سوال
نمبر
7
کیا مسیحی خاتون بِنائو سِنگھار کر سکتی ہے؟
جواب
خُدا کے کلام کے مطابق جہاں تک میں سمجھتا ہوںوہ یہ ہے
کہ ایماندار خاتوں خُدا کے کاموں میں مصروفِ عمل رہتی ہے اور اُس کے
پاس بنائو سَنگھار کی فُرصت ہی نہیں ہوتی لیکن اِس کا یہ بھی مطلب نہیں
کہ وہ تارک الدُنیا ہوتی ہے۔وہ اِس معاشرے کا حصہ ہے اور زیورات عورت
کیلئے ہی ہوتے ہیں مرد کیلئے نہیں ہوتے۔ لیکن آئیں دیکھیں کہ بائبل
مُقدس اِس بارے میں کیا کہتی ہے۔
کُچھ لوگ کہتے ہیں کہ زیورات یا ظاہری بنائو سِنگھار
سے بائبل مقدس منع کرتی ہے اور وہ
1پطرس3:1-6کا
حوالہ بھی دیتے ہیں۔اگر اِس حوالے کے سیاق و سباق اور تواریخی پسِ منظر
کو دیکھا جائے تو یہاں زیورات پہننے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ یہاں اِس
بات پر زور دیا گیا ہے کہ خدا پرست خواتین اِن ہی کاموں میں مشغول نہیں
رہتیں کہ ہر وقت اپنے آپ کو سنوارتی ہی رہیں۔ وہ اِن باتوں کو ترجیح نہ
دیں اور اپنی نمائش بھی نہ کریں بلکہ وہ اپنے شوہروں کے تابع رہیں اور
اُن کی فرمانبرداری کریں۔
اِس کا یہ بھی مطلب ہر گِز نہیں کہ خواتین گھر میں گندی
مندی بن کر رہیں۔جی نہیں ایسا نہیں ہے۔خواتین گھر کی رونق ہیں۔اِس لئے
خواتین کا گھر میں بھی صاف سُتھرا ہونا اور صاف سُتھرا لباس
پہنناضروری ہے۔وہ گھر پہ بھی عام سا زیور اگر پہننا چاہیں تو پہن سکتی
ہیں لیکن جب باہر جائیں تو حسبِ دستور و معمول جیسا اُن کا معاشرہ
اِجازت دے پہن سکتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ یہ ریاکاری، نمائش اور دِکھاوے
کیلئے نہ ہو۔اگر ایسی روح ہو گی تو پھر یاد رکھیں کہ شادی سے واپسی پر
ڈاکو نقب لگا سکتے ہیں اور ایسا ہوتا بھی ہے۔ زائد الضرورت میک اَپ
کرنے سے آپ معاشرے کی عقابی نگاہ سے آپ بچ نہیں سکتے۔ وہ آپ پر کسی
بھی طرح کا الزام لگا سکتے ہیں۔ لہذا محتاط رہنا ضروری ہے۔
ابتدائے زمانہ سے ہی زیورات عورت کی زینت رہے ہیں۔حضرت
ابرہا م جب اپنے نوکر کو بھیجتے ہیں کہ اُن کے صاحبزادے حضرتِ اضحاق
کیلئے بیوی ڈھونڈھ کر لائی جائے تو نوکر اپنے ساتھ سونے کے دو کڑے اور
ایک نتھ لے کر جاتا ہے جوحضرتِ ربقہ کو پیش کرتا ہے۔اگر زیورات ممنوع
ہوتے تو شروع ہی سے اِس کی مثال دیکھتے(یسعیاہ
(3:16-26
بھی دیکھیں۔یہاں گردن کش اور متکبر دُخترانِ صیون کی
بات ہو رہی ہے۔ اِس طرح کے زیور اور بنائو سنگھار کی میں بھی مخالفت
کرتا ہوں۔ یسعیاہ
61:10-11میں
دُلہن کے سنگھار کی مثال پیش کی گئی ہے۔اگر زیور منع ہوتا تو خُدا بذاتِ
خود اِس کی مثال اپنے نبی کی معرفت کبھی نہ دیتا۔ یرمیاہ
2:32میں
بھی عورت کے زیورات کی مثال دی گئی ہے۔اگر زیورات ممنوع ہوتے تو اِن
کی مثال اچھے معنیٰ میں کبھی بھی نہ دی جاتی۔مکاشفہ21:2میں
بھی دُلہن کے سِنگھار کی مثال دی گئی ہے کہ نیا یروشلیم ایسا ہی سجا
ہوا ہو گا اور یہ مثال خُدا بذاتِ خود پیش کرتا ہے۔لہٰذا میں سمجھتا
ہوں کہ زیورات خود بُرے نہیں لیکن اِن کا استعمال بُرا ہو سکتا ہے۔
میں شادی شدہ خواتین پر کِسی طرح کی کوئی پابندی لگانے
کا مجاز نہیں کیونکہ وہ اپنے شوہر کیلئے بنائو سِنگھار کرتی ہیں اور
اُنہیں اچھا بھی لگتا ہے لیکن میں دُخترانِ کلیسیا سے عرض کروں گا کہ
جب تک اِلٰہی اِنتظام کے مطابق آپ ازدواجی رِشتے سے منسلک ہو نہیں
جاتیں اُس وقت تک زائد الضرورت بنائو سِنگھار اور میک اَپ کرنے سے
اجتناب کریں۔ کیونکہ بائبل مقدس میں اِس کی کوئی مثال نہیں مِلتی۔
خُداوند آپ کو برکت بخشے (آمین)