Home
Questions And Answers

سوال: یسوع مسیح نے تمثیلوں میں کیوں کلام کیا؟

جواب:

 یسوع مسیح اس لیے تماثیل میں بات کرتے تھے کہ لوگ تماثیل سن کر بھی نہ سنیں اور دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھیں۔ اس سے کیا مراد ہے ؟ ایسا کیوں ہے؟ کیا یسوع نہیں چاہتے تھے کہ لوگ  سُنیں اور سن کر ایمان لائیں ؟ (مرقس  ۴: ۱۲)۔

 بہتر ہوگا کہ یہ آیت یہاں پر لکھوں تا کہ سوال بہتر طور پر سمجھ میں آ جائے ۔ مرقس ۴: ۱۰ ۔ ۱۲ ’’ جب وہ اکیلا رہ گیا تو اس کے ساتھیوں نے ان بارہ سمیت اُس سے ان تمثیلوں کی بابت پوچھا۔ اُس نے ان سے کہا کہ تم کو خدا کی بادشاہی کا بھید دیا گیا ہے مگر ان کیلئے جو باہر ہیں سب باتیں تمثیلوں میں ہوتی ہیں تا کہ  وُہ دیکھتے ہوئے دیکھیں اور معلوم نہ کریں اور سُنتے ہوئے سنیں اور نہ سمجھیں۔ ایسا نہ ہو کہ وُہ رجوع لائیں اور معافی پائیں۔

 میرے خیال میں تو اس سوال کا جواب اس حوالے میں موجود ہے تو بھی میں اس پر روشنی ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ تمثیل کسی بھی بات کو مثال دے کر پیش کرنا ہوتا ہے۔ یسوع مسیح کے شاگر د تقریبا تین ساڑھے تین سال تک یسوع کے ساتھ رہے۔ یسوع نے نہ صرف تھیوری سکھائی بلکہ پریکٹیکل بھی کروایا۔ یسوع نے کیا اور انہوں نے دیکھا ۔ پھر انہوں نے کیا اور یسوع نے دیکھا۔ شاگر دسمجھتے تھے کہ یسوع کا کیا مطلب ہے کیونکہ وہ طویل عرصہ تک یسوع کے ساتھ رہے تھے۔

 لیکن وہ جو شاگرد نہیں تھے یا جو باہر کے لوگ تھے وہ ان روحانی باتوں کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔ کلام خدا میں آیا ہے کہ نفسانی اور جسمانی آدمی خدا کے رُوح کی تہہ کی باتوں کو نہیں سمجھتا۔ اگر یسوع مسیح ان باہر والوں سے تماثیل میں کلام کرتے تو ان لوگوں کو ان باتوں کی سمجھ نہیں آنا تھی۔ وُہ ان باتوں کا ذاکرنا تک صاحب کی طرح  غلط مطلب نکال سکتے تھے۔ یہی سبب تھا کہ یسوع ان لوگوں سے نہیں بلکہ شاگردوں سے تماثیل میں کلام کیا کرتے تھے۔ اصل میں خدا کی بادشاہی کے بھید شاگر د سمجھ سکتے تھے۔ روحانی با تیں روحانی طور پر ہی پر کھی جاسکتی ہیں۔

 کیا کبھی آپ کا تجربہ ہوا کہ جو بڑے یعنی بالغ ہیں وہ کئی ایسی باتیں یہاں تک کہ اپنے گھر کی باتیں بھی اپنے بچوں سے شیر نہیں کرتے ؟ اس لئے نہیں کہ وُہ اَپنے بچوں کو تربیت نہیں دیتے بلکہ اس لئے کہ یہ باتیں ان کے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔ یہ وہ سمجھ نہیں پاتے ۔ جبکہ دوسری طرف کئی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو ہم بچوں سے کرتے بھی ہیں۔ یہی سبب تھا کہ حضور المسیح اپنے شاگردوں سے تماثیل میں باتیں کیا کرتے تھے۔ امید واثق ہے کہ آپ کسی حد تک اس سوال کا جواب سمجھ گئے ہوں گے ۔ کہ خدا کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ ہر ایک کی نوبت تو بہ تک پہنچے ۔ خداوند آپ کو اپنی برکات سے ہمکنار فرمائے ۔ آمین 

Back to Questions