Home
Questions And Answers

سوال: انسان کی عمر کی حد کیا ہے؟

جواب:

کیا خُدا نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ انسان کی عمر ۱۲۰ برس ہونا چاہئے؟ یا اس سے زیادہ یا کم بھی ہو سکتی ہے۔  پیدائش ۶:۳، اور پھرپیدائش ۱۱:۱۲ ۔ ۱۶)) اس اعتراض کا جواب کتاب مقدّس کی روشنی میں دیں

 میں اپنے قارئین کی خدمت میں دُونوں حوالہ جات تحریر کر دیتا ہوں ۔

 پیدائش۶:۳، تب خداوند نے کہا کہ میری رُوح انسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہے گی کیونکہ وُہ بھی تو بشر ہے تو بھی اس کی عمر ۱۲۰ برس کی ہوگی۔

 پیدائش ۱۱: ۱۲ ۔۱۶ ،  جب ار فکسد ۳۵، برس کا ہوا تو اس سےسلح پیدا ہوا اور سلح کی پیدائش کے بعد ار فکسد ۴۰۳،  برس اور جیتا رہا اور اس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔سلح  جب ۳۰،برس کا ہوا تو اس سے عبر پیدا ہوا اورعبر کی پیدائش کے بعد سلح ۴۰۳،  برس اور جیتا رہا اور اس سے پہلے اور بیٹیاں پیدا ہو ئیں۔ جب عبر ۳۴ برس کا تھا تو اس سے فلج پیدا ہو"۔

 پیدائش ۶:۳،  میں لکھا ہے کہ انسان کی عمر ۱۲۰،  برس  ہو گی۔ جب کہ پیدائش ۱۱: ۱۲ ۔ ۱۶، میں لوگوں کی عمریں لمبی نظر آتی ہیں۔ اس اعتراض کو پس منظر اور سیاق و سباق کے لحاظ سے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

 دیکھئے انسان کی عمر کی حد  ۱۲۰ برس نہیں ہے اور اس حوالے کے چند ہی ابواب بعد آپ دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ خود حضرت نوح کی عمر بھی ۱۲۰،  برس نہیں تھی بلکہ اس سے لمبی تھی۔ اس کے سمجھنے کیلئے زیادہ آسان الفاظ یوں ہیں کہ خدا نے طوفان کے آنے کی بات کی تھی کہ وہ ۱۲۰برس سے پہلے نہیں آئے گا۔ یہ بھی اس لئے کیونکہ خدا انسان کو موقع دے رہا تھا کہ و ُہ اُس کی طرف رجوع لائے جیسا کہ ۲ پطرس ۳: ۲۰،  میں ہم دیکھتے ہیں۔ جب نوح  کشتی بنا رہا تھا تو خد ا صبر سے انتظار کر رہا تھا۔ لہذا یہ لوگوں کی عمر کی حد کی بات نہیں بلکہ طوفان نوح  کے عرصہ کی بات ہے۔ خد اوند ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے کی توفیق عنایت فرمائے ۔ آمین ۔ 

Back to Questions