Home
Questions And Answers

سوال: پیدائش 22:3 کے مطابق ہم میں سے ایک سے کیا مراد ہے؟

جواب:

پیدائش ۳: ۲۲ کے مطابق ’’ہم میں سے ایک‘‘ سے کیا مراد ہے؟

ایک عرصہ سے یہ سوال میرے دل میں جوش مارتا تھا کہ وقت پانے پر میں اس پر قلم اٹھاؤں ۔ چند بار مجھ سے یہ سوال پوچھا بھی گیا لیکن میں ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ مطالعہ کروں گا اور پھر بتاؤں گا جبکہ دیگر مصروفیات مجھے ہمیشہ دبائے رکھتی تھیں اور اس سوال پر کام کرنے کا وقت نہ مل پایا۔ ہماری ہر روز آن لائن بائبل اسٹیڈی کی کلاس ہوتی ہے اور ۱۴، اگست ۲۰۱۴  کو ایک بہن نے کلام کے بعد یہ سوال پوچھا جو اگر چہ اُس دن کے مضمون سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا لیکن سوال بہت ہی اہم ترین تھا۔ میں بروز جمعرات کو ہی یہ کلاس لیتا ہوں۔ چونکہ اس آئی ڈی پر کئی اور بھی خدا کے خادم ہوتے ہیں جس سبب سے میں واقعی اُن سے سیکھنا چاہتا تھا لیکن چونکہ یہ سوال ہی ایسا ہے جس سبب سے انہوں نے مجھے یہ ذمہ داری دی کہ جواب دوں۔ میں نے وقتی طور پر بہت ہی خوبصورت جواب دیا اور وہ یہ تھا کہ میں نہیں جانتا لیکن یہ ضرور وعدہ کیا کہ اگلی جمعرات کو مطالعہ کرنے کے بعد ضرور جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

میں اُس دن سے مسلسل مطالعہ کرنا شروع ہو گیا اور کئی تفاسیر، انٹرنیٹ اور دیگر علماء ساتھیوں سے بھی معلومات فراہم کرنا شروع ہو گیا۔ بالآخر میں حتمی نتیجہ پر پہنچ ہی گیا اور پھر چاہا کہ نہ صرف جمعرات کی بائبل اسٹیڈی کی کلاس میں ہی جواب دیا جائے بلکہ اس جواب کو تحریر کیا جائے تا کہ بہت سے اور طلباء کلام مقدس کا فائدہ ہو سکے۔ یوں میں کافی محنت کے بعد اگلی جمعرات یعنی ۲۱،  اگست کو جواب دینے کے قابل ہو گیا۔ اس مضمون پر لکھنے کے بعد میں نے چند دوستوں کو بھی یہ مضمون بھیجا اور اُن کے تصدیق  کرنے کے بعد  میں آپ کی خدمت میں پیش کرنے والا ہو پایا۔

اس سوال کے جواب میں علماء بائبل مقدس مختلف خیالات پیش کرتے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ جب خدا نے کہا کہ انسان ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا تو خد اجب "ہم" کا لفظ استعمال کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اور فرشتوں کو شامل کرتا ہے کیونکہ خدا کے علاوہ آسمان پر فرشتے ہی تھے اور وہ "ہم" کا صیغہ جمع اپنی ذات اور فرشتوں کیلئے استعمال کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرشتوں میں سے ایک نے خدا کے برخلاف بغاوت کی اور یوں اس گناہ کے سبب سے اُسے زمین پر پٹک دیا گیا۔ وہ جو ہم میں سے ایک ہے  وُہ لوسیفر ہے۔ گویا نچوڑ کے طور پر وہ یہ بات کہتے ہیں کہ ’’ہم میں سے ایک‘‘سے مراد خدا اور فرشتے ہیں اور وہ جو ایک  تھا وُہ لوسیفر کے  سوا کوئی اور نہیں تھا۔

یہ جواب اس لیے معتبر نہیں کیونکہ خدا ’’ہم‘‘ میں فرشتوں کو شامل نہیں کر سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا خالق ہے اور فرشتے مخلوق ہیں۔ خدا اپنے جیسا مقام فرشتوں کو نہیں دے سکتا۔ اس لیئے لفظ ’’ہم ‘‘میں فرشتے شامل نہیں ہو سکتے اور یوں یہ جواب بے معنی ٹھہرا اور معتبر نہیں۔ جو دوسرا خیال پیش کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ’’ہم‘‘ خدائے ثالوث کی طرف اشارہ ہے اور اس خیال کے ماننے والے یہ کہتے ہیں کہ یہ تثلیث کی طرف اشارہ ہے۔ اگر یہ تثلیث کی طرف اشارہ ہے تو تثلیث تو پھر تین میں ایک اور ایک میں تین کی بات ہے۔ اگر خدا یہ کہتا ہے کہ ہم میں سے ایک تو اس’’ ایک‘‘سے مراد باپ ہے یا بیٹا ہے یا روح القدس ہے؟۔ انسان چونکہ ’’ایک ‘‘کی مانند بن گیا ہے تو پھر وہ ایک کون ہے؟ کس کی طرف اشارہ ہے؟۔ اگر ہم تینوں میں سے کسی ایک کا نام لیتے ہیں کہ جی بیٹے کی مانند بن گیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیٹے کو ہی نیک و بد کی پہچان ہے، باپ اور رُوح القدس کو نہیں ؟ یا باپ کو نیک و بد کی پہچان ہے، تو پھر گویا ہم یوں کہہ رہے ہیں کہ بیٹے اور روح القدس کو سمجھ نہیں ہے؟۔ یہ جواب غلط ہی نہیں بلکہ علم الہیات کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔

جو آخری اور حتمی جواب ہے اور جس کیساتھ میں بھی متفق ہوں   وُہ  یہ ہے کہ یہاں خدا بات کر رہا ہے اور عبرانی زبان میں جو ’’ہم ‘‘کیلئے لفظ استعمال ہواؤ " الوہیم" ہے اور یہاں پر جو ہم میں سے ایک لکھا ہے اُس کیلئے عبرانی زبان میں ’’میری طرح ‘‘ہے۔ یہ تراجم کا مسئلہ ہے۔ ایک لحاظ سے گویا ترجمہ یہ ہوگا کہ انسان نیک و بد کی پہچان میں میری طرح یا مانند ہو گیا ۔آپ کو معلوم ہے کہ شیطان نے آزماتے وقت کہا تھا کہ اس پھل سے کھاؤ تو تم ہرگز نہ مروکے بلکہ نیک و بد کی پہچان میں خدا کی مانند بن جاؤ گے۔ اگر چہ میں عبرانی زبان سے نابلد ہوں لیکن یہ بات میں علماء کی تحقیق پر مبنی کر رہا ہوں ۔ جیسے کسی وقت شیطان خدا کی مانند بننا چاہتا تھا ویسے ہی انسان بھی خدا کی مانند بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہمیں یہ سوچنا بھی نہیں چاہئے کہ شاید گناہ کی پہچان کے بعد  وُہ باپ کی مانند بن گیا یا بیٹے یا روح القدس کی طرح بن گیا۔ یہ تعلیم ہمارا اپنا ذ ہن بھی قبول نہیں کرے گا۔

اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ انسان خد ابن گیا تھا بلکہ جیسے خدا جانتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا نہیں، اسی طرح انسان کو بھی گناہ کی پہچان حاصل ہو گئی۔ یہی سبب تھا کہ وہ اپنے آپ کو پتوں سے چھپاتا تھا، خدا سے چھپتا تھا، ننگے پن کا احساس پیدا ہو گیا اور خدا کو منہ نہیں دکھا پا رہا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ میں پیدائش  ۱: ۲۶ ، کا بھی ذکر کرتا چلوں جہاں خدا نے کہا تھا ’’ آؤ ہم ‘‘انسان کو اپنی صورت پر بنائیں۔ یہ بھی خدائے ثالوث کی طرف ہی اشارہ ہے۔ یعنی انسان خدا کی صورت پر بنایا گیا۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ چونکہ ہم نے خدا کو دیکھا نہیں اس لیے یہ قیاس کرنا شروع کر دیں کہ شاید خدا انسان کی طرح ہے۔ شاید اُس کی بھی داڑھی مونچھیں اور کان ہاتھ ہوں۔ جی اس سے یہ مراد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ جو اوصاف خداوندی ہیں، اُس نے اُن میں سے کچھ انسان میں ڈالی ہیں۔ جیسے خدا پاک ہے ، اُس نے انسان کو بھی پاک بنایا۔ خدا آزاد مرضی ہے، اُس نے انسان کو بھی آزاد مرضی بنایا۔ خُدا صاحب اختیار ہے اُس نے انسان کو بھی کسی حد تک عدن میں اختیار بخشا، اگر چہ وُہ  اختیار محدودتھا۔ میں امید کرتا ہوں کہ کسی حد تک اس سوال کا جواب سمجھ میں آہی گیا ہوگا ۔ خداوند آپ کو برکت بخشے اوراپنے جلال کیلئے استعمال کرتا رہے۔ آمین ۔

Back to Questions