Home
Questions And Answers

سوال: کیا خُداوند یسوع مسیح کا کلیسیاء سے کوئی شکوہ ہے؟

جواب:

کیا خداوند یسوع مسیح کا کلیسیاء سے کوئی شکوہ ہے؟

میں نے کب کہا کہ تم میڈ فرائیڈے، ایسٹر اور کرسمس منانا ؟ میں نے کب کہا کہ کالے کپڑے پہننا اور ماتم کرتا ؟۔ میں نے کب کہا کہ گرجوں کے بغیر عبادت نہیں ہوتی ؟ میں نے کب کہا تم پر اتنے روزے فرض ہیں؟ میں نے کب کہا کہ  گُڈ فرائیڈے  کو لوگوں کو تین سے چار گھنٹے تک لوگوں کو ہلنے نہیں دینا اور سات کلمات پر ضرور بولنا خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے۔ کیا میرے رسولوں نے ایسا کیا ؟ کیا ابتدائی صدی عیسوی میں ایسا ہوا؟ تُم گفٹ کو باہر پھینک کر ڈبے سے کیوں کھیلتے ہو؟

میں نے تمہارے لیئے اس لیئے جان دی کہ تم میری پیروی کرو لیکن ان باتوں میں میری پیروی کہاں نظر آتی ہے؟ میں نے کہا کہ جاؤ اور سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور تم چرچ اور چار دیواری میں شور کرتے رہتے ہو۔ میں نے کہا کہ تم ایک دوسرے سے محبت رکھو جیسی میں نے تم سے کی ۔لیکن تم ایک دوسرے کی جڑیں کاٹتے ہو۔ میں نے کہا کہ تم ظاہر کو نہیں باطن کو تبدیل کرو لیکن تم ابھی تک رکابی کو باہر سے ہی دھو

ر ہے ہو۔ اگر ایسا ہی تھا تو کیا فریسی ، صدوقی ، ہیرودی اور  فقیہی کافی نہیں تھے ؟ غریب بستر علالت میں مر جاتا ہے اور خبر تک نہیں لیتے اور امیر کو چھینک بھی آجائے تو تمہاری نیند یں حرام ہو جاتی ہیں۔ یہ کیا ہے؟ میرا نام ’’ یہو شواع ‘‘ہے جو بدل دیا گیا۔ میرے باپ کا نام ’’یہواہ‘‘ہے جو بدل دیا گیا ۔  ’’یاور کھ کہ تم سبت کا دن پاک ماننا " بدل دیا گیا۔ تم اُونٹ کو نگل جاؤ تو تم میں کوئی پرواہ نہیں لیکن اگر میرے کسی ممسوح سے کوئی غلطی ہو جائے تو تم اس کو نوشتہ دیوار بنا لیتے ہو۔

یہ تو بتاؤ کہ تمہاری راستبازی فریسیوں اور فقہا سے بڑھ کر کب ہو گی ؟ کب غیر قوموں تک خوشخبری پہنچے گے ؟ تم کب اپنی چار دیواری سے باہر آؤ گے؟ گرجوں کی سیاست کا گلا کب گھونٹو گے ؟ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کے بجائے کب گرے ہوؤں کو اٹھا گے؟ کب خاکسار بن کر تو بہ کرو گے اور اپنی گندی روشوں سے کب  باز آؤ گے؟ تم میں بہت سے ایسے ہیں جن کو میں نے بلایا بھی نہیں لیکن صدارت کی کرسیاں سنبھال لیتے ہو۔ میں نے تمہیں کوئی مذہب نہیں دیا بلکہ رشتہ دیا ہے، حق دیا ہے، مقام دیا ہے اور آزاد کیا ہے۔ مگر تم آج بھی مذہب، رسومات اور ملبوسات کی غلامی میں گرفتار ہو۔

میرا نام کیش کر کے دکانیں چمکانے والو میں لوہے کے عصا کیسا تھ راج کرنے کیلئے بہت جلد آرہا ہوں۔ وقت کو غنیمت جان لو، تو بہ کرلو، میری طرف رجوع لاؤ اور قوموں، قبیلوں اور امتوں کو آسمان پر دیکھنے کیلئے انہیں خوشخبری سناؤ۔ میں نے تمہاری برکت کو روک دیا ہے جب ہجوم آپ کی تعلیمات سن کر حیران رہ گیا کیونکہ آپ اُن کے علماء کی طرح نہیں بلکہ صاحب اختیار کی طرح تعلیم دیتے تھے۔ آمین 

Back to Questions