Home
Questions And Answers

سوال: کیا مسیحیت میں بت پرستی کا کوئی مقام ہے؟

جواب:

کیا مسیحیت میں بت پرستی کا کوئی مقام ہے؟

چونکہ ہم غیرمسیحی معاشرے میں رہتے ہیں اور غیر مسیحیوں کیساتھ بھی ایمان کی باتیں  ہوتی رہتی ہیں جس سبب سے طلباء بائبل مقدّس ہم سے اکثر یہ سوال پوچھتے رہتے ہیں کہ کیا مسیحیت میں بت پرستی جائز ہے؟ کیونکہ غیر مسیحی ہم سے یسوع مسیح اور دیگر مقدّسین کی تصاویر اور کچھ چرچز میں نصب کی گئی مقدسین کی مورتوں کی بابت سوال پوچھتے ہیں۔

اس حقیقت کو نہ بھولیے کہ غیر مسیحی جب ہم مسیحیوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان فرقوں کی نگاہ سے نہیں دیکھتے جو ہم میں پائے جاتے ہیں۔ وُہ  ہم سب کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں کہ جی یہ سب مسیحی ہی ہیں اور کسی حد تک شکر ہے کہ انہیں ہمارے اندر پائے جانے والے فتور کی بابت نہیں معلوم اور وہ ہمیں ایک ہی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جنہیں معلوم ہے ؟ وہ صاف کہتے ہیں کہ آپ میں اور ہم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر غیر اقوام کو ہم میں اور اُن میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تو ہم کہاں سے زمین کا نمک و دنیا کا نور ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے جس پر ساری زندگی سوچتے ہی نہیں رہتا بلکہ اسے عملی جامہ بھی پہنا نا ضروری ہے۔ جب یہ نوجوان ایسی جماعتوں میں جاتے ہیں جہاں تصاویر یا مورتوں کی ممانعت نہیں تو اُن سے اس سوال کا جواب پوچھتے ہیں کہ خروج ۲۰: ۴۔ ۵ ،  میں لکھا ہے کہ تُو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا ۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو او پر آسمان میں یا نیچے زمین پر یازمین کے نیچے پانی میں ہے۔ تو اُن کے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ ان کی عبادت کرنا کیونکہ میں خداوند تیرا خد ائے غیور خدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں اُن کی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں ، تو پھر ہم اپنے چرچز میں یہ کیا دیکھتے ہیں؟ کیا یہ کلام مقدّس کے برخلاف نہیں؟۔

ایک سروے کے مطابق جو انہیں جواب ملتا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ خدا نے خود اس کی بنیاد ڈالی گو یا وُہ ایسا پسند کرتا ہے۔ اس کے ثبوت میں وہ خروج ۳۷ ،  کا حوالہ پیش کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ جب خدا نے موسیٰ کو عہد کا صندوق بنانے کو کہا تو یہ بھی کہا کہ وہاں کڑھے ہوئے کروبی بنانا جن کے منہ ایک دوسرے کی طرف ہوں اور پھر وہ کروبی اپنے پر صندوق کے اوپر پھیلائے ہوئے ہوں وغیرہ۔ تو کیا یہ مورت بنانا نہیں ہے؟ اور پھر جو دوسرا حوالہ دیتے ہیں وہ گنتی  ۲۱: ۴ ۔ ۹ ،  ہے کہ خدا نے موسیٰ سے کہا تھا کہ ایک سانپ بنا اور اُس کو بلی پر لٹکا دے اور جو کوئی سانپ کا ڈسا ہوا اُس کی طرف دیکھے وہ  بچ جائے گا۔ کیا یہ بت پرستی نہیں ہے؟

 جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ جو کوئی جس قسم کا کام کرتا ہے اُس نے اُس جیسا حوالہ بھی ڈھونڈ رکھا ہوتا ہے اور بن سیاق و سباق جائے ذاکر نائک کی طرح اس حوالے کو مروڑ کر پیش کرتا ہے۔ مثلاً نسوار لگانے والے سے ایک دن پوچھا کہ بھائی کیوں نسوار لگاتے ہو۔ اس سے دانت خراب ہوتے اور منہ کا کینسر بھی ممکن ہے کیونکہ نسوار میں چونا  اور نا معلوم اور کیا کیا ہوتا ہے۔ اور اُس نے جواب میں کہا کہ میں نے آپ سے زیادہ بائبل پڑھی ہے کیونکہ ابھی تو آپ کو پیدائش کی کتاب کا پہلا باب بھی نہیں آتا۔ اگر پڑھا ہے تو کیا خُدا نے آدم کو یہ نہیں کہا تھا کہ میں زمین کی کُل ہری بوٹیاں تمہارے کھانے کیلئے دیتا ہوں ؟ ۔ اور عزیز و! ایساہی جواب پان کھانے والا بھی دیتا ہے۔ شراب پینے والا یہ کہہ کر منہ بند کر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ کیا یسوع نے قانائے گلیل میں شراب نہیں بنائی تھی ؟

 جہاں تک میں سمجھتا ہوں، خدا نے موسیٰ کو جو کچھ بنانے کیلئے کہاوہ آسمانی چیزوں کی نقل تھی اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آسمان پر مکمل طور پر پاکیزگی ہی پاکیزگی ہے۔ پاکترین مقام میں عبد کا صندوق خدا کی حضوری کی علامت تھا اور کروبی اس بات کی علامت تھے کہ آسمان پر سرافیم و کروبیم چوبیس گھنٹے خدائے ذوالجلال کی حمد اور اُس کی تمجید کرتے رہتے ہیں۔ ماسوا مخصوص لوگوں کے اگر عہد کے صندوق کو کوئی غیر شخص ہاتھ

 لگا تا تو وہ مر جاتا تھا جو خدا کی بزرگی اور عظمت اور قد وسیت کی علامت تھی۔ خدا کی حضوری میں ناپا کی نہیں رہ سکتی کیونکہ اس کی آنکھیں ایسی پاک ہیں کہ بدی کو دیکھ نہیں سکتا۔ گو یا عبد کا صندوق یہ ظاہر کرتا تھا کہ میں کتنا پاک ہوں اور میری حضوری میں فرشتوں کا کیا کردار ہے اور پاکیزگی کا کیا مقام ہے۔

چونکہ خدا اپنا جلال کسی کو نہیں دیتا جس سبب سے کلام مقدّس میں ان کروبیم کی پوجا کرنے ، ان کے آگے نذرانے گزرانے اور چڑھاوے چڑھانے کیلئے بھی نہیں کہا گیا۔ جب کہ آج کل کی مورتوں کے سامنے ایسا ہی کیا جاتا ہے جیسا غیر معبودوں کو ماننے والے کیا کرتے ہیں۔ اور خدا اس کو قطعی پسند نہیں کرتا۔

 جہاں تک  بَلی پر سانپ کے لٹکانے کی بات ہے وہاں بھی بَلی  یا سانپ کے سامنے جھکنے کی بات نہیں ہو رہی بلکہ اُس کی طرف دیکھنے کی بات ہو رہی ہے کہ جو کوئی جلانے والے سانپ کاڈسا ہوا جس سے موت واقع ہوتی ہے اُس سانپ کی طرف دیکھے گا جو بنا کر لکڑی پر لٹکایا گیا ہے تو وہ بچ جائے گا۔ یاد رکھیں کہ یہ علامتی طور پر آنے والے مسیحا اور اس کے کام کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے رُوحانی معنی یہ ہیں کہ انسان کو سانپ نے عدن میں ہی ڈس لیا تھا۔ سانپ شیطان کو پیش کرتا ہے اور اُس کا بلی پر لٹکا ہونا اس حقیقت کو پیش کرتا ہے کہ مستقبل قریب میں  مسیح موعود آئے گا اور لکڑی یعنی صلیب پر اپنی موت کے وسیلہ سے سانپ کے ڈسے ہوئے انسان یعنی گنہگار کے بچ جانے کا انتظام کرے گا۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ پرانا عہد نامہ نئے عہد نامے کا عکس ہے جس کی اصل تصویر نئے عہد نامے میں نظر آتی ہے۔

 خدا موسیٰ کے وقت پہلے ہی سے ظاہر کر رہا تھا کہ گنہگار انسان کے گناہوں کی معافی اور اُس کی نجات کا انتظام ہونے کو ہے اور وہ انتظام آج سے تقریباً دو ہزار سال پہلے خدا نے صلیب کلوری پر کر دیا۔ اَب صلیب کو دیکھتے رہنے میں نجات نہیں ہے بلکہ صلیب والے پر ایمان لانے کے وسیلہ سے نجات اور گناہوں کی معافی ہے۔ عبرانیوں کا مصنف ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کوتکتے رہنے کی بات کر رہا ہے۔ جس سے یہ مراد ہے کہ آپ کی سوچوں اور خیالوں میں خداوند یسوع مسیح کے علاوہ اور کوئی نہ ہو۔ لہذا مسیحیت میں کسی بھی قسم کی مورت بنانے اور یسوع مسیح یا دیگر مقدّسین کی تصویر تک رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں۔

 بعض لوگ یہ بہانہ بھی پیش کرتے ہیں کہ ہم اپنے بزرگوں کی بھی تو تصاویر گھروں میں رکھتے ہیں ناں ۔ ہاں جی ضرور رکھتے ہیں۔ لیکن اُن سے دعا ئیں نہیں کرتے اور نہ ہی اُن کے گلے میں ہار ڈالتے ہیں اور نہ ہی اُن کو پوجتے ہیں اور نہ ہی اُن سے ہماری کوئی توقعات ہیں۔ جو آج ہم یسوع مسیح کی اور دیگر مقدسین کی تصاویر بنائے پھرتے ہیں ہمیں کیا معلوم کہ اُن کی ہیں بھی کہ نہیں اور اگر ہوں بھی تو اُن کی پوجا پاٹ کرنے اور ان کے آگے اگر بتیاں جلانے کیلئے نہیں کہا گیا ۔ امید ہے کہ میری بات سمجھ میں آگئی ہو گی۔ یاد رہے کہ یہ جواب کسی مسیحی تنظیم یا مشن کے برخلاف نہیں بلکہ ایک طالبعلم کے سوال کے جواب میں لکھا گیا تا کہ نہ صرف  وُہ اس جواب کی حقیقت کو سمجھ پائے بلکہ کئی اوروں کی بھی مدد ہو سکے۔ میری دُعا ہے کہ خداوند ہمیں ان حقائق کے سمجھنے کا گہرا احساس اور فضل بخشے ( آمین )۔ 

Back to Questions