Home
Questions And Answers

سوال: کیا خدا کو کبھی کسی نے دیکھا یا نہیں دیکھا؟

جواب:

  خدا کو بھی کسی نے نہیں دیکھا ( یوحنا ۱: ۸ ) انہوں نے اسرائیل کے خدا کو دیکھا ( خروج   ۲۴: ۱۰، ۱۷: ۱۹ ) بھی پڑھنا ضروری ہے۔ اب دونوں میں سے کونسا بیان درست ہے کیونکہ دونوں حوالہ جات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ مناسب جواب دینے کیلئے انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ میں مندرجہ بالا حوالہ جات کو آپ کی خدمت میں تحریر کروں ۔ ( خروج   ۲۴: ۱۰، ۱۷: ۱۹ ) اور انہوں نے اسرائیل کے خد کو دیکھا۔۔۔ اور بنی اسرائیل کی نگاہ میں پہاڑ کی چوٹی پر  کا منظر بھسم کرنے  والی آگ  کی مانند تھا۔ اور اور موسیٰ گھٹا ۔۔۔‘‘ (یوحنا ۱: ۸ )خد اکو کسی نے کبھی نہیں دیکھا۔ اکلوتا بیٹا جو باپ کی گود میں ہے اس نے ظاہر کیا۔

 بائبل مقدّس میں کئی مقامات پر مجازی الفاظ مستعمل ہیں جو ہمیں سمجھانے کیلئے  ہوتے ہیں۔ اگر مکاشفہ کی کتاب یا حزقی ایل اور دانی ایل کی کتب میں دیکھا جائے تو ایسی کئی باتیں ہیں جو اصطلاحی، استعاراتی یا مجاری معنی میں استعمال ہوئی ہیں۔ جو اصطلاحی زبان ہوتی ہے اس سے ہمیشہ حقیقی معنی اخذ کئے جاتے ۔ لہذا ان حوالہ جات میں جہاں خد اکو دیکھنے کا جملہ استعمال ہوا وہاں اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ خدامیری اور آپ کی طرح ہے جو دیکھا جاسکتا ہے۔

باغِ عدن میں  خدا نے انسان سے اپنے چہر ہ پھیر لیا تھا ۔اور ہم وُہ مقام گنوا بیٹھے تھے کہ جب ہم آدم میں ہو کر خُدا سے باتیں کیا کرتے تھے۔  انسان نے ہر ممکن طریقے سے کوشش کی کہ وہ کسی طرح  سے دیدارِ اِلٰہی حاصل کر سکے  لیکن ناکام رہا۔ حضرت موسی بھی دیدار الہی کے آرزو مند تھے لیکن اس شرف سے وہ بھی محروم ہی رہے ۔ پولس رسول بھی، یوحنا عارف بھی اس روحانی شبیہ کے قدموں میں گر جاتے ہیں کیونکہ اسے دیکھنے کیلئے وہ آنکھیں ہی نہیں تھیں جن سے دیکھ سکتے ۔ اگر چہ شاعر مشرق علامہ اقبال بہت دیر بعد آئے لیکن لگتا ہے کہ و ُہ ساری  نسلِ  انسانی کے دل کی بات کرتے ہوئے خدا سے مخاطب ہوتے ہوئے  

درخواست کرتے ہیں کہ۔۔۔۔

 کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں۔۔۔کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تیری جبینِ نیاز میں

 میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے لوگ خدا کو دیکھنے کے آرزو مند رہے ہیں۔ اور بالآخر خُد الباسِ مجاز میں انسان کو اپنا دیدار کروانے  آ جاتا ہے۔ اسی لئے تو یہ کہا گیا کہ خد اکو کسی نے بھی نہیں دیکھا۔ اکلوتا بیٹا جو باپ کی گود میں ہے اس نے ظاہر کیا " (یوحنا۱: ۱۸ ) ۔ ہم حضور المسیح میں خدا کو دیکھتے ہیں کیونکہ الوہیت کی ساری معموری ان ہی میں مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے۔ حضور المسیح نے بذات خود بھی فرمایا کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے باپ کو دیکھا اور اس طرح کا دعوی کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ لہذا سوال میں پائے جانے والے دُونوں حوالہ جات درست ہیں ۔ کیونکہ اگر آپ کو تضاد نظر آتا ہے تو پھر دونوں حوالہ جات میں عرصہ کو بھی دیکھیں ۔ امید کرتا ہوں کہ یہ قلیل سا جواب ہمارے سمجھنے کیلئے کافی ہوگا ۔ خداوند آپ کو برکت بخشے ۔ آمین ۔

Back to Questions