ضرورت تھی کہ وہ اُس کی جگہ مر جائے اور وہ انسان بچ جائے۔ایسے انسان کا بے گناہ ہونا ضروری تھا۔لیکن اس دُنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں تھا جو بے گناہ ہوتا اور بنی نو انسان کا عوضی ہو سکتا۔یہی سبب ہے کہ ‘‘کلامِ خُدا’’جِنہیں کلمتہ اللہ بھی کہتے ہیں مجسم ہو کر دُنیا میں آئے اور بے عیب و بے گناہ زِندگی گُزاری اور  پھر تمام بنی نو انسان کے گناہوں کی قیمت اپنے خون کے وسیلہ سے صلیبِ کلوری پر ادا کی۔المسیح نے بذاتِ خود فرمایاکہ ‘‘راہ حق اور زِندگی میں ہوں ۔کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ (پروردگار) کے پاس نہیں آ سکتا’’(یوحنا 14:6)۔لہٰذا ہر وہ شخص جو صراطِ مُستقیم کی تلاش میں سر گرداں ہے  اُس کیلئے ضروری ہے کہ وہ  یسوع مسیح کے پاس آئے۔ اپنے گناہوں کا اقرار کرے اور توبہ کرے اور ایمان لائے کہ وہ اُس کے نجات دہندہ ہیں۔

 

ا سکی ایک مثال ایسے شخص کی ہے  کہ دریا میں ڈوب رہا ہوتا ہے اور بچنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔اچانک ایک کشتی آن پہنچتی ہے اور اُس شخص کو کشتی میں آ جانے کیلئے کہا جاتا ہے۔ بچنے کی اُمید یہی واحد کشتی ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی نہیں۔اب اس شخص پر مبنی ہے کہ وہ کشتی پر سوار ہو یا ملَاح کو بُرا بھلے کہے اور ڈوب کر مر جائے۔بحرِ عصیاں میں گنہگار انسان غوطہ زَن ہےاور موت دروازے پر دبکی بیٹھی ہے۔مسیحا اس گنہگار شخص کیلئے تشریف لائے کہ وہ اُن پر ایمان لا کر بچ جائے اور ابدی حیات کا وارث بن جائے۔قبائلِ عالم سے بے شمار لوگوں نے  مسیحا کی نائو میں بیٹھ جانےکا  فیصلہ کر لیا اور اُنہیں ہمیشہ کی زِندگی اور گناہوں کی معافی کا یقین  ہو گیا کیونکہ اُنہوں نے اس بات کو پہچان لیا کہ  مسیحا کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

 

دُوسری بات یہ ہے گلتیوں 2باب میں لکھا ہو اہےکہ جو آسمان سے آیا وہ آسمان پر جانے کی راہ بھی جانتاہے اور جو وہاں سے آیا ہی نہیں وہ وہاں کی راہ کیسے جانے گا؟ ہم انسان ہیں اور زمینی ہیں۔ چنانچہ خُدا کے منصوبہ کے مطابق  فردوس (قربتِ اِلٰہی) کی واحد راہ یسوع مسیح ہیں اور ان کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

 

اس سلسلے میں میری ایک وِڈیو سی ڈی بعنوان( علم الکفارہ) ضرور دیکھیں۔اگر آپ کے پاس نہیں تو ہماری ویب سائٹ پر جائیں اور وہاں سے ہمیں ای میل کریں ۔ہم آپ کی ای میل کا جواب دینے کو ترجیح اور اولیت دیں گے۔خُدا وند خُدا آپ پر اپنی رحمت اور  فہم و ادراک کی بارش کثرت سے برسائے(آمین)۔

 

اور صلیب پر کون موا؟ 

 
     

Home | About Us | Vision & Mission | Courses Available | What We Believe | Testimonies | Photo Gallery | Contact Us

Copyright © 2009, NEW LIFE INSTITUTE. All rights reserved.