Home
Questions And Answers

سوال: کیا میں اِس حالت میں چرچ جا سکتی ہوں؟

جواب:

شاید آپ اس عنوان کو ہی پڑھ کر چونک گئے ہوں کہ یہ کیسا مضمون ہے لیکن یقین کریں   کئی بار مجھ سے ایک سوال پوچھا گیا اور ہر بار میں نے زبانی جواب دینے کی کوشش کی۔ حال ہی میں ایک عزیزہ نے کسی دوسرے ملک سے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ یہی سوال پوچھا تو پھر خدا کے  رپوح نے تحریک دی کہ اس مضمون پر نہ صرف تحقیق کروں بلکہ لکھوں بھی تا کہ یہ بہت  سی  ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کیلئے فائدہ مند ہو سکے۔

 سوال یہ ہے کہ ایک مسیحی بیٹی سنِ بلوغت کو پہنچتی ہے تو فطرت کے اصول کے مطابق  ہر ماہ ایک خاص فطرتی عمل سے گزرتی ہے۔ چونکہ  وُہ سوچتی ہے کہ میں ناپاک ہوں اور معلوم نہیں کہ میں اس حالت میں چرچ جا سکتی ہوں کہ نہیں جس سبب سے اس کیلئے چرچ جانا محال ہو جاتا ہے اور یہ سوال و ہ ہر کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتی اور نہ ہی بائبل مقدّس کے علاوہ اُردو میں ہمارے پاس کوئی ایسا تحریری مواد موجود ہے جو ایسے مسائل پر بات کرے اور نہ ہی ہم اس مضمون پر کبھی بات کرتے ہیں۔ میں نے مناسب سمجھا کہ اس سوال کے جواب پر قلم اٹھاؤں تا کہ نہ صرف  مسیحی شمارے  میں بلکہ فیس بک اور اپنی ویب سائٹ پر بھی اس سوال کا جواب پیش کروں تا کہ بہتوں کیلئے فائدہ مند ہو سکے۔

جواب حاضر خدمت ہے لیکن صاحب فہم اور صاحب علم حضرات سے درخواست ہے کہ وہ اس جواب کو پڑھنے کے بعد اپنی عادت سے مجبور ہو کر اپنے علم کا لوہا منوانے کیلئے تنقید کرنے کی کوشش نہ کریں۔ آپ بھی اور آپ کا علم بھی میرے لیئے باعث فخر ہے لیکن کتنا ہی اچھا ہوتا کہ پہلے آپ خود ہی اس مضمون پر قلم اٹھاتے تاکہ مجھے لکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ ابھی بھی بہت سے ایسے مضامین ہیں جن پر کسی نے نہیں لکھا اور میدان بہت وسیع ہے اور فصل بھی بہت ہے۔ آسان ترین زبان اور الفاظ میں ایسے سوالات کے جوابات دے کر کلیسیاء کی ضرورت کو پورا کیجئے۔

مضمون ہذا پر روشنی ڈالنے کیلئے میں آپ کی خدمت میں سب سے پہلے شریعت موسوی سے حوالہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ کیا کہتی ہے۔ یہاں اتنی گنجائش نہیں کہ میں احبار کی کتاب کا پور ۱۵باب نقل کروں تا ہم چند

 آ یات ضرور لکھنا چاہوں گا۔ احبار ۱۵: ۲۵۔ ۲۶،  اور پھر ۳۱ آیات ۔’’اور اگر کسی عورت کو ایام حیض کو چھوڑ کر یوں بہت دنوں تک خون آئے یا حیض کی مدت  گزرنے پر بھی خون جاری رہے تو جب تک اُس کو یہ میلا خون آتارہے گا جب تک وہ  ایسی ہی رہے گی جیسی حیض کے دنوں میں رہتی ہے۔ اور اس جریان خون کے کل ایام میں جس جس بستر پر دہ سوئے گی وہ حیض کے بستر کی طرح نا پاک ہوگا اور جس جس چیز پر وہ بیٹھے گی  وُہ  چیز حیض کی نجاست کی طرح نا پاک ہوگی۔ اور اس طریق سے  قوم بنی اسرائیل کو ان کی نجاست سے الگ رکھنا تا کہ وہ میرے مقدِس کو جو ان کے درمیان ہے نا پاک کرنے کی وجہ سے اپنی نجاست میں ہلاک نہ ہوں‘‘۔

شریعت موسوی نے جو کہا اس کا اختصار ہی ہے۔ دوران خون یا خون کی مرض کے دوران عورت نا پاک ہے اور اس سبب سے سونے یا  اُٹھنے بیٹھنے  کی جگہ بھی اس کے خون کے سبب سے ناپاک ٹھہرتی ہے۔ بنی اسرائیل کو اس نجاست سے دور رہنے کیلئے کہا گیا تھا اور خدا کے مسکن یا مقدِس میں تو ایسی حالت میں خواتین کا داخلہ قطعی طور پر ممنوع تھا۔

 دوران مطالعہ جو بات میری سمجھ میں آرہی ہے ؟  وُہ یہ ہے کہ قدیم دور میں جب لوگ شکار کیا کرتے تھے یا خیموں میں رہتے  یا کھیتی باڑی کیا کرتے تھے تو خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہو کر کام کیا کرتی تھیں۔ جب بھی خواتین کا یہ وقت آتا تو اُن کو  معلوم نہ  ہوتے ہوئے بھی یہ فطرتی عمل شروع ہو جاتا تھا۔ اُس وقت خواتین کے پاس وُہ سہولیات نہیں تھیں جو آج کے دور میں جدید سائنس، شعبہ طب اور تحقیق نے مہیا کر رکھی ہیں۔ اس حالت میں جہاں بھی جاتیں ، وُہ نشانات چھوڑتی چلی جاتی تھیں اور جب تک یہ وقت گزر نہ جاتا اس طرح ہوتا رہتا تھا۔ اس حالت میں خواتین الگ تھلگ رہتی تھیں اور کسی بھی  چیزکے ناپاک  ہونےسے بچنے  کیلئے وُہ  اپنے آپ کو تارک الد نیا سمجھ لیتی تھیں۔ یہاں تک کہ باقی خاندان والوں سے بھی وُہ کٹ کر رہ جاتی تھیں۔ اس دوران وہ عبادت گاہوں میں بھی نہیں جاسکتی تھیں کیونکہ خدانے خود منع فرمایا تھا۔ اس کا سبب  یہی تھا کہ خدا کے گھر میں اس ناپاکی کے نشانات ہو جاتے تھے جو اچھا نہیں لگتا تھا۔ لہذا خدا نے ایسی حالت میں عبادت گاہ میں آنے سے منع فرمایا۔

مسیح یسوع کے زمانہ تک ایسا ہی ہوتا رہا۔ اس خاتون کا واقعہ آپ کو یاد ہی ہوگا جس سے بارہ برس سے خون جاری تھا اگر چہ یہ فطرتی عمل سے کہیں زیادہ بڑھ کر بیماری تھی۔ یہودی شریعت کے مطابق  اُسے سب لوگوں سے دور رہنا تھا۔ اُس وقت کے داڑھیوں والوں یعنی فریسیوں اور فقیہوں سے ڈرتی بھی تھی لیکن اس کے باوجود وُہ اس بیماری سے جان بچانے کیلئے دل میں سوچنے لگی کہ یسوع کو پکڑنا اور کہنا کہ مجھ پر ہاتھ رکھ کر دُعا کر ے  کہ بس اگر مجھے یہی شرف حاصل ہو جائے  تو میں شفا پا لوں گی۔ يسوع عالمِ کُل ہونے کی وجہ سے جانتا تھا کہ یہاں کیا ہونے والا ہے۔  یسوع کہہ سکتاتھا کہ پطرس  !وُہ  جو خاتون آرہی ہے اُس کو ادھرمت آنے دینا کیونکہ  وُہ ناپاک ہے۔ لکھا ہے کہ جو  کچھ اُس عورت سے ہوا تھا محسوس کر کے ڈرتی اور

 کا نپتی ہوئی آئی اور اس کے آگے گر پڑی اور سارا حال  سچ سچ  اُس سے کہہ دیا۔ اس کے باوجود یسوع نے اس عورت کو کوئی فتوی نہیں دیا بلکہ اس کے ایمان کی تعریف کی۔ آپ مرقس  ۵: ۲۵۔ ۳۴ کی تلاوت فرما سکتے ہیں۔

 اگر خداوند نا پاکوں کو اپنے پاس نہ آنے دے تو پھر پاک کون ہے جو اُس کے حضور آسکتا ہے۔ دہ گناہوں کے مریضوں کیلئے اور گنہگاروں یعنی نا پاکوں کیلئے ہی تو آیا۔ لہذا یہ ایک فطرتی عمل ہے۔ یہ کسی کا کوئی گناہ نہیں۔ اس فطرتی عمل کو روکا نہیں جا سکتا ۔لیکن جدید سائنس اور شعبہ طب نے ایسی اشیاء یا سہولیات تیار کر رکھی ہیں یہاں تک کہ ایسی سہولیات تیار کرنے والی کمپنیاں خوب پیسہ کماتی ہیں کہ ایسی حالت میں آپ اپنے آپ کو سنبھال سکتے اور کہیں بھی آجا سکتے ہیں اور یہاں تک کہ آپ عبادت میں بھی جاسکتے ہیں۔ لیکن عبادت میں یا کسی بھی تقریب میں جانے سے پہلے اپنے آپ کو اچھی طرح سے سنبھالنا ضروری ہے۔ ماہرین یہ کہتے ہیں کہ جدید سائنس نے خواتین کے اس طرح کے تحفظ کیلئے اتنا کچھ بنا دیا ہے کہ وہ ایسی حالت میں سومنگ پول میں نہا بھی سکتی ہیں۔

 جس وجہ سے شریعت نے منع کیا ہے کہ مقدس میں ناپا کی کی صورت میں نہ جائیں اُس کی وجہ یہی تھی کہ خواتین کا اپنا آپ سنبھالنا مشکل تھا اور اس طرح سے خدا کی حضوری میں آنا اچھا نہیں تھا۔ آج چونکہ انتظامات ایسے ہیں جن کے استعمال کرنے کے ذریعہ آپ اپنے آپ کو بھی سنبھال سکتے ہیں اور خدا کی حضوری میں بھی جاسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ تمام روحانی فرائض ادا کر سکتے ہیں ، عشائے ربانی بھی لے سکتے اور یہاں تک کہ اگر پہلے سے پروگرام طے ہے تو بپتسمہ بھی لے سکتے ہیں۔ اَب شریعت ہمیں خدا کی حضوری میں آنے سے روک نہیں سکتی ۔ عہد جدید سے ایک حوالہ پیش کرتا ہوں اور اس میں یہ بھید کھلتا ہے کہ مسیح نے ہمارے واسطے کیا کیا۔

 انسیوں ۲: ۱۱۔ ۱۷ ’’پس یاد کرو کہ تم جو جسم کی روح کے اعتبار سے غیر قوم والے ہو اور وہ لوگ جو جسم میں ہاتھ سے کیئے ہوئے ختنہ کے سبب سے مختون کہلاتے ہیں تم کونا مختون کہتے ہیں۔ اگلے زمانہ میں مسیح سے جدا اور اسرائیل کی سلطنت سے خارج اور وعدہ کے عہدوں سے ناواقف اور نا امید اور دنیا میں خدا اسے جدا تھے۔ مگر تم جو پہلے دور تھے اب  خداوند یسوع مسیح کے خون کے سبب سے نزدیک ہو گئے ہو۔ کیونکہ وہی ہماری صلح ہے جس نے دونوں کو ایک کر لیا اور جدائی کی دیوار کو جو بیچ میں تھی ڈھا دیا۔ چنانچہ اس نے اپنے جسم کے ذریعہ سے دشمنی یعنی وہ شریعت جس کے حکم ضابطوں کے طور پر تھے موقوف کر دی تاکہ دونوں سے اپنے آپ میں ایک نیا انسان پیدا کر کے صلح کرادے۔ اور صلیب پر دشمنی کو مٹاکر اور اس کے سبب سے دونوں کو ایک تن بنا کر بعد اسے ملائے اور اس نے آکر تمہیں جو دور تھے اور انہیں جو نزدیک تھے، دونوں کو صلح کی خوشخبری دی۔

 مندرجہ بالا حوالے کے مطابق مسیحی  لوگ اب شریعت کے ماتحت نہیں ہیں جس سبب سے شریعت کا یہ قانون ہم پر لاگو نہیں ہوتا اور اس لیئے بھی کیونکہ آج معتبر انتظامات موجود ہیں۔ لیکن اِس کے باوجود میں یہ کہتا چلوں کہ پھر بھی کچھ پابندیاں آج بھی لاگو ہوتی ہیں اور کچھ خاص اصول آج بھی واجب العمل ہیں۔ مثلا ۱ پطرس ۳: ۷، ’’ اے شوہر وتم بھی بیویوں کے ساتھ عقلمندی سے بسر کر اور عورت کو نازک ظرف جان کر ان کی عزت کرو اور یوں سمجھو کہ ہم دونوں زندگی کی نعمت کے وارث ہیں تاکہ تمہاری دعا ئیں رُک نہ جائیں‘‘ ۔ اگر اس آیت کو شادی شدہ حضرات زیر بحث مضمون کی روشنی میں ایک دو مرتبہ غور سے پڑھیں تو مطلب واضح ہو جائے گا کہ اور کونسے اصول ہیں جن کی پاسداری ضروری ہے۔ بس اشارہ ہی کافی ہے۔

 یاد رکھیں کہ اگر یہی نا پا کی ہے جس کے سبب سے ہم  چرچ  نہ جائیں توبپھر کونسی راستبازی لے کر خدا کے حضور جانے کی ٹھان رہے ہیں؟ اس صورت میں تو ہم میں سے کوئی بھی خدا کے حضور جانے کے لائق ہی نہیں ۔ کلام کہتا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی راستباز نہیں، ایک بھی نہیں تو پھر کونسی راستبازی لے کر خدا کے حضور جانے کی ٹھان رہے ہیں ؟ ۔ اگر  اسی ایک عیب سے ہم نا پاک ہیں تو چلو اس کی بات ہی نہیں کرتے باقی جو ہمارے  اندر عیب پائے جاتے ہیں انہیں کہاں چھپائیں گے؟ مثلاً جھوٹ ، فریب، بد گوئیاں ، یہوداہ اسکر یوتی کی  روح ، پیسہ کی خاطر بک جانا ، دو نمبر کام کرنا ، دوسروں کی ٹانگیں کھینچنا،  جھلس اور حسد کی روح ، ارے کو نسا منہ لے کر خدا کی حضوری میں جائیں گے؟

 میں امید کرتا ہوں کہ میرے بہت سے قارئین کے ذہن میں ایک عرصہ سے یہ جو سوال تھا اُس کا جواب اُنہیں مل ہی گیا ہو گا۔ مجھے آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ خداوند آپ کو برکت بخشے اور اپنے جلال کیلئے کثرت سے استعمال فرمائے۔ آمین۔

Back to Questions