Home
Questions And Answers

سوال: وہ نبی سے کیا مراد ہے؟

جواب:

 وُہ نبی سے کیا مراد ہے؟

یوحنا  ۱: ۲۸۔ ۲۹ کے مطابق  یوحناسے پوچھا گیا کہ تو کون ہے۔ کیا تو وہ نہیں ہے۔ یہ وہ نبی کون ہے۔ یہ کسی اور نبی کی طرف اشارہ تو نہیں ؟۔

اور یوحنا کی گواہی یہ ہے کہ یہودیوں نے بر و شلیم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے ؟ تو اس نے اقرا رکہ میں مسیح نہیں ہوں ۔ انہوں نے اس سے پوچھا کہ پھر تو کون ہے؟ کیا تو ایلیاہ ہے ؟ اس نے کہا  نہیں۔ پھر  اس سے پوچھا کہ پھر تو کون ہے ؟ تا کہ ہم اپنے  بھیجنے والوں کو جواب دیں ۔ تو اَپنے حق میں کیا کہتاہے؟ اُس نے کہا کہ جیسے یسعیاہ نبی نے کہا ہے  بیابان میں پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ  کو سیدھا کرو۔یہ لوگ فریسیوں کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ اُنہوں نے اُس سے سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے نہ ہی ایلیاہ  اور نہ ہی وُہ نبی  تو پھر بپتسمہ کیوں دیتا ہے؟ یوحنا نے اُنہیں جواب دیا کہ تمہارے درمیان یاک شخص کھڑا ہے جسے تم نہیں جانتے  یعنی میرے بعد آنے والا جس کی جوتی کے تسمے کھولنے کے لائق میں اَپنے آپ کو نہیں سمجھتا۔یہ باتیں یردن کے پار واقع ہوئیں جہاں یوحنا بپتسمہ دیتا تھا۔

 یرو شلیم کے یہودیوں کی طرف سے یوحنا کے پاس کا ہن اور لاوی بھیجے گئے کہ اس کے بارے میں دریافت کیا جائے کہ کہیں ایلیاہ نبی تو نہیں ہے۔ یہودی لوگ تو رات شریف سے واقفیت رکھتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ تو رات میں کسی نبی کے آنے کا ذکر ہے لیکن ابھی تک معلوم نہیں ہوا کہ وہ نہیں کون ہے۔ یوحنا کی آمد پر وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا تو وہ نبی ہے ؟ اس نبی کا ذکر استثنا ۱۸: ۱۵ میں ہے۔ اس حوالے میں حضرت موسیٰ اپنے یہودی لوگوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں۔ خداوند تیرا خدا تیرے ہی درمیان یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی بر پا کرے گا تم اس کی  سُننا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ نبی کون ہے ؟۔

ایک بات تو با الکل واضح ہے کہ جس نبی کی یہاں پر بات ہو رہی ہے اس میں چند باتوں کا پایا جانا ضروری ہے ۔ یہ باتیں جس شخصیت پر صادق آتیں وہی وُہ نبی ہوسکتا  تھا۔ استثناء والے حوالے میں مخاطبین یہودی ہیں اور ان کو کہا گیا کہ وُہ نبی۔۔۔۔

یہودی یعنی اسرائیلیوں  میں سے ہوگا۔ کیونکہ لکھا ہے کہ ( تیرے بھائیوں میں سے ) تو صاف ظاہر ہے کہ اس نبی کا یہودیوں میں سے آنا ضروری تھا۔ ہم یہ نبی جس کسی کو بھی سمجھتے ہیں اگر تو یہودیوں میں سے آیا تو پھر توٹھیک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نبی یسوع المسیح کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودیوں میں سے وہی آئے ہیں۔جس نبی کی بابت آپ سوچتے ہیں کیا وُہ یہودیوں میں سے آیا ہے؟

 اس کا نبی ہونا ضروری تھا ۔ نبی کا کام  نبوّت کرنا ہے۔ نبوّت کی دو اقسام ہیں۔ ایک تو یہ کہ خدا  برائہ راست کلام کرتا ہے اور قوموں تک یا کسی ایک شخص تک اپنے (خادم) نبی کی معرفت پیغام بھیجتا ہے ۔ جیسا کہ خدا حضرت ناتن کو حضرت داؤد کے دربار میں ، حضرت  موسیٰ  کو فرعون کے دربار میں اور حضرت یوناہ (یونس ) کو شہر نینوہ کی طرف بھیجتا ہے۔ ایسی والی نبوّت ابھی نہیں ہے۔ کیونکہ خدا نے مستقبل کے بارے میں جو کچھ بھی کہنا تھا اس نے اپنے کلام میں پہلے ہی سے کہہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی ایسی بات نہیں جو رہ گئی ہو یا خدا نے پیچھے رَکھ چھوڑی ہو اور اَب وُہ اس کو ظاہر کرتا ہو۔ اگر ایسا ہے تو پھر خدا کا کلام نامکمل مکاشفہ ہے جسے وُہ آج آپ کے اور میرے وسیلہ سے پورا کرتا ہے۔ حضور المسیح  نے نبوّت بھی کی اور وپہ نبی بھی ہیں ۔ اور انہوں نے ایسی نبوّت کی جو پہلے کسی نبی نے نہیں کی۔

 اَب ہمارے ہاتھوں میں نبوّت کا کلام ہے اور جب میں اس نبوّت کے کلام کو پیش کرتا ہوں تو دَر حقیقت میں نبوّت ہی کر رہا ہوتا ہوں ۔ لیکن یہ  نبوّت برائہ راست خدا کی طرف سے نہیں ہوتی ۔ بلکہ غیر براہ راست ہوتی ہے۔ لہذا یہ نبوّت خدا کا کوئی بھی چنیدہ خادم کر سکتا ہے۔

 جس نبی کے بارے میں یہاں بیان ہے اس میں ایک اور خصوصیت کا بھی پایا جانا ضروری ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون مصر کے آہنی  پنجوں سے خدا کی قدرت کے وسیلہ سے چھڑ ایا اسی طرح اس نبی کا بھی چھڑانے والا ہو نا ضروری تھا۔ جس نبی کی یہاں پر بات ہورہی ہے، وہ حضورالمسیح ہیں کیونکہ  صرف اُنہوں نے ہی  ابلیس کی غلامی سے ہمیں اپنی جان قربان کر کے  چھڑایا ہے۔ اگر ہم سجھتے ہیں کہ  یہ کوئی اور نبی ہے تو پھر اس میں ان خصوصیات کا بھی پایا جانا ضروری ہے۔

 اس نبی کیلئے ضروری تھا کہ وہ خدا کے  رُوبر و ہو کر بات کرتا جیسے حضرت موسی نے کی۔ تعلیمات انجیل مقدّس کے مطابق حضور المسیح  بذات خود مجسم کلام تھے اور آپ نے فرمایا کہ میں باپ سے سن کر تمہیں بتاتا ہوں ۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ خدا اور ان کے بیچ میں کوئی فرشتہ یا کوئی اور انسان نہیں تھا جو درمیانی کا کردار ادا کرتا ۔ آنے والے نبی کیلئے ضروری تھا کہ وُہ خد اسے  بر ائہ ر است کلام کرتا ہو۔

 اس نبی کیلئے ضروری تھا کہ وہ نشان عجیب کام اور معجزات کرتا ہو۔ چونکہ خدا نے حضرت موسیٰ کے وسیلہ سے بہت سے معجزات کئے اس لئے جس کسی کو موسیٰ کی مانند ہونا تھا اس کیلئے یہ شرط بھی لازم تھی کہ وہ معجزات کرتا یعنی نشانات اور عجیب کام دکھاتا ہو۔ حضور المسیح اس لئے وہ نبی ہیں کیونکہ آپ ان تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہیں جو اس نبی میں ہونا لازم تھیں۔ حرف آخر کے طور پر یہ کہوں گا کہ وہ نبی مسیح یسوع ہیں اور ان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔ اس نبی کی جو خصوصیات ہیں وہ کسی اور نبی  میں نہیں ملتیں۔ یوحنا انکار کرتا ہے کہ میں وہ نبی نہیں ہوں۔ یاد رہے کہ حضور المسیح محض نبی ہی نہیں بلکہ نبی سے بڑھ کر ہیں۔ دُعا ہے کہ خداوند اس جواب کے وسیلہ سے ہم سب کو اپنی برکات سے نواز ہے ۔ آمین۔

Back to Questions