Home
Questions And Answers

سوال: پاکستانی کلیسیاء کیوں کر مغرب کی قرض دار ہے؟

جواب:

کیا پاک و ہند کی کلیسیاء روحانی طور پر مغرب کی قرض دار ہے؟ ۔ اگر ہے تو یہ قرض کیسے  چُکایا جا سکتا ہے؟

حال ہی میں مجھے یورپی کلیسیاؤں کا دورہ کرنے کا اتفاق ہوا اور یہ ایک ایسا تجربہ تھا جو شاید پہلے کبھی نہیں ہوا۔ بہت ہی خوبصورت اور قدیم تو اریخی گرجا گھر ہیں۔ ان گرجا گھروں میں سے کئی ایسے ہیں جہاں کئی ملین ڈالرز کے آرگن لگے ہوئے ہیں۔ گھر جا گھروں میں رکھی ہوئی اور بنائی گئی ایک ایک چیز ماہر کاریگری ، نہایت قیمتی ہونے اور خوبصورتی کی اپنی مثال آپ ہے۔ سیّاح دُور دُور سے ان گرجا گھروں کو دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔ بہت ہی بلند اور کڑھائی کیئے ہوئے مینار مصوّروں کی توجہ گرفت کر لیتے ہیں۔ حکومت وقت نے ان گرجوں کی عمارات کو مرمت اور رنگ وروغن کے اعتبار سے اپنی اصل حالت میں رکھا ہوا ہے۔ یہ عمارات دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ قدیم ماہرین نے جدید مشینری نہ ہونے کے باوجود اتنی  فنی مہارت دکھائی کہ یوں لگتا ہے کہ شاید کوئی خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس سے اُس وقت کے مسیحیوں کی قربانی اور خدا سے دلی محبت کا اعلیٰ نمونہ ملتا ہے۔

اُس وقت کی ان کلیسیاؤں نے پاک و ہند میں مشنری بھیجے جنہوں نے ہماری زبان سیکھی اور ہمیں خوشخبری سنائی۔ کئی اسی خاک کے سپر د بھی ہوئے ہیں اور کئی ایسے تھے جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیئے ۔ انہوں نے اپنے لہو کی شمع روشن کی اور ہم تاریکی کی بادشاہی سے باہر نکل کر نو رو اجالے کی بادشاہی میں آگئے ۔ شمع سے شمع جلتی چلی گئی اور یوں تاریکی میں روشنی پھیلنا شروع ہو گئی۔ اُن کے بنے ہوئے گرجا گھر آج بھی پاک و ہند میں موجود ہیں۔ ان میں ڈاکٹرپینل، مارٹن ، ینگسن  ، منٹگمری ، لائل ، ایبٹ، ایڈورڈ، جیکب ، لارنس اور کیمبل جیسے لوگ سر فہرست ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اُن کے دلوں میں کسی قدر مسیحی   ایمان کی شمع روشن تھی۔ موجودہ حکومتوں نے ان کے نام بدل کر ایسے مقامات کے اپنی مرضی سے نام رکھ لیتے ہیں۔ کیمپلیور ، منٹگمری اور لائل پور ان میں سے چند مثالیں ہیں۔

اُس وقت وہ لوگ روحانی اعتبار سے امیر تھے اور ہم غریب تھے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج ان یورپی ممالک میں سے اکثر مسیحی لوگ روحانی اعتبار سے انتہائی مفلس اور نادار ہیں اور ہم پاک و ہند کے مسیحی تھوڑے سے ہونے کے باوجوورُ و حانی اعتبار سے دولت مند ہو گئے ہیں؟ یوں لگتا ہے کہ خداوند یسوع مسیح ان کلیسیاؤں کو وہی بات کہتا ہے جو اُس نے لودیکیہ کی کلیسیاء کو مکاشفہ ۷:۳ میں کہی اور چونکہ تو کہتا ہے کہ میں دولتمند ہوں اور مالدار بن گیا ہوں اور کسی چیز کا محتاج نہیں اور یہ نہیں جانتا کہ تو کمبخت اور خوار اور غریب اور اندھا اور ننگا ہے۔

 آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ جن گرجوں کی میں بات کرتا ہوں وہاں عبادات کیلئے محض چند اور و ہ بھی بوڑھے لوگ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں؟ نو جواں نسل کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔ روایات، رسومات اور بڑی بڑی عمارتیں ہی باقی رہ گئی ہیں پاکستانی کلیسیاؤں میں دوران عبادات اتنے لوگ ہوتے ہیں کہ بعض اوقات لوگوں کو باہر بیٹھنا پڑتا ہے۔ مغربی ممالک میں سے کچھ نے آج سے قریباً  بیس سال قبل بائبل مقدس اسکولوں سے اُٹھالی اور باقی مذاہب کی تعلیم کیساتھ ساتھ مسیحیت کے بارے میں بھی براہ نام تعلیم دی جاتی ہے۔ ہم جنس پرستی ہی نہیں بلکہ ان کے نکاح بھی ان گرجوں میں کیئے جاتے ہیں۔ بائبل مقدس کو ان گرجا گھروں میں براہ نام مقام دیا جاتا ہے۔ ان روایتی کلیسیاؤں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ یورپ میں مسیحیت کی حشمت جاتی رہی ہے۔

 والدین بچوں کو مجبور نہیں کر سکتے ۔ سختی سے سمجھا نہیں سکتے ۔ بچے کو چھڑی سے مار نہیں سکتے یعنی بچے کو سزا نہیں دے سکتے ورنہ جیل میں چلے جائینگے۔ یوں سلیمان کی اس بات کی نفی ہو جاتی ہے کہ بچے کو چھڑی سے باز نہ رکھ۔ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے سب کچھ کمپیوٹرا ئیزڈ ہے۔ آپ کا پیسہ، بیک راؤنڈ ، کیا کرتے ہیں، خاندان غرضیکہ ایک ایک بات کمپیوٹر میں ہے۔ آپ کا پیسہ اور سارا ریکارڈ ایک کارڈ میں ہے جو جہاں جائیں استعمال ہوتا ہے۔ دنیاوی اعتبار سے آپ کے مستقبل کا بہت تحفظ کیا جا رہا ہے لیکن ابدی تحفظ کا نام و نشان تک نہیں ملتا ۔

جہاں یہ حال ہے وہاں کچھ ایسی کلیسیا ئیں بھی موجود ہیں جو بیدار ہیں لیکن یہ روائتی کلیسا ئیں نہیں۔ ان میں پینتی کاسٹل اور بیپٹسٹ کلیسیا ئیں سبقت لے گئی ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مغربی کلیسیاؤں کا ہم مشرقی کلیسیاؤں پر بہت بڑا احسان ہے۔ اگر آج اُن کا یہ حال ہے تو ہمیں ان پر ترس کھانے کی ضرورت ہے۔ لہذا اب ہم مشرقی کلیسیاؤں کو مغربی کلیسیاؤں کا قرض  چُکانے کیلئے یورپ میں منادی کا بوجھ محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ فی الحال تو پاکستانی کلیسیا ئیں اتنی خود کفیل نہیں ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں مغربی کلیسیاؤں کی مدد کرنی چاہئے ۔ ہو سکے تو مشنری بھیجیں اور ان کی مالی طور پر معاونت کریں تا کہ وہ قرض جو ہم پر ہے وہ اتارا جا سکے۔ اُن کیلئے رخنہ میں کھڑے ہوں اُن کیلئے دعا کریں اور اگلے سال کیلئے اس بات کو رویا کے طور پر لیں کہ مغرب کی مدد کرنا ہے۔ پولس اپنے آپ کو یہودیوں اور یونانیوں کا قرضدار سمجھتا تھا۔ ہماری کیا حالت ہے۔

 مغرب کے یہ آزاد خیال لوگ غیرمسیحیوں کو کھلی دعوت دے رہے ہیں کہ وہ ان میں آکر آباد ہوں۔ شام اور عراق اور افریقہ سے بے شمار لوگ اس وقت مغرب کی طرف رُخ کر رہے ہیں۔ مغربی لوگ نہیں جانتے کہ آنے والے کل یورپ کا نقشہ کیا ہو گا۔ چونکہ مغرب میں زیادہ تر لوگ بائبل مقدس سے واقف نہیں اس لیے نہیں جانتے کہ سانپ کی طرح ہوشیار اور کبوتر کی طرح بھولے بھی ہونا ہے۔ خدا نہ کرے کہ سیلاب اُن کے گھروں تک پہنچ جائے ۔ آئیں ہم اس اہم ترین فریضہ میں آگے بڑھیں اور مشنری خدمات کو تیز تر کریں تا کہ خداوند کا نام مغربی ممالک میں بھی جلال پائے۔ خداوند آپ کو برت بخشے (آمین)۔ 

Back to Questions