Home
Questions And Answers

سوال: اگر انجیل ایک ہے تو پھر خطوط کیوں شامل کیے گئے؟

جواب:

یہ بات تو ماننے کی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر ایک انجیل نازل ہوئی لیکن انجیل کے علاوہ جو پولس رسول کے خطوط وغیرہ ہیں ۔ وہ تو انجیل نہیں ہیں ناں ؟ ۔ انہیں کیوں انجیل میں شامل کیا گیا یا مسیحی ایمان میں ان کا کیا کردار یا مقام ہے؟

یہ سوال ایک مسلمان دوست نے بھائی جسٹن صاحب کے وسیلہ سے پوچھا۔ اس سوال کے جواب کا بھی کسی حد تک سوال نمبر ۴۳، ۴۴ ، سے تعلق ہے۔ لہذا اس سوال کا جواب پانے کیلئے مناسب ہوگا کہ ان سوالات کے جوابات کی بھی نظر ثانی کر لیں تا کہ سوال کے جواب کو بہتر طور پر سمجھ سکیں ۔

 میں اکثر اوقات ایک مثال دیتا ہوں کہ اگر ٹرک کی باڑی اُس کے فریم سے الگ کر کے ایک طرف رکھ دی بجائے اور اس کی جگہ ٹرک کے فریم پر ٹویوٹا کار کی باڈی رکھ دی جائے تو نہ صرف بات نہیں بنے گی بلکہ دیکھنے والے بھی احمق کہیں گے ۔ کیونکہ جو فریم جس کیلئے بنایا گیا اسی پر اس کی باڑی اچھی لگے گی کیونکہ وُہ اس کے مطابق ہی بنائی گئی ہے۔

 یہ بات کہہ کر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جومسیحی نظر یہ الہام ہے وُہ کسی دوسرے کا نہیں ۔ اور یہ سمجھنا کہ جیسا ہمارا نظریہ الہام ہے ویسا ہی اہل کلیسیا کا ہونا چاہئے تھا ، درُست اور مناسب سوچ  نہیں۔ یہ گو یا ایسا ہی ہے کہ آپ ٹرک کے فریم کی باڑی کی جگہ کار کی بازی رکھ رہے ہیں اور یہ آپ کی بھول ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان دوست اس طرح کی سوچ کا حامل ہو تو اسے بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ جو اسلامی نظریہ الہام ہے وہ باقیوں کا نہیں ہے۔ آپ اپنے نظریات کو اہل کلیسیا پر لاگو نہیں کر سکتے یعنی آپ اسلامی نظریہ الہام کی باڈی کی نظریہ الہام کے ٹرک کی باڈی پر نہیں رکھ سکتے کیونکہ ہم دونوں کے الہام کے بارے میں نظریات فرق ہیں۔ اس کی ایک اور مثال بھی ہے کہ اگر ابّاحضور کو کسی پانچ سالہ بچے کی جوتی پہننے کیلئے دی جائے اور یہ کہا جائے کہ انہیں فٹ کیوں نہیں آتی تو پھر واقعی ہمیں نفسیاتی ہسپتال کی ایمر جنسی میں پہنچا دیا جائے ۔ یہ جوتی کا کوئی قصور نہیں بلکہ ضعیف سوچ اور دماغ کا ہے۔ آپ کے سوال کے کئی ایک اجزا ہیں اور میں اُن کو الگ الگ دیکھتا ہوں اور ان پر بات کرنے سے میرے قارئین کی بہتر طور پر مدد ہو گی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ انجیل مقدّس ایک ہی ہے۔ پورے عہد جدید کا مضمون ہی انجیل مقدّس ہے۔ انجیل کے معنی’’ خوشخبری ‘‘کے ہیں اور یہ خوشخبری سارے جہان کے لوگوں کیلئے ہے کہ مسیح کتاب مقدّس کے مطابق ہمارے گناہوں کیلئے مر گئے ، دفن ہوئے اور تیسرے دن کتاب مقدّس کے مطابق جی اٹھے (۱ کرنتھیوں ۱۵: ۳ ۔ ۴ ) ۔

یہ انجیل یعنی خوشخبری چار گواہوں کے وسیلہ سے تحریر ہوئی جن کے نام متی ، مرقس لوقا اور یوحنا ہیں۔ اس کے علاوہ عہد جدید میں جو باقی ۲۳،  کتب ہیں وہ خدا کا ملہم کلام ہے ۔ یہ ان واقعات کا ذکر ہے کہ جب انجیل سنائی گئی تو کیا نتائج بر آمد ہوئے ۔ مسیحا کی تعلیم دینے سے کیا ہوا اور یسوع نام کے وسیلہ سے کیا کچھ ہوا، مومنین کا غیر مسیحیوں کے وسیلہ سے ستایا جانا اور زمانہ آخر کے نشانات ملتے ہیں ۔

یا درکھیں کہ خدا نے یہ پسند کیا کہ ان باتوں کو بھی الہام کے ذریعہ سے لکھوایا جائے تا کہ ایما ندار مضبوط ہو سکیں اور ہر ایک نیک کام کے کرنے کیلئے تیار ہو جائیں ۔

 میں حرف آخر کے طور پر یوں کہوں گا کہ سارا عہد جدید انجیل مقدّس ہی ہے۔ کیونکہ عہد جدید کے ہر سپارے (کتاب) میں خوشخبری ہی کے بارے میں تعلیم ملتی ہے۔ اس خوشخبری کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ پولس رسول فرماتے ہیں کہ اگر کوئی اس کے علاوہ کوئی اور خوشخبری سناتا ہے تو وُہ ملعون ہے۔ میں یوں کہہ رہا ہوں کہ پورا نیا عہد نامہ انجیل مقدّس ہے ۔ اگر آپ شروع کا وُہ صفحہ نکالیں جہاں انجیل مقدّس لکھا ہوا ہے ۔ آپ کو خود ہی معلوم ہو جائیگا کہ وہاں انجیل مقدّس ہی لکھا ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہاں سے انجیل مقدّس شروع ہوتی ہے۔ میں اس سے بڑھ کر اور کوئی جواب نہیں دے سکتا ۔ خُداوند ہم سب کو اپنا فہم عنایت فرمائے کہ اس کے کلام کے عمیق بھیدوں کو پاک روح کی قدرت کے وسیلہ سے جان سکیں ۔ آمین ۔ 

Back to Questions