Home
Questions And Answers

سوال: کیا ہم مسیحیوں کو شکر گزاری کرنا روا ہے؟

جواب:

 کیا ہم مسیحیوں کو شکر گزاری کرنا روا ہے؟

یہ سوال کراچی سے ایک بہن نے پوچھا ہے جو تیسر ٹاؤن میں مقیم ہیں۔ شاید آپ کہیں کہ یہ سوال بھی کوئی پوچھنے والا ہے؟ جی ہاں کوئی شخص کسی بھی طرح کا سوال پوچھ سکتا ہے۔ بہن جی ایک بات تو یہ ہے کہ اگر خدا کچھ بھی نہ دے تو بھی وہ تعریف ، حمد و شکر گزاری کے لائق ہے۔ ویسے خدا ایسا نہیں کرتا کہ کچھ بھی نہ دے۔ تاہم  ۱ تھسلنیکیوں ۱۸:۵ میں لکھا ہے کہ ہر ایک بات میں خدا کی شکر گزاری کرو کیونکہ مسیح یسوع میں تمہاری بابت خدا کی یہی مرضی ہے۔ اگر مزامیر کا مطالعہ کریں تو زیادہ تر مز امیر آپ کو شکر گزاری کے تعلق سے ہی ملیں گے۔ 

لیکن آپ کو شاید یہ سوال اس لیئے پوچھنے کی ضرورت پڑی کیونکہ بہت سے لوگ آج شکر گزاری کرتے ہیں لیکن اس کے پیچھے ریا کاری اور دکھاوا ہوتا ہے ۔ لوگ دیگیں بنا کرگلی  میں چاول تقسیم کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے اور خدا اس سے قطعی طور پر خوش نہیں ہوتا ۔ گھر میں شکر گزاری کی عبادت کرنا ایک گواہی ہے کہ خدا نے آپ کیلئے کیا کیا ،بشر طیکہ اس کے پیچھے بھی ریا کاری کا عنصر نہ ہو ۔ خد اوِلوں کو جانتا ہے ۔ کچھ لوگ شکر گزاری کی عبادت کرتے ہیں اور اس میں وُہ چنے والے چاول پکاتے ہیں جبکہ سوچنا یہ ہے کہ لڑکے یا لڑکی کی سالگرہ ہو تو ہم اعلی قسم کی بریانی پکاتے ہیں لیکن جب شکر گزاری کی بات آئے تو چنے والے چاول ، یہ خدا کیسا تھ مذاق  نہیں تو اور کیا ہے۔ اور خدا اس قسم کی شکر گزاریاں ہمارے منہ پر مارتا ہے۔ ویسے بھی بائبل مقدّس میں یہ کہیں نہیں آیا کہ دیگ پکا کر دو گے ، تب ہی شکرگزاری قبول ہوگی ۔ خدا دِل پر نگاہ کرتا ہے۔ 

ساتھ ہی ساتھ میں یہ بھی کہتا چلوں کہ اس طرح کی منتیں ماننا کہ اگر خدا یہ کر دے تو میں یہ کروں گا سراسر غلط اور خدا کیساتھ سودا بازی کرنا ہے اور اس کیساتھ شرائط باندھنا ہے۔ عہد جدید میں کہیں بھی کوئی ایسا نمونہ نہیں ملتا ۔ ایسا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر خدا ایسا کرے گا تو میں یہ کروں گا اور اگر نہیں کرے گا تو میں بھی نہیں کروں گا۔ یہ کیسی سوچ ہے۔ متی ۱۳:۲۳- ۲۸ کا ضرور مطالعہ کریں ۔ کاش کہ خدا ہماری روحانی آنکھیں کھولے تا کہ ہم داؤد کی طرح  خدا کے دل کے موافق بن جائیں اور اُس کے دل کو سمجھنے والے ہوں۔ آمین ۔

Back to Questions