Home
Questions And Answers

سوال: اخزیاہ کے دور حکومت میں اتنا بڑا اختلاف کیوں؟

جواب:

جب اَخریاہ  یروشلیم کا بادشاہ بنا تو اس کی عمر۲۲ برس تھی یا۴۲ برس تھی ؟ ۲ سلاطین۸: ۲۶، کا

۲ تواریخ  ۲:۲۲   سےموازنہ کریں۔

مندرجہ بالا آیات کو یہاں پر تحریر کر دیتا ہوں ۔۲ سلاطین  ۸: ۲۶ اوراخزیاہ۲۲ برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اس نے یروشلیم پر ایک برس سلطنت کی ۔۔۔۔۔

۲،تو اریخ ۲: ۲۲ ،  اخزیاہ۴۲ برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اس نے یروشلیم میں ایک برس سلطنت کی ۔

۲سلاطین ۸: ۲۶  میں اخزیاہ کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ۲۲ برس کا تھا جبکہ ۲ تواریخ ۲۲: ۲ میں لکھا ہے کہ وہ ۴۲ برس کا تھا۔ جو بات حیرانگی کی ہے وہ یہ ہے کہ ۲ تو اریخ ۱۹:۲۱۔۲۰ میں لکھا ہوا ہے کہ اخزیاہ کے باپ کی عمر بوقت مرگ ۴۰ برس تھی ۔ باپ ۴۰سال کا اور بیٹا ۴۲سال کا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔

خوش قسمتی سے بائبل مقدّس میں ایسے کئی حوالہ جات ملتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ درست ۲۲ برس ہی ہے ۔ ۲ سلاطین  ۱۷:۸ میں کہا گیا ہے کہ اخزیاہ کا باپ یو رام بن اخی اب ۳۲  سال کا تھا جب بادشاہ بنا اور ۸ سال بعد مر گیا ۔ اس وقت اس کی عمر۴۰ برس تھی۔ (فقہا اپنے ہاتھوں سے بائبل مقدّس کی نقول تیار کرنے والوں کو فقہا کہا جاتا تھا ) ۔اس طرح کی اغلاط سے یہودی اور مسیحی ایمان پر فرق نہیں پڑتا ۔ اس طرح کی باتوں کی اصلاح دوسرے فقہا کیا کرتے تھے ۲سلاطین ۸ : ۲۶۔ ہمیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ فقہا اس بات میں دیانتدار تھے کہ بائبل مقدّس کا صحیح متن لوگوں تک پہنچے۔ جیسا ان کو ملا ویسے ہی آگے پہنچایا۔ یہ ان کی دیانتداری کا ثبوت ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ بیٹا اپنے باپ سے بڑا تو نہیں ہو سکتا ناں ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اخزیاہ ۲۲ برس کا تھا جب وہ  یروشلیم کا بادشاہ بنا۔ اس سے مفہوم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بڑی بات یہ ہے کہ اخریاہ بادشاہ بنا تھا خواہ وہ جتنے ہی سال کا کیوں نہیں تھا۔ خُداوند ہمیں فضل بخشے کہ پیغام نجات کو سمجھ سکیں ۔ ان باتوں کے جاننے سے ہماری نجات پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صرف سینگ اڑانے والے لوگ ہی ایسی باتیں کرتے ہیں ۔ خداوندایسے لوگوں کو بھی عقل و دانش عنایت فرمائے (آمین )۔

Back to Questions