Home
Questions And Answers

سوال: کیا صبح اُٹھ کر دوست کیلئے دُعا کرنا لعنت محسوب ہو سکتی ہے؟

جواب:

 کیا صبح سویرے اٹھ کر دوست کیلئے دعا کرنا لعنت محسوب ہوتی ہے ؟ ہمیں اپنے دوستوں اور رفقا کیلئے دعا کرنا چاہئے کہ نہیں؟  اس سوال کی بنیا د امثال  ۲۷: ۱۴ ہے۔

 پیارے بھائی پرنس شایان ! آپ کا سوال بہت ہی خوبصورت ہے۔ میں اس سوال کو اس لئے اپنی ویب سائٹ پر ڈال رہا ہوں کیونکہ ہماری طرح کئی اور ایسے خواتین و حضرات ہوں گے جن کا بھی یہی سوال ہو گا اور ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا فائدہ ہو سکے ۔ حسب عادت و ضرورت میں اس حوالہ کو یہاں پر اپنے قارئین کی مدد کیلئے تحریر کر دیتا ہوں تا کہ جواب کے بہتر طور پر سمجھنے میں سب کیلئے آسانی پیدا ہو جائے ۔

 امثال 14:27 ” جو سویرے اُٹھ کر اپنے دوست کیلئے بلند آواز سے دُعائے خیر کرتا ہے اس کیلئے لعنت محسوب ہوگی۔

 یا درکھیں کہ یہ کتاب حضرت سلیمان نے اس حکمت کے مطابق لکھی جو خدا نے انہیں دی تھی ۔ یہ انسانی حکمت کے مطابق نہیں لکھی گئی اور انسانی حکمت سے ہم اسے سمجھ بھی نہیں سکتے ۔ صبح سویرے اُٹھ کرو ُعا کرنا بہت ہی اچھی عادت ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے ۔ حضرت داؤد اور بے شمار مقدسین جن میں دانی ایل نبی بھی شامل ہیں صبح سویرے اُٹھ کر دُعا کیا کرتے تھے لیکن یہاں پر بحث سویرے اٹھ کر دعا کرنے پر نہیں بلکہ اس کے پیچھے کچھ اور ہے جس کا میں ابھی آپریشن کرتا ہوں ۔ پریہاں پر ہر آیت میں مختلف اسباق ہیں اس لئے اس آیت کے سیاق و سباق کے جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں پر حضرت سلیمان فرماتے ہیں کہ جو صبح سویرے اٹھ کر بلند آواز سے دعا کرتا ہے۔ پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے اور یہ کہ دعا کرنے والے کے دل میں کیا ہے ۔ یا د رکھیں کہ جب حضرت سلیمان لکھتے ہیں تو اس وقت نہ تو بیپٹسٹ تھے اور نہ ہی پینٹی کاسٹل اور نہ ہی کیتھولک تھے۔ آج کی دنیا میں اونچی آواز میں دعا کر نا زیادہ تر معیوب نہیں لگتا۔ لیکن اُس وقت یہ بات معیوب لگتی تھی۔ مفسرین بتاتے ہیں کہ ایسی خاصیت ایک ایسے شخص کی ہے جو اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے اپنے دوست سے مطلب حل کروانے کیلئے اونچی آواز میں اسے بھی اور محلے  والوں کو بھی  اُونچی آواز میں سُناتا ہے اور اُس کیلئے دعائے خیر کرتا ہے یعنی اس کیلئے برکت مانگتا ہے۔ یہ خوشامدی دعا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ چھت پر چڑھ کر بھی ایسی دعا کرتا ہوا ہو ۔ ایسی دُعانا مقبول ٹھہرتی ہے کیونکہ یہ ریا کاری کی دُعا ہے اور خدا اس سے قطعی طور پر خوش نہیں ہوتا ۔

 امثال  ۲۶: ۲۴ ۔ ۲۸،  میں لکھا ہوا ہے کہ ’’کینہ وَ ر دل میں دغا رکھتا ہے لیکن اپنی باتوں سے چھپاتا ہے۔ جب وہ میٹھی میٹھی باتیں کرے تو اس کا یقین نہ کر کیونکہ اُس کے دل میں کمال نفرت ہے ۔ اگر چہ اس کی بد خواہی مکر میں چھپی ہے تو بھی اس کی بدی جماعت کے سامنے فاش کی جائے گی ۔ جو گڑھا کھودتا ہے آپ ہی اُس میں گرے گا اور جو پتھر ڈھلکاتا ہے وہ پلٹ کر اسی پر پڑے گا۔ جھوٹی زبان اُن کا کینہ رکھتی ہے جن کو اُس نے گھائل کیا ہے اور چاپلوس منہ تباہی کرتا ہے‘‘۔

 مندرجہ بالا آیات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ یہ شخص نہ تو دعا گو ہے اور نہ ہی اس کی دُعا مقبول ٹھہرے گی کیونکہ یہ ریا کار ہے اور محض دکھاوا کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ دُ عا جس کیلئے کی جاتی ہے اس کیلئے نہیں بلکہ کرنے والے کیلئے  لعنت محسوب ہوگی ۔ جس کیلئے یہ دُعا کی گئی وُہ اس معاملے میں بے قصور ہے (میرے کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ فرشتہ ہے یا یسوع مسیح ہے جس میں کوئی عیب نہیں ) ۔ بلکہ یہ کہ اس نے اس سے یہ نہیں کہا کہ میرے لئے دُعا کر اور عین ممکن ہے کہ اس کا  دُعاپر یقین بھی نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پہلے ہی لعنت کو گلے  لگایا ہوا ہو ۔ لہذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ دُعا جس کیلئے کی جارہی ہے اس کیلئے نہیں بلکہ جو کرتا ہے اس کیلئے لعنت محسوب ہو سکتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ جس کیلئے کی جارہی ہے وہ با ایمان ہو اور ا سے معلوم ہی نہیں کہ کوئی میری خوشامد کرتا ہے اور اگر اسے معلوم ہو جاتا ہے تو وہ اسے ایسا کرنے سے منع کرتا ہے کیونکہ ایسی باتیں اُسے پسند نہیں ہیں۔ اس صورت میں بھی لعنت اس شخص پر بھی ہوگی جو دُعا کا غلط استعمال کرتا ہے۔

 یہاں پر دعائے خیر سے مراد برکت چاہنا ہے۔ کوئی ایماندار شخص کسی ایسے شخص کیلئے برکت نہیں مانگے گا جو برکت کے قابل ہی نہ ہو۔ کُپیاں  پینے یا بیچنے والے شخص کیلئے  برکت کیا  معنی رکھتی ہے؟۔ ایسی دُعا کا اُس پر کچھ اثر نہیں ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ وُہ شخص جو ایسے شخص کیلئے برکت مانگتا ہے وہ بھی دو نمبر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی نیک اور ایماندار شخص کا کسی ایماندار شخص کیلئے دعا کرنا قابل ستائش ہے اور یہ کبھی لعنت محسوب نہیں ہوتا بشرطیکہ اس میں ریا کاری شامل نہ ہو۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس سوال کا جواب آپ کو اچھی طرح سمجھ آ گیا ہو گا ۔ خداوند ہم سب کو ریا کاری سے دُور رہنے اور دُعا میں سنجیدگی اختیار کرنے کا فضل بخشے ۔ آمین۔

Back to Questions