Home
Questions And Answers

سوال: کیا خُدا کو بھی آرام کی ضرورت ہے؟

جواب:

 کیا خدا کو بھی آرام کی ضرورت ہے ؟ بائبل میں تضاد کی ایک اور مثال دیکھنے کیلئے ان دو حوالہ جات کا مطالعہ کریں (یسعیاہ ۴۰: ۲۸،  خروج  ۳۱: ۱۷ ) ۔اہل کلیسیا ان سوالات کے جوابات دیں۔

میرے دوست آپ کے سوال یا آپ کے سوالات کی بھر مار کے جوابات دینے کیلئے فی الحال ایک ہی سپوت اور غیّور خدا کا  خادم کافی ہے۔ اہل کلیسیا کو للکارنابعد کی بات ہے۔ مجھے ایسے لوگوں پر ہنسی بھی آتی ہے اور ترس بھی آتا ہے جن کی زندگی کا مقصد ہی یہی ہے کہ کُتب سماویہ کو قبول نہ کرنے کیلئے ان پر الزام تراشی کی جائے۔ یہ ماننا کہ وہ خدا کا کلام ہے اور پھر ان کو ر دّ بھی کرنا یعنی ان پر ایمان نہ لانا ،میرے دوست کہاں کا انصاف اور یہ کیسی ایمانداری ہے؟

بہر حال جس سوال کی  گھنٹی آپ نے میرے گلے  میں باندھی ہے اَب میں اسے بجانے کی کوشش کرتا ہوں۔ آپ نے دو حوالہ جات پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بائبل مقدّس میں تضاد پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی جوابات میں مشورہ دیتا آیا ہوں ، اچھا ہوتا کہ آپ ان حوالہ جات کو بمع سیاق و سباق پڑھ لیتے ۔ تا ہم میں آپ کی مدد کیلئے ان حوالہ جات کو یہاں پر تحریر کر دیتا ہوں تا کہ آپ کی طرح  کے کئی اور لوگوں کا بھی فائدہ ہو سکے۔

خروج  ۳۱: ۱۷،  ’’میرے اور بنی اسرائیل کے درمیان  ہمیشہ کیلئے ایک نشان رہے گا۔ اس لئے کہ چھ  دن میں خُداوند نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کر کے تازہ دم ہوا‘‘۔

یسعیاہ ۴۰: ۲۸،  ’’کیا تو نہیں جانتا؟ کیا تو نے نہیں سنا کہ خداوند خدا ئے ابدی و تمام زمین کا خالق تھکتا نہیں اور وہ ماندہ نہیں ہوتا؟‘‘ ۔

پہلے حوالہ میں خدا اور حضرت موسیٰ کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے۔ جس میں خدا بنی اسرائیل کو شریعت کی پابندی کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ ان میں سے ایک حکم یہ تھا کہ قوم بنی اسرائیل ہفتے کے دن کو بطور سبت مانے وہ اس دن انہیں خدا کی حضوری میں وقت گزارنا یعنی  دُعا اور عبادت کرنا تھا۔ خدا نے انہیں بتایا کہ اگر میرا حکم مانو گے تو کیا ہوگا اور اگر نہیں تو پھر کیا ہوگا۔ اس کا تعلق خدا کی فرمانبرداری کرنے یا نہ کرنے سے تھا۔ خدا ان کی فرمانبرداری دیکھنا چاہتا تھا۔ ایسا کرنے کیلئے خدا نے بذات خود انہیں نمونہ دیا کہ میں نے چھ  دِن میں کا ئنات بنائی اور ساتویں دن آرام کیا۔ خد اپَل بھر میں یہ سب کچھ بنا سکتا تھا لیکن یہ صرف ہمارے لئے ایک مثال یا نمونہ ہے۔ خدا بشر نہیں کہ اسے کمر سیدھی کرنا پڑے۔ ایسا ہر گِز  نہیں بلکہ  یہ مذہبی فرمانبرداری کرنے کی ایک مثال ہے۔

دوسری طرف ہم جانتے ہیں کہ انسانی مشین کو دیگر مشینوں کی طرح آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر مشین کو کچھ آرام دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم اس بدن سے زیادہ کام لیتے اور اس کو آرام نہیں دیتے تو یہ بھی بگڑ جائے گا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہمارا بدن تازہ دَم ہو اور پھر وُہ کام کیلئے بالکل تیار ہو جائے ۔ یہ اصول خدا نے بذات خود قائم کیا ہے۔ ۔

دُوسرے حوالے میں قوم بنی اسرائیل پر آنے والی مصائب کا ذکر ہو رہا ہے اور یہاں پر یعقوب سے مراد اولا د یعقوب ہے جو بنی اسرائیل ہے۔ خدانبی کی معرفت ان کو حوصلہ دے رہا ہے کہ خدا تمہاری مصائب و تکالیف سے بے خبر نہیں وہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ نہ تو سوتا ہے اور نہ ہی اونگھتا ہے اور نہ ہی تھکتا ہے۔ وہ سمیع البصیر وسیع العلیم ہے۔ اس کو پکارو تا کہ وہ تمہیں جواب دے ۔ وہ انسان کی طرح نہیں کہ تھک ہار کر مایوسی کے عالم میں پریشان ہو جائے ۔

حرف آخر کے طور پر یہ کہ پہلے حوالہ میں خدا انسان کو بذات خود نمونہ دے رہا ہے کہ  اِنسان اَپنے جسم کو آرام دے اور پھر وہ اپنا دن خدا کی عبادت میں گزارے اور دوسرے حوالہ میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ خدا کو آرام کی ضرورت نہیں اور اس بات کی پہلے حوالہ میں بھی نفی نہیں بلکہ تصدیق کی جارہی ہے۔ خدارُوح  ہے اور اس کا ہماری طرح جسم نہیں۔ اگر چہ  شی القدیر ہونے کے سبب سے و وایسا بھی کر سکتا ہے لیکن جو انسان کی ذاتی ضروریات ہیں ، وہ خدا کی ضروریات نہیں ۔ خدا کو جب چاہو پکارو، وہ جواب دپنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ اس کیلئے چاہیں تو یرمیاہ  ۳۳: ۳،  بھی پڑھ لیں۔ عموما میں اس حوالہ کو خُد ا کا  فون نمبر بھی کہتا ہوں جہاں لکھا ہے کہ مجھے  پکارو تو میں تمہیں جواب دُوں گا اور بڑی بڑی اور گہری باتیں جن کوتُو نہیں جانتا تجھ پر ظاہر کروں گا۔ امید واثق ہے کہ یہ جواب کافی ہو گا لیکن اگر پھر بھی کچھ تشنگی رہ گئی ہے تو میری دعا ہے کہ کہ خُد اوند کریم جو دانش و حکمت کا منبع ہے آپ ہی آپ کے ذہن کو قتلی پانے کیلئے کھولے ( آمین )۔

Back to Questions