Home
Questions And Answers

سوال: حضورالمسیح نے کیا تعلیم دی؟

جواب:

 معزز قارئین! آپ کی خدمت میں آداب و تسلیمات عرض کرتے ہوئے حق تعالیٰ کا ممنون ہوں جس نے مجھے یہ اعزاز بخشا کہ اس تحریر کو آپ کے سامنے لانے والا ہو سکا۔ اس کتابچے میں سید نا  یسوع المسیح  کی تعلیمات کا نچوڑ پایا جاتا ہے۔ اگر چہ یہ تعلیمات اور ان کے علاوہ اور بھی بہت سی تفاصیل انجیل شریف میں موجود ہیں لیکن یہ وہ تعلیمات ہیں جن کو مسیحی ایمان کے مطابق پہاڑی وعظ کہا جاتا ہے یعنی وہ خطبہ  جو مسیح ابنِ مریم نے اپنے صحابہ کرام اور بہت سے اور لوگوں کے سامنے دیا کہ میری تعلیم کا نچوڑ  یہ ہے۔

 میں سمجھتا ہوں کہ خدا وندِ کریم نے ہی میرے دل میں یہ آرزو ڈالی کہ ان تعلیمات کو اپنے مسلمان دوستوں کیلئے آسان ترین الفاظ میں اس طور پر ترتیب دوں کہ وہ  سمجھ سکیں کہ سید نا عیسی مسیح کی تعلیم کیا ہے۔ یاد رکھیں کہ یہ واعظ حضرت متی کی معرفت ملہم شد ہ انجیل شریف کے پانچ سے سات ابواب سے لیا گیا ہے۔

واعظ وہی ہے مفہوم بھی وہی ہے لیکن بات کو سمجھانے کی خاطر، قاری کیلئے اس دور کے مطابق آسان الفاظ استعمال کیئے گئے ہیں تا کہ ہر کوئی اس واعظ سے سیکھ پائے کہ سید نا عیسی المسیح کا پیغام امن و سلامتی، بھائی چارے، بے لوث محبت، معافی، میل ملاپ ، برداشت، دکھ سہنے اور صبر پر مبنی تھا۔ اگر آج کی دنیا میں بلا مذہبی  تفریق کے ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوا جائے تو یقینا ہماری دنیا جو اس وقت جہنم کی نظیر ہے وہ جنت کی نظیر ہو سکتی ہے۔

  آپ مزید جاننے کیلئے ہماری ویب سائٹ پر جا کر ہمیں ای میل بھی لکھ سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو آن لائن کورس بھی کر سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ پروردگار عالم ہمیں امن و سلامتی کیلئے اس پیغام کو

اپنانے کا گہرا احساس اور فضل بخشے ( آمین )۔

 سید نا عیسیٰ المسیح کا وعظ

سید نا عیسی  المسیح لوگوں کی بڑی بھیڑ دیکھ کر قریب ہی ایک پہاڑ پر تشریف لے گئے۔ جب آپ تشریف فرما ہوئے تو آپ کے صحابہ کرام بھی آپ کے پاس تشریف لے آئے۔ چنانچہ آپ با آواز بلند انہیں یوں درس دینے لگے۔

 مبارک ہیں  وُہ لوگ

مبارک ہیں  وُہ لوگ جنہیں اس جہان میں کسی چیز کا لالچ نہیں، کیونکہ فردوس بریں ان ہی کیلئے ہے۔

مبارک ہیں ، دُہ لوگ جو میری خاطر اس جہان میں غمزدہ ہوتے ہیں کیونکہ ابدی تسلی بھی وہی پائیں گے۔

مبارک ہیں دہ لوگ جو خاکسار ہیں کیوں کہ زمین پر وہی آبادر ہیں گے۔

مبارک ہیں وہ لوگ جنہیں اس زمین پر راستی کی بھوک و پیاس ہے کیونکہ  وہی سیر کیئے جائیں گے۔

مبارک میں دو لوگ جو اس زمین پر دوسروں پر رحم کرتے ہیں کیونکہ ان پر بھی رحم کیا جائے گا۔

مبارک ہیں وہ لوگ جو اس زمین پر پاک دل ہیں کیونکہ وہی لوگ دیدار الہی حاصل کریں گے۔

مبارک ہیں ، دہ لوگ جو اس دنیا میں دوسروں کی صلح کرواتے ہیں کیونکہ  وہی اللہ تعالیٰ کے محبوب لوگ ہوں گے۔

مبارک ہیں وہ لوگ جو اس زمین پر نیک ہونے کے سبب سے ستائے جاتے ہیں کیونکہ وہی لوگ فردوس بریں میں داخل ہوں گے۔

 سید نا عیسی مسیح نے فرمایا کہ مجھ پر ایمان لانے کے سبب سے جب تمہیں لعن طعن کیا جائے، ستایا جائے اور تمہاری بابت ہر طرح کی بری باتیں ناحق کہی جائیں تو اُس وقت بھی تم مبارک ہو گے۔ ایسے حالات میں تم خوش و شادمان ہونا کیونکہ جنت الفردوس میں تمہیں اس کا بڑا اجر ملے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے تو قدیم انبیاء کرام کو بھی اسی طرح ستایا تھا جیسے تمہیں ستاتے ہیں۔

 نمک و نور کی مانند بننا ہے

تم اس بے مزہ جہان میں نمک کی مانند ہو۔ اگر نمک کا ذائقہ ہی ختم ہو جائے تو وہ پھر کس چیز سے نمکین کیا جائے گا ؟ کسی کام کا نہیں ۔ لہذا اُس کو باہر پھینکا جائے گا اور لوگ اُس کو اپنے پاؤں تلے روندیں گے۔

تم اس بے نور دنیا میں مثل نور ہو۔ پہاڑوں پر آباد شہر سب کو نظر آتے ہیں۔ جیسے اندھیرے میں چراغ جلا کر میز کے نیچے نہیں بلکہ اوپر رکھا جاتا ہے تا کہ سارے خاندان تک روشنی پہنچے ویسے ہی تمہارے کاموں کی روشنی ان لوگوں تک پہنچے جو اندھیرے میں ہیں تا کہ وہ تمہارے نیک اعمال کو دیکھ کر تمہارے رَب ( روحانی باپ ) کی تمجید وحمد ثنا کرنے والے ہوں۔

تورات شریف کا خلاصہ

آپ نے فرمایا کہ میں تو رات شریف اور صحائف الانبیاء کرام کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ ان کی تکمیل کیلئے آیا ہوں۔ میں تم پر اس حقیقت کا انکشاف کرتا ہوں کہ جب تک یہ ارض و سمانا بود نہ ہو جائیں اُس وقت تک ان کتب کا ایک نقطہ بھی خطا نہیں جائے گا یعنی جب تک کہ جو کچھ ان میں لکھا ہے و ہ پورا نہ ہو جائے۔ لہذا اگر کوئی شخص ان کتب میں لکھے ہوئے چھوٹے سے چھوٹے حکم کی بھی نافرمانی کرے اور یہی کچھ دوسروں کو سکھائے تو جنت الفردوس میں نہایت ہی کم درجہ پائے گا اور جو شخص ان پر عمل کرے گا اور ان ہی کی تبلیغ کرے گاؤہ جنت الفردوس میں بڑا مقام پائے گا۔ اگر تمہاری ریاضت اور پاکیزگی ان یہودی مذہبی علماء سے بڑھ کر نہ ہوئی تو تم جنت الفردوس میں قطعی طور پر داخل نہ ہو پاؤ گے۔

قتل ، غصہ اور صلح سے متعلق تعلیم

شریعت موسوی کے مطابق کہا گیا تھا کہ تم خون نہ کرنا کیونکہ خون کرنے والا عدالت کے فیصلے کے مطابق سزا پائے گا۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ اپنے بھائی پر غصہ کرنے والا بھی عدالت کے فیصلہ کے مطابق سزا پائے گا اور جو کوئی اپنے بھائی کو پاگل کہے گا وُہ بھی عدالت کے فیصلہ کے مطابق سزا پائے گا اور جو اپنے بھائی کو احمق کہے گاوہ جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔ پس اگر تو عبادت کرنے کیلئے کھڑا ہوتا ہے اور وہاں تجھے یاد آ جائے کہ میرا بھائی مجھ سے ناراض ہے تو پہلے جا کر اپنے بھائی کو راضی کر اور پھر آ کر عبادت کر۔قبل اس کے کہ بات عدالت تک پہنچے ۔ جس کو تجھ سے شکایت ہے اس سے صلح کرلے۔ ایسانہ ہو کہ شکایت کرنے والا تجھے عدالت تک پہنچا دے اور پھرمنصف  تمہیں پولیس کے حوالہ کر دے اور یوں تجھے قید خانہ میں ڈال دیا جائے۔ میں تمہیں بڑے یقین سے کہتا ہوں کہ وہاں تجھے ہر چھوٹی سے چھوٹی بات یا چیز کا بھی حساب دینا پڑے گا۔

طلاق  سے متعلق  تعلیم

موسوی شریعت کے مطابق یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو چھوڑتا ہے تو اُسے طلاق نامہ لکھ دے۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑتا ہے تو وُ  ہ اُس سے زنا کراتا ہے اور اگر کوئی اُس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرتا ہے تو وہ بھی زنا کرتا ہے۔

 موسوی شریعت کے مطابق کہا گیا تھا کہ تم جھوٹی قسم نہ کھانا بلکہ اپنی  قسمیں خداوند خدا کے حضور پوری کرنا۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ بالکل بھی قسم نہیں کھانا۔ نہ تو آسمان کی قسم کھانا کیونکہ وہ حق تعالیٰ کا تخت ہے اور نہ ہی زمین کی قسم کیونکہ یہ اس کے پاؤں کے  رکھنے  کی جگہ ہے۔ نہ ہی شہر یر و شلیم کی قسم کھانا کیونکہ وہ بزرگ حضرت داؤد بادشاہ کا شہر ہے۔ تم اپنے سر کی بھی قسم نہ کھانا کیونکہ تم ایک بال کو بھی ہمیشہ کیلئے سفید یا کالا نہیں کر سکتے ۔ پس تمہیں ہاں کی جگہ ہاں ہی کہنا ہے اور نہ کی جگہ نہ ہی کہنا ہے کیونکہ اس کے علاوہ سب گناہ ہے۔


انتقام مت لو

موسوی شریعت کے مطابق کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کے ذریعہ بدلہ لینا۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہیں کرنا بلکہ جو کوئی تمہارے چہرے پر دائیں طرف طمانچہ مارے تو تم بائیں طرف بھی اُس کی طرف پھیر دینا اور اگر کوئی زیادتی کر کے تمہاری  قمیض  لینا چاہے تو اُسے کوٹ بھی لینے دینا۔ اگر کوئی بغیر اجرت کے تمہیں ایک میل لے جائے تو دو میل بھی چلے جانا، کوئی بات نہیں۔ اگر کوئی تم سے مانگے تو اُسے دینا اور اگر کوئی پیسے مانگے تو دینے سے انکار نہیں کرنا۔


 دشمن سے محبت کرو

موسوی شریعت کے مطابق کہا گیا تھا کہ اَپنے پڑوی سے محبت اور اپنے دشمن سے عداوت رکھو۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ اَپنے دشمنوں سے محبت اور اپنے ستانے والوں کیلئے دست دُعا بلند کرو تا کہ تم اپنے پروردگار عالم (روحانی باپ) کے محبوب لوگ ( روحانی فرزند ) ٹھہرو۔ کیونکہ وہ اپنا سورج نیکوں اور بدوں دونوں پر چمکاتا ہے اور راستبازوں اور ناراستوں دونوں پر بارش برساتا ہے۔ اگر تم ان ہی سے محبت رکھو جو تم سے رکھتے ہیں تو کونسا بڑا کام کرتے ہو کیونکہ دنیا دار لوگ بھی تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ اگر تم اپنے  چاہنے والوں کو ہی سلام کرتے ہو تو کونسا بڑا کام کرتے ہوا کیا منافقین بھی ایسا ہی نہیں کرتے ؟ پس تمہیں پروردگار عالم (روحانی باپ )کی مانند دوسروں کو دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ کامل ہے۔

 خیرات دینے کا طریقہ

میں تمہیں خبر دار کرتا ہوں کہ اپنے نیکی کے کام دوسروں کو دکھانے کیلئے قطعا ًنہیں کرنا کیونکہ ایسا کرنے سے تمہارے رَب ( روحانی باپ ) کی طرف سے تمہارے لیے کچھ اجر نہیں ہوگا۔ لہذا جب تم خیرات کرو یا سخاوت کرو تو اشتہار لگانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایسے کام تو وُ ہ لوگ کرتے ہیں جو سب کچھ دکھاوے کیلئے عبادت گاہوں اور گلیوں کے کونوں پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں کہ لوگ ان کی تعریف کریں

  تم کیسے روزہ دار ہو؟

اور جب تم روزہ رکھو تو دکھاوے کیلئے منہ نہیں بنانا یا اپنی صورت اُداس نہ بنانا جیسا بعض لوگ کرتے ہیں کہ لوگ انہیں روزہ دار جائیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر لوگ ان کیلئے واہ واہ کرتے ہیں تو یہی اُن کیلئے اجر ہے، آسمان والے کی طرف سے نہیں ہے۔ بلکہ جب تم روزہ رکھو تو نہاؤ ، دھو اور تازہ دَم رہوتا کہ انسان نہیں بلکہ تمہارا رَب ( آسمانی وروحانی باپ جو دیکھ رہا ہے تمہیں روزہ دار جانے اور تمہیں اس کا اجر بھی بخشے۔

 آسمان پر خزانہ جمع کرو

اس فانی جہان میں اپنی دولت اور مال و متاع جمع نہ کرو کیونکہ یہاں ڈا کے پڑتے اور چرا لیا جاتا ہے بلکہ اپنا خزانہ آسمان پر جمع کرو جہاں نہ ڈاکہ پڑتا ہے اور نہ ہی چُرایا جا سکتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جہاں تیرا خزانہ ہوگا وہاں ہی تیرا دل بھی لگا ر ہے گا۔


بدن کا چراغ

تمہارے بدن کا چراغ تمہاری آنکھ ہے۔ اگر تیری آنکھ درست ہو تو تیرا سارا بدن روشن ہوگا اور اگر تیری آنکھ ہی خراب ہو تو تیرا سارا بدن تاریک ہوگا ۔ پس اگر و ہ روشنی جو تم میں ہے ختم ہو جائے تو پھر تاریکی کتنی زیادہ ہوگی !۔

 رب العزت یا دنیا داری

کوئی بھی شخص ایک ہی وقت میں دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک کا حکم مانے گا اور دوسرے کی حکم عدولی کرے گا یا ایک سے محبت کرے گا اور دوسرے کو نا چیز جانے گا ۔ اسی طرح تم خداوند کریم اور دنیا داری دونوں کو عزیز نہیں رکھ سکتے۔


یہی سبب ہے کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کے بارے میں فکر مت کرنا کہ کیا کھائیں گے یا کیا پہنیں گے۔ تمہاری جان کی تمہاری خوراک کی نسبت کہیں زیادہ قدر و قیمت ہے اور اسی طرح تمہارا بدن تمہارے لباس سے کہیں زیادہ بڑھ کر قد رو قیمت رکھتا ہے۔

 پرندوں پر نگاہ کرو کیونکہ وہ بوتے بھی نہیں اور کاٹتے بھی نہیں اور نہ ہی گوداموں میں جمع کرتے ہیں تو بھی رزاق ( تمہارا آسمانی اور روحانی باپ ) ان کا رزاق انہیں بہم پہنچاتا ہے۔ کیا تمہاری قدر و قیمت پرندوں سے زیادہ نہیں؟ کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو فکر کر کے اپنی عمر میں ایک گھڑی کا بھی اضافہ کر سکے؟۔

 تم کیوں فکر کرتے ہو کہ کیا پہنیں گے؟ جنگل کے درختوں کو نہیں دیکھتے جو کا شتکاری نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں ؟۔ میں تمہیں حقیقت بتاتا ہوں کہ حضرت سلیمان کی بہت بڑی شان و شوکت تھی تو بھی  وُہ  ان درختوں کی طرح ملبوس نہیں تھے۔ پس اگر پروردگار ان وادیوں کی موسمی گھاس کا جو آج ہے اور کل آگ میں جلائی جائے گی اتنا خیال رکھتا ہے تو اے کم اعتقاد و ا!تمہارا خیال کیوں نہیں رکھے گا؟ ۔

 لہذا فکر مند ہو کر یہ نہ کہو کہ  کیا کھا ئیں گے یا کیا پیئں گے یا کیا پہنیں گے؟ کیونکہ ان سب چیزوں کی تلاش میں تو بے دین اور منافق لوگ رہتے ہیں اور تمہارا پالنے والا ( آسمانی وروحانی باپ ) جانتا ہے کہ تم کون کونسی چیزوں کے محتاج ہو۔ جب تم سب سے پہلے پروردگار عالم کی بادشاہی کی تلاش کرو اور اس کی مرضی کو پورا کرو گے تو یہ سب کچھ تمہیں خود ہی مل جائے گا۔ پس تم یہ فکر نہ کرو کہ کل کیا ہو گا کیونکہ کل اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اور وہ خود ہی انتظام کرلے گا۔ تم بس آج ہی کے بارے میں فکر کرو کہ کیا کرنا ہے۔


عیب جوئی نہ کرو

اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری عیب جوئی نہ ہو تو تم بھی دوسروں کی عیب جوئی نہ کرو کیونکہ جس طرح تم عیب جوئی کرتے ہو اسی طرح تمہاری بھی عیب جوئی کی جائے گی۔ جس پیمانہ سے تم دوسروں کیلئے ناپتے ہو اُسی سے تم بھی ناپے جاؤ گے۔ ایسا کیوں کرتے ہو کہ اپنے بھائی کی آنکھ میں پڑا  تنکا تمہیں نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر تمہیں نظر نہیں آتا؟ اور جب تمہاری اپنی ہی آنکھ میں شہتیر ہے تو تم اپنے بھائی سے یہ کیوں کر کہہ سکتے ہو کہ آتیری آنکھ سے تنکا نکال دوں ؟ ارے منافق ! پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتیر نکال ، پھر اپنے بھائی کی آنکھ میں سےتنکے کو اچھی طرح دیکھ کر نکال پائے گا۔ جس چیز کی کسی دوسرے کے پاس قدر نہیں اُسے وہ چیز مت دو کیونکہ وُہ لے بھی لے گا اور تمہاری بابت ناحق باتیں بھی کرتا رہے گا۔


مانگنا ہے تو اپنے رب سے مانگو۔ ڈھونڈو تو تمہیں مل جائے گا۔ کھٹکھٹانے سے تمہارے واسطے دروازہ کھل جائے گا۔ کیونکہ مانگنے والے کو مل جاتا ہے، ڈھونڈنے والا پاہی لیتا ہے اور کھٹکھٹانے والے کیلئے دروازہ کھول ہی دیا جاتا ہے۔ کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے کہ اگر اس کا بیٹا اُس سے روٹی مانگے تو اُس کے بدلے اسے  پتھر دے؟ یا اگر مچھلی کی تمنا کرے تو اُس کے آگے سانپ رکھے؟ پس جب تم بُرے ہو کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو تمہارا رَب ( آسمانی و روحانی باپ ) جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزیں کیوں نہ دے گا ؟۔ پس جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں ، تم بھی اُن کے ساتھ کرو کیونکہ

تو رات شریف اور صحائف الانبیاء کی بھی یہی تعلیم ہے۔

 تنگ دروازہ سے گزرو، کشادہ سے نہیں

تنگ دروازہ سے داخل ہو کیونکہ وہ دروازہ چوڑا ہے اور ہمیشہ کی زندگی و فردوس کی طرف جاتا ہے اور اُس سے داخل ہونے والے تھوڑے ہیں کیونکہ وہ تنگ اور سکڑ ا ہوا ہے اور وُہ استہ جو جہنم کی طرف جاتا ہے، وُہ

کشادہ ہے اور اُس سے داخل ہونے والے بہت ہیں۔

درخت اور اُس کا پھل

جھوٹے نبیوں سے خبر دار ہو جو تمہارے پاس بھیٹروں کے رُوپ میں آتے ہیں لیکن اصل میں وُہ پھاڑنے والے بھیڑیے ہوتے ہیں۔ تم ان کے پھلوں یعنی کاموں سے انہیں پہچان لو گے۔ کیا کبھی جھاڑیوں سے انگور یا اونٹ کٹاروں سے انجیر توڑے گئے ؟ ہر گز نہیں ! اسی طرح ہر ایک اچھا  درخت اچھا پھل اور برادرخت  بُرا پھل دیتا ہے۔ اچھا درخت  بُرا پھل نہیں دے سکتا اور نہ ہی  بُرے درخت سے اچھے پھل کی توقع کر سکتے ہیں۔ جو درخت اچھا پھل نہیں دیتا دہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔ پس تم اُن کے پھلوں سے ہی انہیں پہچان لو گے۔

 میں تمہیں نہیں جانتا

سید نا عیسی المسیح نے فرمایا کہ جو مجھے ہر وقت اے خدا وند، اے خُداوند کہتے ہیں اُن میں سے ہر کوئی جنت الفردوس میں داخل نہیں ہو گا۔ جنت الفردوس میں صرف وہی داخل ہوں گے جو پروردگار (یعنی میرے روحانی اور آسمانی باپ )کی مرضی پر چلتے ہیں۔ روز محشر کو بہت سے لوگ مجھ سے کہیں گے کہ اے خداوند! اے خداوند! کیا ہم نے آپ کے نام سے  نبوت نہیں کی اور آپ کے نام سے جن نہیں نکالے اور آپ کے نام سے معجزات نہیں کیئے ؟ اُس روز میں اُن سے صاف کہہ دوں گا کہ میں تو تمہیں جانتا تک نہیں ۔ تم گنہگار ہو اور میرے سامنے سے چلے جاؤ۔

 کون سا گھر آپ کا ہے

پس جو کوئی میرا کلام سنتا اور اُس پر عمل کرتا ہے وہ اُس عقل مند آدمی کی مانند ٹھہرے گا جس نے اپنا گھر مضبوط چٹان پر تعمیر کیا ہے۔ بارش ہوئی، آندھیاں چلیں اور طوفان آئے اور اُس گھر لیکن سے ٹکرانے لگے لیکن اِسے کُچھ ضرر نہ پہنچا کیونکہ اُس کی بنیاد چٹان پر ڈالی گئی تھی۔جو کوئی میرا کلام سن کر اس پر عمل نہیں کرتا وُہ اس احمق آدمی کی مانند ہے جس نے اپنا گھر ریت پر تعمیر کی

Back to Questions