Home
Questions And Answers

سوال: خونی چاند سے کیا مراد ہے؟

جواب:

 ۲۰۱۲، اور ۲۰۱۶ء میں نظر آنے والے خونی چاند

سے متعلق کیا خیال ہے؟

عبد حاضر میں مندرجہ بالا مضمون دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ گرفت کرنے والا ہے اور میں خداوند کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس مضمون پر اکتوبر ۲۰۱۵ء کے اختتام  پر محدود سے وقت میں کچھ تحقیق کرنے اور قلم اٹھانے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ خونی چاند سے مراد ہر گز یہ نہیں ہے کہ اس سے خون کی بوند یں  ٹپک رہی ہوں یا وہاں بھی ڈائش پہنچ گئے ہیں اور وہاں بھی کافر موجود ہیں جن کے گلے کاٹ رہے ہیں اور خون ٹپک رہا ہے۔ ایسا ہر گز نہیں بلکہ اس سے علم السائنس اور علم نجوم کے مطابق ایسی تبدیلیاں مراد ہیں جن سے چاند کا رنگ گہرا سرخ ہو جائے گا۔خوشی چاند اُس وقت  نظر آتا ہے جب زمین سورج اور چاند کے بیچ میں آجائے ۔ جب سورج اچی شعائیں زمینی ماحول پر سے گزار کر چاند پر پھینکتا ہے تو اُس کا لال سایہ چاند کو سرخ  بنا دیتا ہے۔

 گزشتہ ۵۰۰، سالوں میں کبھی بھی خونی چاند کا نظر آنا تو ہوتا رہا ہے لیکن اس طرح سے ترتیب وار چار بار ایسا نظر آنا معمولی بات نہیں۔ اب ہم اس بات پر غور کریں گے کہ حقیقت کیا ہے، یہ خونی چاند کیا ہے اور بائبل مقدس اس سے متعلق کیا کہتی ہے۔

کلام پاک میں اس طرح کے چاند کا ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ذکر ہوا ہے۔ یو ایل نبی کے صحیفہ میں خدا فرماتا ہے اس سے پیشتر کہ  خداوند کا خوفناک روز عظیم آئے آفتاب تاریک اور مہتاب خون ہو جائے گا (یو ایل ۳۱:۲)۔ اعمال کی کتاب میں  پطرس  رسول  ، یوایل  نبی کی اس آیت کو دہراتا ہے۔ مکاشفہ کی کتاب میں لکھا ہے کہ اس بڑی مصیبت کے دوران جب اُس نے چھٹی مہر کھولی تو میں نے دیکھا کہ ایک بڑا بھونچال آیا اور سورج کمبل کی مانند کالا اور سارا چاند خون سا ہو گیا (مکاشفہ ۶: ۱۲) ۔ آپ مندرجہ ذیل حوالہ جات بھی تلاوت کر سکتے ہیں (یسعیاہ ۱۰:۱۳ ، یوایل ۱۵:۳؛ متی ۲۹:۲۴؛ اور لوقا ۲۸-۲۵:۲۱)۔تورات کی پہلی کتاب پیدائش سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کہ سورج، چاند اور ستارے زمانوں کے امتیاز کیلئے ہیں اور خدا نے کہا کہ فلک پر نیر ہوں کہ دن کو رات سے الگ کریں اور وہ نشانوں اور زمانوں اور دنوں اور برسوں کے امتیاز کیلئے ہوں  ( پیدائش ۱: ۱۴) اور اس کی مثال آپ پوری بائبل مقدس میں دیکھ سکتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ کسی طرح سے مجوسیوں کی ستارے نے رہنمائی کی اوروُہ یسوع مسیح کا دیدار کر پائے (متی ۲: ۱ ۔ ۱۱)۔ ذرا سوچیں کہ کس طرح سے سورج  ٹھہر گیا جب تک کہ  مردِ خدا یشوع نے جنگ میں فتح یابی حاصل نہ کر لی ( یشوع ۱۰: ۱۱۔ ۱۴) ۔ اَپ یوں لگتا ہے کہ خدا ایک بار پھر اسی طرح  سے کلام کرنے کو ہے۔ ساری دنیا میں مختلف قسم کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور یہ تبدیلیاں کسی نہ کسی قسم کا پیغام ضرور دے رہی ہیں۔ ایک خادم نے یہاں تک کہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ دو سالوں کے دوران مشرق وسطی اور اسرائیل میں کچھ ایسے واقعات ہونے والے ہیں جن سے دنیا کی تاریخ بدل جائے گی۔ ڈاکٹر جان ب ہا گئی  نے بتایا کہ ۲۰۱۴، اور پھر ۲۰۱۵ کے ترتیب وار چار خونی چاند اسرائیل کیلئے ایک نمایاں تاریخ رقم کریں گے۔ ماہرین علم نجوم بھی ان چار خونی چاندوں کو آخرت کے نشانات میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔

اپریل کو خونی چاند نظر آیا اور اس وقت یہودیوں کی عید فسح  تھی اور اس کے بعد اکتو بر ۲۰۱۳ء کو نظر آیا اور اس وقت یہودیوں کی عید خیام تھی ۔ ۲۰۱۵ میں بھی خونی چاند کے ظہور کے اوقات کچھ اس طرح سے قریب ترین ہی ہیں یعنی اپریل ۲۰۱۵، اور ستمبر ۲۰۱۵ ،اور ان چاروں خونی چاندوں کے ظہور اُس وقت ہیں کہ جب یہودیوں کی اہم ترین عیدیں ہیں۔ ارض و سماء کو سنبھالنے والا خدائے قادر ہی ہے جو ان کو قائم رکھے ہے۔ اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ خاص وقت اور خاص موقع پر انہیں حرکت دے۔ لیکن یہ بات بہت ہی غور طلب ہے کہ ہر بار یا تو عید خیام ہے یا عیدفسح ہے۔

ماضی رفتہ میں اور یہودی تاریخ میں شاید ہی کبھی ان عیدین پر یا ان تاریخوں پر ایسا ہوا ہو۔ ہسپانیہ نے یہودیوں کو ۱۹۳۳ء میں نکالا اور اُدھر کولمبس نے امریکہ دریافت کیا جس کی وجہ سے امریکہ، یہودی لوگوں کیلئے جنت کی نظیر بن گیا۔ جان ہاگئی جو خدا کے عظیم خادم ہیں بتاتے ہیں کہ ان تمام واقعات کا آغاز کسی المیہ سے ہوتا ہے لیکن اختتام فتح مندی کی للکار سے ہوتا ہے۔ مثال ۱۹۴۸ ، میں اسرائیل ایک قوم و ملک کی حیثیت سے قائم ہوا۔ دو ہزار سال کے بعد ۲۶ ممالک سے خدانے ان کو جمع کیا اور ایک ہی دن میں وہ ایک قوم کی حیثیت سے قائم ہو گئے۔ یہ اس وقت ہوا جب ۱۹۴۱ء سے لیکر ۱۹۴۵ء تک جرمن نازیوں نے یہودیوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا۔ ۱۹۷۰ء میں یہودیوں نے ۶ ، دِن  کی جنگ لڑی اور پھر  یروشلیم  کو فتح کر لیا ۔ ۲۰۰۰ سالوں کے عرصہ میں یہودی لوگ بطور قوم  یروشلیم   میں پہلی بار اکٹھے ہوئے۔

 جان  ہاگئی نے مزید کہا کہ ۲۰۱۳ ، اور ۲۰۱۶ء کے خونی چاند اس بات کی بھی علامت ہو سکتے ہیں کہ جب ایران ایٹمی ہتھیاروں پر خوب کام کر رہا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کے پڑوسی مصر اور شام انتہائی ابتری کا شکار ہیں۔ لگتا ہے کہ اگر اسرائیل کوئی فوجی حل نکالے تو پھر ممکن ہے کہ ایران ایٹمی حملہ نہ کرے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کی وجہ سے دنیا کی تاریخ بدل کر رہ جائے گی۔ جان ہاگئی نے ۲۰۰۶ء میں ایک تنظیم قائم کی جس کا نام " کر سچن یو نائیٹ  وِد  اسرائیل" ہے اور اس وقت سے وہ اس تنظیم پر کام کر رہے ہیں۔ انہیں مخالفین کی طرف سے کئی دھمکیاں بھی موصول ہوئیں۔ لیکن اس کے باوجود جان ہاگئی نے امریکی مسیحوں کو خبر دار کیا کہ آواز اٹھانے اور بُرائی کو برائی کہنے کا ابھی وقت ہے۔ جب یہ سب کچھ ہو جائے گا تو پھر  یروشلیم  کی دیواروں پر اسرائیل کا جھنڈا بلند ہوگا۔

 میں سمجھتا ہوں کہ مومنین کلیسیاء کو خوشخبری کے سنانے کا کام مزید تیز کر دینے کی ضرورت ہے تا کہ غیر قو میں  مسیح  خداوند پر ایمان لا کر ہمیشہ کی زندگی ، گناہوں کی معافی اور حیات ابدی حاصل کریں اور فردوس مومنین سے بھر جائے۔ میرا کوئی دعویٰ نہیں ہے کہ یسوع مسیح کی آمد اِن دو سالوں میں ضرور ہو کر رہے گی لیکن ایسا ممکن بھی ہے کیونکہ عالمی حالات اس بات کی علامت ہیں کہ وقت نزدیک ہے۔ خدا کرے کہ ہم اس خوشخبری کے کلام کو دوسروں تک لے کر جائیں تا کہ مسیحا کی آمد و بادشاہت کیلئے  مکمل طور پر تیاری ہو سکے۔ خداوند ہمیں زیر بحث موضوع پر سیکھنے  کاگہرا احساس و فضل بخشے ۔ آمین۔

Back to Questions