Home
Questions And Answers

سوال: نوکر کی شفا کیلئے صوبیدار آیا یا بزرگ؟

جواب:

متی ۸: ۵،  کے مطابق کیا صو بیدار بذات خود یسوع کے پاس آیا تھا کہ میرے نو کر کو شفا دے یا لوقا ۷: ۳۔۶ ، کے مطابق اس نے یہودی بزرگوں کو یسوع کے پاس بھیجا تھا؟ اس تضاد کا معتبر جواب دیجئے ؟

 میں سب سے پہلے مذکورہ آیات کو آپ کی خدمت میں تحریر کئے دیتا ہوں ۔

 متی۸: ۵،  اور جب وہ کُفر نحوم میں داخل ہوا تو ایک صو بیدار اُس کے پاس آیا اور اس کی منت کر کے کہا۔

 لوقا ۷: ۳۔ ۶، اس نے یسوع کی خبر سن کر یہودیوں کے کئی بزرگوں کو اس کے پاس بھیجا اور اس سے درخواست کی کہ آ کر میرے نو کر کوا چھا کر۔۔۔

صوبیدار نے اصل میں یہودی بزرگوں کی معرفت یسوع کے پاس پیغام بھیجا ۔ متی  صو بیدار کا ذکر اس لئے کرتا ہے کیونکہ صو بیدار ضرورتمند تھا۔ جب کہ لوقا اس شفا کیلئے صوبیدار کی کوشش کو بیان کرتا ہے۔ متی اس انجیل میں بیان کرتا ہے کہ اقوام عالم کو یسوع کی ضرورت ہے۔ متی یہ دکھانا چاہتا ہے کہ یسوع کا لوگوں کیساتھ ایک تعلق تھا۔ لوقا اس انجیل کے مطابق یہ دکھانا چاہتا ہے کہ یسوع ہر شخص سے ملتا ہے اور اِس سے یسوع کی انکساری نظر آتی ہے۔

یسوع اس کہانی میں صوبیدار کے ایمان کے مطابق صو بیدار کے گھر گئے اس کے نوکر کو شفا دیتا ہے۔ مرکزی بات صو بیدار کا ایمان اور اس کے نوکر کی شفا ہے۔ اور یہ دونوں واقعات میں نظر آتا ہے۔ آسان لفظوں میں یہ کہ صو بیدار نے پہلے بزرگوں کو یسوع کے پاس بھیجا اور بعد میں خود بھی فکر مند ہو کر یسوع کے پاس آتا ہے۔ یہی اس سوال کا مناسب اور آسان ترین جواب ہے ۔ خداوند آپ کو برکت بخشے (آمین)۔

Back to Questions