Home
Questions And Answers

سوال: کیا فرعون کے دل کو خدا نے سخت کیا؟

جواب:

کیا خدا نے فرعون کے دل کو سخت کیا ؟ اگر خدا نے فرعون کا دل سخت کر دیا تو یہ خدا کا ہی قصور ہے ۔ خد ادِ ل کو سخت نہیں کرتا ۔ اس سوال کے جواب کی وضاحت فرمائیں؟ 

 اس سوال کا جواب پانے  کیلئے بہتر ہوگا کہ مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کر ہی لیں (خروج  ۷: ۱۳، ۲۳ ) ۔ مذکورہ آیات میں لکھا ہے کہ فرعون کا دل سخت ہو گیا تھا۔ خروج ۸: ۱۵، ۳۲ ،  میں بھی یہی لکھا ہے۔ مگر خروج  ۱۰: ۲۰ ،  میں لکھا ہے کہ خُد انے فرعون کے دل کو سخت کر دیا ۔ اَب جو اصل حقیقت ہے ، وہ بیان کرنا چاہتا ہوں  

خدا نے اپنے بندہ حضرت موسیٰ کی معرفت  کئی بار فرعون کو توبہ کا موقع فراہم کیا  کہ وہ اپنی ہٹ درمی سے باز آئے اور قوم بنی اسرائیل کو جانے دے۔ یہاں تک کہ خدا نے یکے بعد دیگرے آفات کے سبب سے  بھی اَپنی قدرت دِکھائی کہ  وُہ  مان جائے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ بار بار موقع فراہم کرنے کے باوجود فرعون خدا کی طرف رجوع نہیں  لایا  ۔ یہ سب اِس لیئے تھا  کیونکہ فرعون کا دل سخت تھا۔ جب خدا نے دیکھا کہ وہ  باز نہیں آئے گا تو اُس نے فرعون کو اُن ہی حرکتوں کے سپرد کر دیا  تاکہ اب جو چاہے کرتا پھرے ۔ خدا نے بھی اُس کے دل کو سخت کا سخت ہی رہنے دیا ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ اَپنے بچے کو آگ کے پاس آنے سے منع کرتے ہیں  لیکن وہ بار بار آگ کی طرف جاتا ہے۔ اگر چہ آپ نہیں  چاہتے کہ بچہ جل جائے  تو بھی اسے ذرا آگ اور گرمی کی شدت محسوس کرنے دیتے ہیں کہ شاید اس کے بعد وُہ  باز آجائے۔ آپ اس بچے کو اس کی مرضی پر چھوڑ دیتے ہیں کہ اسے خود تجربہ ہو جائے کہ جو وُہ  کر رہا ہے ٹھیک نہیں ہے۔

ادھر خد ابھی فرعون کو اس کی نالائق حرکتوں میں چھوڑ دیتا ہے کہ جو چاہے کرتا پھرے۔ اصل میں فرعون کا دل پہلے ہی سخت تھا اور خدائے اسے  اُسی سختی میں ہی رہنے دیا۔مراد یہ ہے کہ خُدا موقع بخشتا ہے کہ  ہم اُس کی طرف رجوع لائیں  لیکن جب ہم اُس کی طرف رجوع نہیں لاتے  تو پھر  ہمیں اپنی مرضی کرنے دیتا  ہے  اور  پھر ہمیں اِس کی سزا بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ اصل میں فرعون کا دل پہلے ہی سے سخت تھا ۔ موقع ہونے کے باوجود باز نہیں آیا۔  ہم رومیوں  ۲،  باب میں بھی دیکھتے ہیں۔ میں یہ حوالہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں تاکہ جو کُچھ میں کہتا ہوں اُس کا ثبوت  مہیا ہو جائے ۔ ’’ اس واسطے خدا نے اُن کے دلوں کی خواہشوں کے مطابق انہیں ناپا کی میں چھوڑ دیا کہ ان کے بدن آپس میں بے حُرمت کئے جائیں۔ اس واسطے انہوں نے خدا کی سچائی کو بدل کو جھوٹ بنا  ڈالا اور مخلوقات کی زیادہ پرستش اور عبادت کی۔ بہ نسبت اس خالق کے جو ابد تک  خدائے محمود ہے(رومیوں ۱: ۲۴۔ ۲۸) ۔ میرا ایمان ہے کہ آپ آپ کو اس سوال کا جواب سمجھ آہی گیا ہوگا ۔ میری دعا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر آپ کو اپنا الاہی فہم عنایت فرمائے (آمین )۔

Back to Questions