Home
Questions And Answers

سوال: پولس کے ساتھیوں نے آواز سنی کہ نہیں؟

جواب:

 حضرت پولس کے ساتھیوں نے آواز سنی کہ نہیں؟ عیسائیوں کا یہ دعوی ہے کہ انجیل کو کسی نے نہیں بدلا ۔ ذیل میں ایک اور تضاد پیش خدمت ہے ۔ ذرا غور فرمائیے گا ۔ اعمال ۷:۹  میں لکھا ہے کہ ساتھیوں نے آواز سنی جبکہ ۹:۲۲، اور ۱۴:۲۶ میں ہے کہ نہیں سُنی ۔ درست کیا ہے؟

میرے بھائی اور بہن! پہلے تو میں یہ عرض کر دوں کہ ہم  مسیحی لوگ ہیں اور ہم کسی عیسائی کو نہیں جانتے۔ میں نے بھی سنا کہ کوئی عیسائی لوگ ہیں لیکن میرے خیال میں وُہ مسلمان دوست ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کلیسیا مسیحی جماعت ہے اور وُہ حضور المسیح کے پیروکار ہیں ۔ انجیل شریف میں کسی عیسی کا ذکر نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہم کسی عیسی کو مانتے بھی نہیں کیونکہ ہم انہیں جانتے بھی نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ اہل اسلام کے کوئی حضرت عیسی ہیں جنہیں وہ مانتے ہیں اس سبب سے میں ان کو عیسائی کہتا ہوں ۔ وہ خود کہتے ہیں کہ ہمارا حضرت عیسی پر ایمان ہے۔ اگر چہ میں ان کے حضرت عیسی کو نہیں جانتا تو بھی میں ان کی عزت و احترام اور تعظیم کرتا ہوں ۔ یہ تو آپ کے سوال میں سے سوال نکلا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس بات کی تصحیح کرتا چلا جاؤں ۔ مستقبل میں میں بتایا جائے گا کہ حضرت عیسی اور یسوع مسیح  ایک ہی شخصیت ہیں یا دو مختلف شخصیات ہیں۔

 اَب میں آپ کے اصل سوال کے جواب کی طرف آتا ہوں ۔ سوال کے جواب کو بہتر طور پر سمجھنے کیلئے اچھا ہوگا کہ ان حوالہ جات کو آپ کی خدمت میں تحریر کردوں کیونکہ عین ممکن ہے کہ میرے کئی ایسے بھی قاری ہوں جن کے پاس انجیل شریف ہی نہ ہو اور ان حوالہ جات کے وسیلہ سے ان کی مدد ہو جائیگی ۔

اعمال  ۹: ۷،  ’’ جو آدمی اس کے ہمراہ تھے وہ خاموش کھڑے رہ گئے کیونکہ آواز سُنتے تھے لیکن کسی کو نہ دیکھتے تھے‘‘۔

اعمال  ۲۲: ۹، ’’اور میرے ساتھیوں نے نور تو دیکھا لیکن جو مجھ سے بولتا تھا اس کی آواز نہ سنی‘‘۔

اعمال  ۲۶: ۱۴،  ’’ جب ہم سب زمین پر گر پڑے تو میں نے عبرانی زبان میں یہ آواز سنی کہ اے ساؤل اے ساؤل تو مجھے کیوں ستاتا ہے ۔ پینے کی آر پر لات مارنا تیرے لیے مشکل ہے‘‘۔

ایک اعتراض تو یہ کہ ایک حوالہ میں لکھا ہے کہ پولس کے ساتھی آواز سنتے تھے جبکہ دوسرے میں لکھا ہوا ہے کہ وہ آواز نہیں سنتے تھے ۔ دوسرا اعتراض یہ کہ ایک حوالہ میں لکھا ہے کہ انہوں نے نو ر کو دیکھا جب کہ دوسرے حوالہ میں لکھا ہوا ہے کہ وہ کسی کو نہ دیکھتے تھے۔

حضور بات یہ ہے کہ اس واقعے میں خدا جہاں کسی جنونی شخص کی زندگی میں انقلاب لاتا ہے وہاں خدا صرف اسی شخص سے گفتگو کر رہا اور اس پر ظاہر ہو رہا ہے، کیونکہ خدا کے منصوبہ میں اس وقت یہی شخص تھا جس کا نام ساؤل تھا۔ دوسرے لوگ اس وقت اس کے منصوبہ میں نہیں تھے یعنی وہ جو ساؤل کے ساتھ تھے۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ وہ اس بات کے عینی شاہد ہیں کہ یہ کوئی معمولی واقع نہیں ہوا۔ اعمال  ۹: ۷، میں لکھا ہے کہ وہ آواز سنتے تھے جبکہ اعمال ۲۲: ۹،  میں آواز نہ سُننے کا بیان ہے۔ میں یہاں پر پھر وہی بات کروں گا کہ خدا ساؤل سے بات کر رہا تھا ،کسی  اورسے نہیں کر رہا تھا۔ خدا اس وقت صرف اسی سے مخاطب تھا۔ انہیں آواز ضرور سنائی دے رہی تھی لیکن سمجھ نہیں آرہی تھی ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے میں اور آپ بات کر رہے ہوں اور بعض اوقات آواز تو ہمیں آرہی ہوتی ہے لیکن سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ معاملہ کیا ہے یا کیا بات ہو رہی ہے ۔ کیا آپ نے دوران گفتگو بھی کسی سے نہیں سنا کہ " کیا فرمایا ؟یا کیا کہا؟ ۔ موبائل فون پر ایسا تجر باکثر ہوتا ہے کہ کچھ آواز سی سنائی دے رہی ہوتی ہے لیکن سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ کہنے والا کیا کہہ رہا ہے۔ اسی طرح ساؤل کے ساتھی بھی سمجھ نہیں پار ہے تھے کہ کیا بات ہورہی ہے۔ یہ آپ کے سوال کے پہلے حصہ کا جواب ہے۔

آپ کے سوال کاد وسرا حصہ یہ ہے کہ ایک حوالہ میں ہے کہ انہوں نے نور کو دیکھا جبکہ دوسرے حوالے میں لکھا ہے کہ وہ کسی کو نہ دیکھتے تھے۔ جواب یہ ہے کہ نور کا دیکھنا بشر کے بس کی بات نہیں لیکن روشنی کے دیکھنے کا تجربہ ہو سکتا ہے ۔ جہاں تک میرے علم کی بات ہے میں نے کہیں بھی نہیں پڑھا کہ نور کا بھی کوئی دیدنی جسم ہوتا ہے ۔ حضرت موسیٰ بڑے بیتاب تھے کہ ذات الہی کا دیدار حاصل کریں لیکن جواب آتا ہے کہ موسیٰ تو میر جلال (جلوہ ) تو دیکھ سکتا ہے لیکن میرا دیدار حاصل نہیں کر سکتا ۔ لہذا حضرت موسیٰ نے دیدار تو کیا لیکن کوئی صورت و شبیہ دیکھنے میں نہیں آئی۔

 اسی طرح جب میں اس سوال کے جواب کی بات کرتا ہوں تو انہیں وہ نور یا روشنی ہی تو نظر آئی لیکن اس روشنی میں کوئی صورت یا شبیہ نہیں دیکھ پارہے تھے۔ ہمارے لئے یہ سوال اس لئے پیدا ہوتا ہے کیونکہ ہم ہمیشہ کوئی دیدنی چیز دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ  فارمولا خدا پر فِٹ نہیں آتا ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ انہوں نے کچھ دیکھا تو سہی لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں ۔ دوسرے حوالہ میں یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے نور دیکھا۔ تو صاف ظاہر ہے کہ نور کی کوئی صورت نہیں ہوتی جس سبب سے پہلے حوالے کے مطابق وہ کچھ نہ دیکھ پائے ۔

 میں امید کرتا ہوں کہ اس سوال کے جواب کے سبب سے آپ کا گھر تو پوراہو ہی گیا ہوگا ۔ میری دلی دُعا ہے کہ آپ کے سیکھنے کی  تشنگی اور زیادہ بڑھتی ہی چلی جائے تا کہ آپ کلام کے اس بحر عمیق میں غوطہ زن ہو کر حقائق خد اوندی کو صحیح طور پر سمجھ سکیں۔ خداوند آپ کو برکت بخشے۔آمین

Back to Questions