Home
Questions And Answers

سوال: یسوع نے بیت عنیاہ سے صعود فرمایا یا کوہ صیون سے؟

جواب:

 یسوع نے بیت عنیاء سے صعود فر ما یا یا کو ہِ صیحون سے؟ 

ہمارے کئی ایسے بھی لوگ ہیں جو اس طرح کا سوال کر کے بائبل مقدس پر الزام لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک جگہ پر کیا لکھا ہے اور دوسری جگہ پر کیا۔ قبل اس کے کہ میں اس سوال کا جواب دوں میں دو حوالہ جات آپ کی خدمت میں پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ یہ وُہ  دو حوالہ جات  ہیں جن کو عام طور پر زیر بحث لایا جاتا ہے۔ 

لوقا ۲۴: ۵۰۔ ۵۱،  پھر وہ انہیں بیت عنیاہ کے سامنے تک باہر لے گیا اور اپنے ہاتھ اٹھا کر انہیں برکت دی ۔ جب  وُہ  انہیں برکت دے رہا تھا تو ایسا ہوا کہ ان سے جد اہو گیا اور آسمان پر اٹھایا گیا۔ 

اعمال  ۱: ۹، اور ۱۲، ’’یہ کہہ کر وہ ان کے دیکھتے دیکھتے اوپر اٹھا لیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چھپا لیا ۔  تب وُہ اس پہاڑپر سے جو زیتون کا کہلاتا ہے اوریرو شلیم کے نزدیک سبت کی منزل کے فاصلہ پر ہےیرو شلیم کو پھرے‘‘۔ 

جواب یہ ہے کہ خداوند یسوع مسیح کو ہِ زیتون سے آسمان پر صعود فرمائے ۔ بیت  عنیاہ  یروشلیم کے قریب ایک وادی ہے جو کوہ زیتون کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ مرقس کی انجیل میں یہ بات بہت ہی واضح الفاظ میں لکھی ہوئی ہے۔

مرقس ۱۱: ۱ ، ’’اور جب وہ  یروشلیم کے نزدیک زیتون کے پہاڑ پر بیت فگے اور بیت عنیاہ  کے پاس آئے تو اُس نے اپنے شاگردوں میں سے دو کو بھیجا‘‘۔

یہ حوالہ محض اس وجہ سے دیا گیا ہے تا کہ آپ جانیں کے بیت عنیاہ اور یروشلیم ایک دوسرے سے کوئی زیادہ دور نہیں تھے بلکہ قریب ہی تھے۔ اور یادر ہے کہ جیسے سنعار، بابل کا پر انا نام تھا  اوع یثرب  مدینہ کا پرانا نام تھا اس طرح صیون  یروشلیم کا پرانا نام تھا۔ لہذا یہ بات بالکل واضح ہے کہ خداوند یسوع مسیح کا صعود آسمانی کو ہِ زیتون سے ہوا جو یروشلیم کے ساتھ ہی ہے۔ اچھا ہوگا کہ اسی دوران زکریا ه ۳:۱۴- ۱۱،  کا بھی مطالعہ کر لیں کیونکہ کو ہِ زیتون ہی  وہ مقام ہے جہاں خداوند یسوع مسیح کی آمد ثانی ہوگی ۔

Back to Questions