Home
Questions And Answers

سوال: داؤد نے 70,000 کو مارا یا 700 کو؟

جواب:

ہیں  کہ مذکورہ حوالہ جات میں بہت بڑا تضاد پایا جاتا ہے ۲سیموئل ۱۰: ۱۸،  کا مقابلہ ۲ تواریخ ۱۹: ۱۸،  سے کریں  ۔ میں پہلے یہاں پر مذکورہ آیات لکھنا چاہتا ہوں تا کہ جن کے پاس کتاب مقدّس نہیں ، وُہ بھی ان آیات کو پڑھ سکیں ۔

سیموئل ۱۰: ۱۸،  اور ارامی اسرائیلیوں کے سامنے سے بھا گے اور دائود نے ارامیوں کے ۷۰۰ ،رَتھوں کے آدمی ( عبرانی میں رتھ کا لفظ آیا ہے ) اور چالیس ہزار سوارقتل کر ڈالے۔ اور ان کی فوج کے سردار اور سو بک کو ایسا مارا کہ وُہ و ہیں مر گئے۔

تواریخ۱۹: ۱۸،  اور ارامی اسرائیل کے سامنے سے بھاگے اور داؤد نے ارامیوں کے سات ہزاررتھوں کے سواروں (عبرانی میں رتھ کا لفظ آیا ہے) اور چالیس ہزار  پیادوں کو مارا اور لشکر کے سردار سوبک کو قتل کیا ۔

سوال یہ ہے کہ دائود نے  ۷۰۰ کو مارا یا ۷۰۰۰ کو مارا ؟ اور پیادوں  اور گھڑ سواروں کا مسئلہ ہے۔یاد رکھیں کہ خدا کے کلام کو کبھی کبھی دیکھنا اور بائبل مقدّس کے الفاظ کسی نادان شخص کیلئے پریشانی کا سبب ہو سکتے ہیں۔ یہ ایسے ہی بات ہے جو دیدات اور ذاکرنائک  کی سمجھ میں نہیں آئی ۔ ذرا سوچیں کہ  کیا کبھی کسی نے کسی رتھ کو قتل کیا ؟ اصل زبان میں لکھا ہے کہ اُنہوں نے ساتھ سو رتھوں کو مارا۔ کیا لوہے کے رتھ کو مارا جا سکتا ہے؟ اس سے مراد و لوگ ہیں جو لوہے کے رکھوں کے کسی نے کوئی رتھ بھی قتل کیا ہے ؟ اصل میں  رتھوں کو مارنا اُن کے  سواروں کی بات ہو رہی ہے۔ انتہائی سادہ مزاج  شخص بھی جانتاہے کہ رتھوں کو مارا نہیں جا سکتا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان رتھوں میں جتنے سوار بیٹھے ہوئے تھے اُن سواروں کو مارا۔  تو اریخ میں بتایا گیا ہے کہ دس آدمی ایک رتھ میں سوار تھے۔ اَب  اگر سات سورتھ ہوں اور ایک پر دس آدمی سوار ہوں تو کل سوار ۷۰۰ہوئے  ۔ لہٰذا ایک جگہ پر رتھوں کا بیان ہے اور دوسری جگہ پر ان لوگوں کا بیان ہے جو رتھوں پر سوار تھے۔ اس میں کوئی تضاد والی بات نہیں ہی ہے۔

سوال کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ۴۰۰۰ گھڑ سوار اور پیادے تھے۔ سوال یہ ہے کہ یہ گھڑ سوار تھے یا پیادے؟۔ کیا ان کا کسی بھی فوج سے تعلق نہ تھا؟ یوں لگتا ہے کہ سوال کرنے والا جنگی لائحہ عمل سے نا آشنا تھا۔ آیات میں مزکورہے کہ فوج کا سردار مارا گیا۔ اُس کے مارے جانے پر سارے سپاہی پیدل بھاگ گئے کیونکہ وہ پریشان تھے کہ اگر گھوڑوں پر بیٹھیں تو ہرگز نہ بچیں گے ۔ وہ بھاگ کر غاروں اور پہاڑوں میں چھپ گئے۔ یہ بھاگنے والے پیادے تھے۔ خدا کے لوگوں کی فوج نے ان کا تعاقب کر کے انہیں مار ڈالا۔ لہٰذا گُھڑ  سواروں اور پیاروں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ وُہ جو بھاگے اور مارے گئے اصل میں وُہ گھڑ سوار ہی تھے۔ لہذا پہلے مقام پر انہیں گھڑ سوار کہا گیا اور جب وُہ بھاگ رہے تھے تو انہیں پیادے کہا گیا۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس سوال کے جواب کے سمجھنے میں آپ کی ضرور کسی حد تک مدد ہوئی ہو گی ۔ خداوند آپ کو برکت بخشے ( آمین )۔

Back to Questions