Home
Questions And Answers

سوال: خدا تاریکی میں ہے یا نور میں؟

جواب:

 خدا تاریکی میں ہے یانور میں ؟ ذیل میں پائے جانے والے دو حوالہ جات میں تضاد پایا جاتا ہے ۔ اگر بائبل کلام اللہ ہے تو پھر اس میں تضاد کیوں؟ یہ دو حوالہ جات ۱ سلاطین ۸: ۱۲،  اور ۱ تیمتھیس ۶: ۱۶ ہیں ۔ جواب کی وضاحت مطلوب ہے۔

 میرے دوست اس سے قبل کہ اس سوال کا جواب دیا جائے میں وہ کام کرنا چاہتا ہوں جو آپ نہیں کر پائے بلکہ آپ کے بڑے بھی وہ کام نہیں کرتے ۔ اور وُہ  کام پورا حوالہ بمع سیاق و سباق پڑھنا ہے۔ میں یہاں پر قارئین کی آسانی کیلئے ان دو آیات کو لکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔

اسلاطین  ۸: ۱۲  سب سلیمان نے کہا کہ خد اوند نے فرمایا تھا کہ وہ گہری تاریکی میں رہے گا۔

۱تیمتھیس ۶: ۱۶ ،بقا صرف اسی کو ہے اور وہ اس نور میں رہتا ہے جس تک کسی کی رسائی نہیں ہو سکتی۔

 نہ ا ُسے کسی انسان نے دیکھا اور نہ ہی دیکھ سکتا ہے۔ اس کی عزت اور سلطنت ابد تک رہے ۔ آمین۔

ایسے لوگ جو طالب علم کی روح نہیں رکھتے بلکہ نفسانی اور جسمانی ہیں او خدا کے روح کی تہہ کی باتیں سمجھ بھی نہیں سکتے ۔ وہ صرف متضاد الفاظ سے کھیلتے ہیں اور ان کو چن کر ایشو بنا لیتے ہیں اور ایسے لوگوں کی پاک و ہند کی سرزمین میں کمی نہیں رہی اور نہ ہی اَب ہے ۔ دانشمند لوگوں کیلئے یہ کوئی بڑا  پہاڑ نہیں ہے۔ جو اہل دانش نہیں وہ صرف لفظوں سے کھیلتے ہیں۔ ان کا کام ہی لوگوں کے جذبات سے کھیلنا ہے اور ایسے لوگ خدا کی طرف سے نہیں بلکہ اس کی مخالف فوج کی طرف سے ہوتے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سیاق و سباق کے مطابق ان حوالہ جات میں کوئی تضاد نہیں۔ بلکہ دونوں ہی درست ہیں اور میں یہاں پر جواب کی وضاحت پیش کرنا چاہوں گا ۔ جیسا کہ سوال کرنے والے دوست نے حکم کیا ہے ان دونوں حوالہ جات میں دو مختلف باتیں ہیں۔ سلاطین والے حوالہ میں حضرت سلیمان اس وقت کا ذکر فرمارہے ہیں کہ جب خدا کوہ حورب پر سے حضرت موسیٰ سے مخاطب ہوا اور شریعت دی جس میں دس احکام بھی شامل ہیں۔ تو رات کی کتاب اور دیگر حوالہ جات میں لکھا ہوا ہے کہ خدا کو کوئی بھی دیکھ نہیں سکتا کیونکہ انسان میں اس نُور کے دیکھنے کی تاب ہی نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ خدا نے اپنے آپ کو حضرت موسیٰ پر ایک گھٹامیں ظاہر کیا۔ اس کیلئے میں یہاں پر پوری پوری آیات لکھنے سے رہا لیکن اگر ذوق مطالعہ ہے تو وقت کی قربانی دیں اور ذیل میں پیش کئے گئے دو تین حوالہ جات کا مطالعہ فرمائیں خروج ۱۹: ۱۶۔ ۲۵ ، خروج  ۴۰: ۳۴ ،  اور ۲ سیموئیل ۲۲: ۱۰  )۔

اگر چہ میں کئی حوالہ جات پیش کر سکتا ہوں لیکن آپ کی روحانی صحت کیلئے یہی کافی ہوں گے ۔ یہ گہرے بادل اور کالی گھٹا اس وقت خدا کی حضوری کو پیش کر رہے تھے۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ خدا ہمیشہ کالی گھٹا میں ہی رہتا ہے۔ خدا نے اپنے آپ کو مختلف طریقوں سے مختلف اشخاص پر ظاہر فرمایا ۔

یا درکھیں کہ کالی گھٹایا تاریکی سے یہاں مراد گہرے بادل ہیں۔

 اب میں دوسرے حوالہ کی طرف آتا ہوں جوتیمتھیس  کا ہے۔ سیاق و سباق دیکھیں کہ حضرت پولس یہاں کیا فرمارہے ہیں ۔ یا درکھیں کہ بائبل مقدس میں نُو رخدا کے جلال کو ظاہر کرتا ہے۔ نُور سے  مرا در استبازی اور پاکیزگی ہے۔ پولس رسول یہاں پر اس بات پر سے پردہ اٹھا رہے ہیں کہ جب مومنین دنیا کی طرف سے منہ پھیر کر خدا کی طرف رجوع لاتے ہیں تو اس کے بعد وہ تاریکی میں نہیں بلکہ وہ نور میں ہوتے ہیں۔ وہ ایمانداروں کونصیحت فرما رہے ہیں کہ اب تو تم  نور میں ہو اور خداکے پیرو کار ہو گئے ہو جو سراپا نور ہے ۔ وہ نور میں رہتا یعنی نُور کو پسند کرتا ہے۔ آسان لفظوں میں اس سے مراد یہ ہے کہ  مسیحی مومنین جب خدا کے پیروکار ہو چلیں  تو پھر وہ کام کریں جو خدا کو پسند ہیں۔

 قصہ  المختصر یہ کہ دونوں حوالہ جات دو مختلف پہلووں پر رو شنی ڈالتے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی غلط نہیں اور ان میں کسی طرح کا کوئی تضاد نہیں۔ خدا کی حضوری ہر جگہ ہے چاہے تو !نور میں رہے یا جیسے  اس کی مرضی ہے۔ خدائے لامحدود کو اپنے محدود ذہن سے سمجھنے کی کوشش نہ کریں۔ پھر بھی اگر اس کو قید کر سکتے ہیں تو کر لیں لیکن ابھی تک کوئی ایسا ماں کا لال اس دھرتی کے سینہ پر پیدا نہیں ہوا جس نے ایسا کرنے کا دعوی کیا ہو۔ براہ کرم زبور ۱۳۹،  کی تلاوت ضرور فرمالیں ۔ امید کرتا ہوں کہ یہ جواب آپ کیلئے کافی ہوگا ۔ خدا آپ کو اپنی طرف سے دانش و حکمت سے سرفراز فرمائے ، آمین۔

Back to Questions